پاکستانی کمیونٹی قطر

(Murad Ali Shahid, Doha)

 تحریر؛سید فہیم الدین ہاشمی
قطر میں پاکستانی کمیونٹی جہاں ادبی و سماجی حوالوں میں دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتی ہے وہیں سب سے معتبر ترین حوالہ کمیونٹی کی سب سے بڑی تنظیم’’پاکستان ویلفیئر فورم‘‘کی پاکستانی اور دیگر اقوام کے لئے بلا تعصب حقیقی فلاحی خدمات ہیں۔جیسا کہ اکثر دوست جانتے ہیں کہ قطر و دیگرعرب ممالک میں امدادی و فلاحی تنظیمیں صرف سرکاری منظوری اور سخت نگرانی میں ہی چلائی جا سکتی ہے۔یہاں غیر شفافیت کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔ایسے میں اقوام عالم میں صرف پاکستانی برادری ہی یہ اعزاز رکھتی ہے کہ قطر میں ان کا اپنا خیراتی ادارہ نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ متحرک ترین فلاحی و امدادی ادارہ ہے۔اس کادائرہ کار قطر تک محدود نہیں بلکہ پاکستان بھر میں پاکستان ویلفیئر فورم قطر کے ہزار ہاں منصوبے بھر پور طریقے سے موثر کام کر رہے ہیں۔نمایاں شعبوں میں صحت و طب،بچوں کی تعلیم،قدرتی آفات میں فوری امداد،دور درازخشک و بنجر علاقوں میں کنووں کی کھدائی ،دیگر خیراتیوامدادی اداروں جیسے،ایدھی،اخوت اور دیگر کی ان کے منصوبوں میں مالی معاونت شامل ہے۔علاوہ ازیں سستے گھروں کی تعمیر اور تعلیمی اداروں کا قیام بھی ان کی اولین کارہائے نمایاں ہیں۔قطر کی سطح پر انہیں شعبوں میں پاکستانی کمیونٹی کی بھر پور معاونت کا سلسلہ شدومد سے جاری و ساری ہے۔حالیہ نمایاں ترین پراجیکٹ میں پہلا تعلیمی ادارہ ’’احسان‘‘ وہ سنگ میل ہے جو قطر میں نمایاں ترین ہے،اس سکول میں400 نادار وحقداربچوں کی بہترین تعلیم کا انسدام جاری ہے اور مزید چار سو پاکستانی بچے جنکے والدین سکول کے ا خراجات پورے نہیں کر سکتے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔تعلیم کے شعبے میں کسی غریب کی مدد دراصل اس کی نسلوں کی تعمیر کی ضمانت ہے۔ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بعد تکنیکی تعلیم کااہتمام بھی منصوبوں میں شامل ہے تاکہ ادارہ کی فارغ التحصیل طلبا معاشرہ کے مفید و موثر شہری بن سکیں۔قطر میں عوامی اور حکومتی سطح پر ان امدادی منصوبوں کا زبردست چرچا ہے اور پاکستانیوں کی روش پہ چلتے ہوئے دوسری اقوام بھی اسی طرز کے اپنے امدادی و فلاحی و خیراتی اداروں کے قیام کا ارادہ رکھتی ہیں۔دیار غیر میں جہاں ہر محنت کار اپنے کاروبار،نوکریو معاش کو اہمیت دیتا اور رقم کی بچت میں مشغول رہتا ہے تاکہ اچھے دنوں میں آسودگی سے دن گزریں وہیں کچھ لوگ دوسرے کم مراعات یافتہ ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کا کام بھی اپنی ذمہ لے لیتے ہیں۔پاکستانی کمیونٹی کی ایسی ہی سب سے نمایاں سماجی،کاروباری شخصیت جناب ادریس انور نے پاکستان ویلفیئر فورم کا قیام اسی خدمت کے حصول کے لئے کیا۔خدا ترس اور بے لوث پاکستانی ادریس صاحب فکرو ادراک یعنی خود شناش اور خدا شناش بھی ہیں۔پاکستان ویلفیئر فورم میں دیگر اراکین میں اسکے شریک بانی رکن چوہدری اجمل کی کرشمہ سازشخصیت بھی ہے جو پاکستانی کمیونٹی کے نبض شناس بھی ہیں اور بے لوث و انتھک سماجی کارکن بھی۔ان کے ایک پیغام پر بلاشبہ پاکستانی کمیونٹی کا جم غفیر مجتمع کیا جا سکتا ہے۔دیگر زعما میں خرم شہزاد اس کے صدر احمد حسین جنرل سیکرٹری طاہر چوہدری جو ائنٹ سیکرٹری اسفند یار اور ممتاز ماہر تعلیم و سماجی شخصیت و بانی رکن ریاض احمد بقالی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ دو درجن سے زائد مختلف کمیونٹی کے وہ سرگرم کارکن بھی ہیں جو ہمہ وقت پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کے لئے کوشاں و متحرک بھی رہتے ہیں۔غرضیکہ 2009 سے دوحہ کی پاکستانی کمیونٹی کا ہر فرد ایک طرح سے ’’پاکستان ویلفیئر فورم ‘‘کا شریک کارکن و خیر خواہ ہے۔ہر سال رمضان میں سال کی سب سے بڑی فلاحی و امدای تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے،جس میں پانچ سو سے زائد اہم کمیونٹی ممبرون کو مدعو کیا جاتا ہے اس تقریب میں قطر چیریٹی کے عہدہ دار۔سفارتخانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندے ،میڈیا کے نمائندگان بھی شریک ہوتے ہیں۔اس سال 2019 کی خصوصی سالانہ تقریب کی حسب معمول میزبانی ادریس انور نے کی ۔قطر چیریٹی کے نمائندے اور سفارت خانہ ا سلامی جمہوریہ پاکستان سے ویلفیئر اتاشی جناب حافظ جنید سیال مہمان خصوصی تھے۔اس پر وقاروپر عظم تقریب میں پاکستان ویلفیئر فورمکی درخواست پر انتظامیہ و پاکستانی کمیونٹی نے چند منٹ میں ہی ڈیڈھ ،ملین قطری ریال(تقریبا چھ کروڑ پاکستانی روپے)فلاحی منصوبوں کے لئے جمع کر لئے۔جزاک اﷲ خیر اس قومی جذبے کو سلام۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 99 Articles with 33529 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2019 Views: 273

Comments

آپ کی رائے