طلبا کی بے بسی

(Ayesha afreen, karachi)

استاد جنہیں اسلام میں روحانی ماں باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن آج کے دور میں کچھ اسا تذہ ایسے بھی ہیں جو اس لفظ کے تقدس کو پامال کرتے نظر آ تے ہیں۔ اور اپنے طالب علموں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔ انہیں استاد جیسے عظیم منصب پر فائذ کیا گیا ہے جس کا وہ ناجائذ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایسی ہی ایک ٹیچر الماس جو کہ گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج بفر ذون میں فرسٹ ائیر کے طالب علموں کو کمپیوٹر سائنس کی تعلیم دیتی ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ اپنے طلباۀ کو تعلیم دینے کے بجائے انہیں پڑھائ سے بد دل کرتی ہیں۔ وہ اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام نہیں دے پا رہیں جس کی وجہ یہ ہے کو گورنمنٹ کی ملاذم ہونے کے باوجود وہ کسی پرائیوٹ ادارے میں بھی ملاذمت کرتی ہیں۔جہاں کے طالب علموں پہ وہ ذیادہ توجہ دیتی ہیں۔کیونکہ اگر اس ادارے میں ان کی کارکردگی اچھی نہ ہو تو انہیں اس ادارے سے بر طرف کر دیا جائے گا۔لیکن گورنمنٹ اداروں میں ٹیچرز سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے والا کوئ نہیں ہے۔جس کی وجہ سے انہیں من مانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔تعلیمی سال کے دوران بھی مس الماس اکثروبیشتر کالج سے غائب رہتی ہیں اور اگر کبھی اگر کلاس لینے کیلئے موجود بھی ہوں تو 5منٹ سے ذیادہ نہیں رکتیں۔اور نہ ہی اسٹوڈنٹس مضمون سے متعلق کوئی مسلہ ان کے پاس لے جا سکتے ہیں۔الماس صاحبہ کافی دن سے کالج میں موجود نہیں تھیں جس کی وجہ سے اسٹوڈنٹس اپنی کمپیوٹر فائل جمع نہیں کرا سکے۔ کئ دن انتظار کے بعد جب گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج بفرذون کے اسٹاف سے ان ٹیچر کے بارے میں پوچھا گیا تو ان ٹیچر سے بات کرنے کے بجائے وہ پوچھنے والوں کے ساتھ ہی بد تمیزی پر اتر آ یا اور اسٹوڈنٹس کی محنت سے بنائی ہوئ فائل جمع کرنے سے انکار کر دیا۔اور کہا گیا کہ کمپیوٹر سائنس کی ٹیچر مس الماس چونکہ دوسرے پرائیوٹ ادارے میں پڑھاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کئی دن پہلے ہی چھٹی لے کر جا چکی ہیں ۔ اور اب طالب علموں کی کمپیوٹر فائلز جمع نہں کی جا سکتیں۔میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ سے درخواست کرتی ہوں کہ جلد از جلد اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور مس الماس کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ٹیچر اسٹوڈنٹس کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگائے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha afreen

Read More Articles by Ayesha afreen: 4 Articles with 1052 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2019 Views: 292

Comments

آپ کی رائے