گداگری ایک پیشہ

(Anosha zahid, Karachi)

رمضان کے آتے ہی،کراچی میں مختلف قسم کے فقیروں کا سیلاب سا آجاتا ہے۔یہ دکھائی دیتے ہیں پبلک پارکس میں،روڈوں پہ،ٹریفک سگنلز پہ اور بازاروں میں۔غربت اور بےروزگاری گداگر بنے کی اہم وجہ ہے۔
آ۶ین کے آرٹیکل ٣ کے تحت ریاست کو کسی بھی استحصال کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔اسکے علاوہ پولیس کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ اِن گداگروں کو روکے۔

1955 کے سندھ چائلڈ ایکٹ کے سیکٹر 49 میں بچوں کو بھیک مانگنے سے سخت منع کیا گیا ہے۔
یہاں کافی ضرورت مند لوگ ہے جنھیں اس بات کے لیے زور دیا جاتا ہے کہ وہ بھیک مانگے لیکن کافی کیسس میں یہ مافیا بچوں کو استعمال کرتی ہے عام آدمی کے پیسے نیچوڑنے کے لیے،یہ مافیا معزور بچوں کی مدد سے پیسے کمانے میں بہت بہادر ہوچکی ہے۔بھیک مانگنا ایک پیشہ سا بنتا جارہا ہے۔جہاں انساں کو خودو محنت کرکے اپنا پیٹ پالنا چاہیۓ،وہاں دوسروں سے مانگ کر کھانے کی عادت سی ہوتی جارہی ہے۔ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم سب کو پتہ ہے کہ ”محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے“۔

لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر ان سے پیسے بٹورنا ایک صحیح درس نہیں۔بھیک مانگنے کی جس قدر مذمت اسلام میں کی گئی ہے،شاید ہی کسی مذہب میں اس کی اس قدر مخالفت کی گئی ہوگی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anosha zahid

Read More Articles by Anosha zahid: 3 Articles with 718 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2019 Views: 240

Comments

آپ کی رائے