وجودِ زن

(Ammar Asif Baig, )

کوئی مہینہ بھر قبل سوشل میڈیا پر عورت کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی ’’وومن واک‘‘ کے کچھ مناظر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ وومن واک سماج کے کئی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنی رہی،جس کا سبب وہ پلے کارڈز اور پوسٹرز تھے جو واک میں شریک خواتین نے اٹھا رکھے تھے۔ ’’آزادی‘‘ کی خواہشمند یہ خواتین جن نعروں کا استعمال کرتی ہوئی نظر آئیں ، عام آدمی کاوہ دیکھتے ہی سر شرم سے جھک جائے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ذہنی نا پختگی کا یہ عالم ہے کہ مساوی حقو ق کی خواہشمند ان مٹھی بھر خواتین نے کہیں بھی ذمہ داریوں کے حوالے سے برابری کی بات نہیں کی۔ یہ مٹھی بھر شرکاء وطنِ عزیز کی کروڑوں خواتین کی قطعاََ نمائندگی نہیں کرتی۔ ’’حوا کی بیٹی‘‘ در اصل مرد کی برابری بھی کرتی ہے اور اپنی ثقافت، اخلاقیات اور اقدار کو بھی نہیں بھولتی۔ خیر میں اس بحث سے بچ کر اصل بات کی طرف آنا چاہوں گا تا کہ قارئین کا وقت برباد نہ ہو۔

کوئی ڈیڑھ سال قبل کی بات ہے میں ان دنوں چوتھے سیمیسٹر میں تھا۔ ماس کمیونیکش کا طالب ہونے کے باعث ایک آن لائن اخبار میں انٹرنشپ کر رہا تھا جس کا دفتر G-9 اسلام آباد میں واقع تھا۔ سردیوں کے دن تھے چنانچہ کام سے فارغ ہو کر قریب ہی بازار میں چہل قدمی کر لیا کرتا تھا اور ساتھ میں طبیعت کے مطابق کھانا پینا بھی جاری رہتا تھا۔یونہی ایک دن اخبار کے دفتر کے عقب میں واقع ایک ریستوران میں جانے کا اتفاق ہوا۔ "Duck Faster" نام کا یہ ریستوران مجھے داخل ہوتے ہی صفائی ستھرائی کے حوالے سے کافی بہتر لگا۔ یہ میرا اولین مشاہدہ تھا۔ کھانے کے میز پر بیٹھتے ہی سامنے نظر دوڑائی تو کاؤنٹر کے اس پار ایک خاتون اور صاحب پر نظر پڑی جن کی عمریں تقریباََ چالیس کے پیٹے میں ہونگی۔ کچھ ہی لمحوں بعد مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ غالباََ میاں بیوی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہاں ’’صنفی کردار‘‘ (Gender roles) اتنے واضح ہوں، ایسا شاز و نادرہی دیکھنے میں آتا ہے۔ خیر مینیو پر نظر دوڑائی اور ایک عدد برگر اور بریانی کا آرڈر دیا۔ نرخ بھی مناسب تھے۔ کچھ دیر بعد ویٹر مطلوبہ چیزیں لے آیا۔ پہلا ہی لقمہ لینے کے بعد جی خوش ہو گیا۔ برگر انتہائی لذیز تھا۔ مناسب ریٹ میں مقدار اور ذائقہ دونوں چیزیں پا کر حیرانی بھی تھی اور خوشی بھی۔ اسی دوران گاہک بھی آتے رہے اور وقفے وقفے سے میری نظر کاؤنٹر کے اس پار جاتی رہی۔ دونوں میاں بیوی کو آپس میں اور عملے سے گفتگو کرتے پایا، اور دونوں کی چہروں کو بشاش اور پر اعتماد پایا۔ جڑواں شہروں میں اس عرصے میں اس طرز کا میں نے یہ پہلا ریستوران دیکھا تھا، اور کافی دیر تک میں اسی بارے میں سوچتا رہا ۔

وہاں انٹرنشپ کا دورانیہ کافی مختصر رہا مگر پھربھی اس دوران کافی دفعہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ دوسری بار جب میں وہاں گیا تو چپس کچھ ٹھیک نہیں تھے، انکل سے اس کی شکایت کی تو انہوں نے نہایت شفقت سے معذرت کی اور میرے اقرار کے باوجود بل میں سے چپس کے پیسے کاٹ لیے۔ میرا تجربہ وہاں کافی اچھا رہا۔ جب بھی جانے کا اتفاق ہوا، دونوں میاں بیوی کو شانہ بشانہ کام کرتے دیکھا ۔ کبھی انکل کو برگر بناتے دیکھا تو کبھی آنٹی کو کاؤنٹر پر گاہکوں کے ساتھ مصروف دیکھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس، سر پر دوپٹہ اور پر اعتماد چہرہ۔۔۔یہ تھیں وہ خاتون۔ ایک دن وہیں بیٹھا ہوا تھا تو باہر گاڑی آ کر رکی۔ کچھ دیر بعد وہی خاتوں اپنے بچوں کے ساتھ داخل ہوئیں جنہوں نے سکول یونیفارم پہن رکھے تھے۔ وہ غالباََ سکول سے بچوں کو لے کر آ رہی تھیں۔

انٹرنشپ ختم ہونے کے بعد بھی وہاں چکر لگتا رہا۔ دوستوں کو قائل کر کے ساتھ لے کر جاتا اور ہر ایک نے ذائقہ کی تعریف کی ۔ دوست عموماََ راضی نہیں ہوتے تھے، ان کا موقف ہوتا تھا کہ محض کھانے کے لئے اتنی دور کیوں جایا جائے، مگر میں انہیں قائل کر لیتا تھا۔ عورت مارچ کے کچھ ہی دن بعد میرا وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ میرا ایک جگہ انٹرویو تھا، واپسی پر مجھے یکدم ـ"Duck Faster" کی یاد آ گئی کیونکہ کافی وقت گزر گیا تھا اور دل بے تاب تھا اپنا من پسند برگر کھانے کو۔ چنانچہ دوست کے ساتھ سیدھا وہاں پہنچا۔انکل اورٓ انٹی نے پہچان بھی لیا، پھر دوست نے بھی بتایا کہ یہ سب کو پکڑ پکڑ کر یہاں لاتا ہے اور آپ کے برگر کھلاتا ہے۔ دونوں کے چہرے کھِل اٹھے ۔ جب میں بل دینے کاؤنٹر پر گیا تو انکل کہنے لگے کہ آپ ہماری بہت اچھی "Advertising" کر رہے ہو، اب آپ جب بھی آئیں گے تو آپ سے ہم کھانے کے پیسے وصول نہیں کریں گے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر ذہن میں تازہ تھیں۔ایک طرف ’’عورت مارچ‘‘ والی خواتین تھیں اور دوسری جانب یہ خاتون۔۔۔ ان خاتون پر مجھے رشک آنے لگا۔ہمارے معاشرے کے صنفی کردار جو کہ ایک عورت کو محض چار دیواری کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور مرد کو باہر کام کرتا ہوا، یہ خاتون اپنے عمل سے کس عمدہ طریقے سے ان کی نفی کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی اپنی روایات اور اقدار کی پاسدار بھی ہے۔ اس کے نزدیک آزادی ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ اور ’’لو بیٹھ گئی آرام سے‘‘ جیسے شرمناک نعروں میں نہیں بلکہ عزت سے کام کر کے معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں ہے۔ عورت کا حقیقی چہرہ اگر دیکھنا ہو تو وہ ایسی خواتین ہیں اور یہی خواتین در حقیت ہماری کروڑوں خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ میری آنکھوں کے سامنے ’’فاطمہ جناحـ‘‘ اور ـ ’’ارفعہ کریم‘‘ جیسے چہرے گھومنے لگے جنہوں نے وطنِ عزیز کا نام سر بلند کیا۔مجھے ہر وہ عورت یاد آنے لگی جس نے ان فحش نعروں کا سہارا لینے کے بجائے حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کیا اوراس مصرعے کو سچا کر دکھایا ؂
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 344 Print Article Print
About the Author: Ammar Asif Baig
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

عمار آصف بیگ اردو ادب کے ابھرتے ہوئے ادیب ہیں، عمار کا تعلق مری کے انتہائی ادبی گھرانے سے ہے۔عمار نے بہت ہی نازک مسئلے پر عمدگی سے گفتگو کی ہے۔ ایک گہرا تجزیہ بڑے سادہ انداز سے پیش کر کے حقیقت آشنائی کی جانب قارئین کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
By: عاطف مرزا, Islamabad on Apr, 16 2019
Reply Reply
4 Like
Language: