اے کاش ساس بہو ہوں سہیلیوں کی طرح

(Misar Jan Ahmed Nawaz, Karachi)

دوستو! آج میں جس موضوع پر بات کرنے جارہی ہوں۔وہ ایک بہت نازک رشتہ ہوتا ہے۔جس میں جتنی بھی کوششیں کرلی جاۓ۔ لیکن پیارومحبت پیدا نہیں کی جاسکتی۔آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے۔یہ کون سا ایسا انمول رشتہ ہے۔یہ ایک ساس بہو کا رشتہ ہوتا ہے۔وہی ساس جو پہلے ماں ہوتی ہے وہ اپنی اولاد کی بڑی بڑی غلطیوں کو نظر انداز کردیتی ہے اور اپنی اولاد کی ایک تکلیف تک پرداشت نہیں کرپاتی لیکن جب یہی ماں ساس بن جاتی یے تو اس ماں میں تبدیلی آجاتی ہے۔اور وہی ماں جو اپنی اولاد کی بڑی بڑی خامیوں کو نظر انداز کردیتی تھی۔ لیکن جب بہو چھوٹی سی بھی غلطی کرلیتی ہے۔تو ایسے بہت غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔وہ یہ بھول جاتی یہ بھی کسی کی اولاد ہے۔

ان میں کچھ غلطیاں بہو کی بھی ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے ان میں کبھی محبت ہونے کی کونجاش پیدا نہیں ہوسکی۔ کیونک بہو بھی اپنی ساس کو ایک ماں کا درجہ نہیں دیتی جس کی وجہ سے ان میں پیار پیدا نہیں ہوسکا ۔اگر ایک بہو اپنی ساس کی ایسی طرح دیکھ بال اور ٱس کی عزت کرے جس طرح وہ اپنی ماں کا دل سے کرتی تھی۔پھر ان میں ایک محبت پیدا ہوسکتی ہے۔ان میں کچھ بہوہوں ایسی بھی ہوتی ہے۔جو اپنے شوہروں کو ان کی ماں سے دور کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔وہ یہ بھول جاتی ہیں۔کہ یہ وقت پھر دوبارہ پلٹ کر بھی آۓ گا۔وقت کبھی ٹہرتا نہیں ہے۔میں نے کچھ گھرانے ایسے بھی دیکھے ہیں۔جہاں روزانہ ساس بہو کے جھگڑے چلتے ہی رہتے ہیں۔اگر دونوں میں پیارومحبت پیدا ہوجاۓ تو ساس بہو کا رشتہ بھی ایک مضبوط رشتہ بن سکتا ہے۔

ٌاے کاش ساس بہوہوں سہیلیوں کی طرح
کہ ان کا جھگڑا تو گھر گھر دکھائی دیتا ہے ً

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 69 Print Article Print
About the Author: Misar Jan Ahmed Nawaz
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: