کیا حوا کی بیٹی محفوظ ہے؟

(Maryam Abbas, Karachi)

 کیا حوا کی بیٹی محفوظ ہے؟ کیا میرے ملک میں حوا کی بیٹی محفوظ ہے؟ کیا میرے شہر کے گلی کوچوں میں حوا کی بیٹی محفوظ ہے؟ کیا میرے اس ملک میں جس کی بنیاد اسلام پر رکھی گئ ہے اس اسلامی ملک میں حوا کی بیٹی محفوظ ہے؟ تو جواب یہی ملے گا کہ نہیں حوا کی بیٹی غیر محفوظ ہے۔ اس معاشرے میں حوا کی بیٹی غیر محفوظ ہے۔ جب بھی ہم گھر سے نکلتے ہیں چایے وہ ہم اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لیے نکلیں، اور چاہے ہم اپنی نوکری کی تلاش میں نکلیں یا گویا کسی بھی کام کے سلسلے میں گھر سے قدم نکالیں تو ہمارے ماں باپ کو ہمیشہ ہماری فکر و پریشانی رہتی ہے اور انکا پہلا کہنا یہی ہوتا یے کہ"بیٹا یہ غیر محفوظ ہے!" دیر رات تک باہر رہنا غیر محفوظ ہے۔ یہ معاشرہ رات تو رات دن میں بھی حوا کی بیٹی کے لیے غیر محفوظ ہے۔

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی عورت کتنی آزاد خیالات کی ہے، یا پردے میں رہنے والی ہے، اس کی کیا عمر ہے پر اگر فرق پڑتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ اس معاشرے میں غیر محفوظ ہے۔اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دنیا کے 153 ممالک میں سے پاکستان دنیا کا چوہتا ہے جو خواتین کے لیے غیر محفوظ ہے۔

لڑکیوں کو ہراساں صرف گاؤں کے علاقوں میں نہیں بلکہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اور آج کی تاریخ میں بھی یہ معاملات جاری ہیں۔ میں خود پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رہتی ہوں۔ کراچی میں رہنے والی زیادہ تر لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے تعلیمی اداروں تک پبلک ٹرانسپورٹ میں جاتی ہیں۔ اور بسوں اور چنچیوں میں صفر کے دوران ان لڑکیوں کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا یے اسکا اندازہ آپ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ میں خود ایک طالبہ ہوں تو میں ان سارے حالات کا سامنا کرچکی ہوں۔ سب سے پہلی مشکل تو بس اسٹاپ پر ہی آتی یے جب بھی کوئی لڑکی اسٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، چاہے وہ خوبصورت ہو یا قبول صورت ہمارے معاشرے میں موجود کچھ آدمی اسکو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے اسے کھا ہی جائیں گے۔ اور کچھ منچلے تو آوازیں کستے، آنکھ مارتے اور بیہودہ گانے گاتے بھی گزرتے ہیں اور جب اللہ اللہ کرتے بس آتی ہے تو بس کے بھی کچھ ایسے ہی مناظر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آپکو معلوم ہے کہ بس میں دو کمپارٹمنٹز ہوتے ہیںایک خواتین کے لیے اور ایک مرد حضرات کے لیے تو اکثر مرد حضرات خواتین کے حصے میں سے ہو تے ہوئے اپنے اسٹاپ پر اترتے ہیں جس میں وہ عورتوں سے ٹکراتے ہوئے اور انکو چھوتے ہوئے گزرتے ہیں۔ کچھ خواتین تو بلا جھجک سنا دیتی ہیں اور کچھ بیچاری اپنی عزت کی وجہ سے ان کی بدتمیزی کو سہ جاتی ہیں۔ اور نہ صر بس اور بس اسٹاپ پر بلکہ ہر جگہ کا یہی حال ہے سڑکیں ہوں یا بازار یا کہیں بھی عورتیں غیر محفوظ ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں کچھ بھی ہو جائے آسمان زمین ایک ہو جائے پر غلط صرف لڑکی کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی لڑکی کو ہراساں کیا گیا ہے تو سب سے پہلے یہی بولا جاتا کہ لڑکی کی غلطی ہے، اگر اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تو یہ بولا جاتا ہے کہ لڑکی نے ایسا کچھ کیا ہوگا نہ جبھی لڑکے کی اتنی ہمت ہوئی، اگر اسکو ظلم کا شکار بنایا جائے اس پر بے جا تشدت کیا جائے تب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ لڑکی کی ہی غلطی ہے۔ اور یہ وہ باتیں ہیں جو عام طور پر ہر لڑکی نے اپنی زندگی میں ایک بار تو ضرور سنی ہوں گی۔ غیرت کے نام پر قتل اور نہ جانے کیا کیا ظلم کیے جاتے ہیں۔اور اگر کوئی لڑکی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسکو کہا جاتا ہے کہ نہیں نہیں چپ رہو لوگ کیا کہیں گے فضول کی دشمنی نہ لو اگر اس نے اور کچھ غلط کر دیا تو کیوں بدنامی کا داغ لگوانا چاہتی ہو۔

بیچاری لڑکیاں کریں تو آخر کریں کیا جائیں تو آخر جائیں کہاں۔ زیادہ تر خواتین تو اپنی عزت کی خاطر کسی طرح کی شکایت درج نہیں کراتیں اور جو چند خواتین شکایات دزج کراتی ہیں تو کوئی کانونی کاروائی کی ہی نہیں جاتی ہے۔ میں اپنی اور ان تمام لڑکیوں کی ایک آواز بن کر کہنا چاہتی ہوں کہ آخر کب تک خواتین یہ ظلم سہتی رہیں گی، اور آخر کب تک عورتوں کو خاموش کرا یا جاتا رہے گا، آخر کب تک اسی طرح حوا کی بیٹی کو ظلم اور زیادتی کا شکار بنایا جاتا رہے گا اور کب تک ان سارے ظلموں کے خلاف آواز اٹھانے سے حوا کی بیٹی کو روکا جائے گا۔ ہم جس طرح کے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں اس معاشرے میں کبھی مرد کو غلط نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی مرد غلط کام کرتا ہے تو اس کو کوئی برائی نہیں سمجھتا۔ اور اکثر لوگ تو کچھ یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ تو لڑکا ہے اسکا کیا جائے گا۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ جتنی عزت عورت کی ہوتی ہے اتنی ہی عزت مرد کی بھی ہوتی ہے اسی طرح کسی بھی لڑکی کو ہراساں کیا جاتا ہے تو اس میں جتنی بدنامی کسی لڑکی کی ہوتی اتنی ہی بدنامی لڑکے کی بھی ہوگی۔ مگر ہمارے معاشرے کے کچھ افراد اس بات کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں۔

اور ایک بدلاو ء جو ہمیں خود میں لانا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہماری طرف بری نظر سے دیکھے یا ہم کو چھیڑے تو ہمیں کسی سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں اسکو جواب دینا ہے۔اور کچھ ہمارے معاشرے کی خواتین کو بھی اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی لڑکی اپنے ماں باپ کا ساتھ دینے کے لیے یا پھر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اگر کام کرتی ہے اور گھر سے اس لیے دیر رات تک باہر رہتی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ آوارہ یا بدکردار ہیں اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ما باپ کا سہارا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Abbas

Read More Articles by Maryam Abbas: 3 Articles with 1290 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2019 Views: 319

Comments

آپ کی رائے