یوم تکبیر۔ ہم ہیروز کو کیوں بھول جاتے ہیں؟

(Aslam Lodhi, Lahore)

ہم ہر سال یوم تکبیر اس لیے مناتے ہیں کہ بیس سال پہلے پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نہ صرف کامیاب ایٹمی دھماکے کیے بلکہ ساتویں ایٹمی طاقت کی حیثیت سے ہم دنیا کے نقشے پر ابھرآئے ۔ ایک ایسی قوم کے لیے یہ بہت بڑا کارنامہ ہے جو کشکول اٹھائے ہر دوسرے تیسرے ملک سے بھیک مانگتی نظر آتی ہے ۔ یوم تکبیر مناتے ہوئے ہم ان حقیقی ہیروز کو کیوں بھول جاتے ہیں جنہوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیا۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ڈاکٹر خان کے بغیر ایٹم بم بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ ڈاکٹر خان ہالینڈکی پرکشش ملازمت چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے اور صرف تین ہزار روپے ماہوار پر ملازمت قبول کی اور یورینیم افزودگی کے منصوبے کو کامیاب کردیا‘ کامیابی تو مل گئی لیکن ڈاکٹر خان پروسٹیٹ کے کینسر میں مبتلا ہوگئے ۔ جس طرح ٹی وی پر بلاکر ڈاکٹر خان کی تذلیل کی گئی اور تمام اعزازات واپس لیکر نظر بند کردیااس سے بڑی توہین اور کیا ہوسکتی ہے ۔چند دن پہلے انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ حفاظتی نظر بندی ختم کرکے مجھے زندگی کے باقی دن آزادی سے گزارنے دیئے جائیں ۔ خدا کی قسم اگر ڈاکٹر خان ‘ پاکستان نہ آتے تو قیامت تک ایٹم بم نہ بنایا جاسکتا ۔ بھارت نے اپنے ایٹمی سائنس دان کو منصب صدارت پر فائز کرکے اس خدمات کا اعتراف کردیا ۔ ڈاکٹر ثمر مبارک بھی قومی ہیر وکے مرتبے پر فائز ہیں انہوں نے ایٹم بم کو ڈائزین کیا اور 28مئی 1998ء کو چاغی اور خاران میں اپنی ٹیم کے ساتھ چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے ۔وہ میزائل ٹیکنالوجی کے بانی بھی ہیں ۔ ان کی خدمات کی کہانی بہت طویل ہے لیکن ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کی وجہ سے انہیں بھی جگر کا کینسر ہوگیا ۔ گویا ایٹم بم کے کامیاب تجربات اور میزائیل ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی دفاع کو مضبوط بنانے والے اس قومی ہیرو کو ڈاکٹر قدیر کی طرح کس قدر تکلیفوں اور اذیتوں کا شکار ہونا پڑا ۔لیکن تھرکول کے حوالے سے ان کی جو تذلیل کی گئی اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے‘ آج یہ قومی ہیرو بھی اپنے گھر میں تنہائی کا شکار ہے‘ پوری قوم ان کی خدمات کو فراموش کرچکی ہے ۔ تیسرا ہیرو محمد حسین چغتائی ہے جسے پاکستان کانمبر ون ماہر ارضیات ہونے کااعزاز حاصل ہے ۔چھ ایٹمی دھماکے انہی کی کھدی ہوئی طویل ترین سرنگوں میں ہوئے ۔ یہ وہ عظیم ہیرو ہیں جنہوں نے چاغی کے سخت پتھریلے پہاڑوں میں وطن کی آزادی اور تحفظ کی خاطر ‘ زندگی کی سہولتوں سے دور پانچ سال گزارے اور پہاڑکی گہرائی میں کئی میل لمبی ایٹمی سرنگیں کھودیں ‘ لواری ٹنل اور تربیلا ڈیم کی سرنگیں بھی انہی کا کارنامہ ہے ۔ پاکستانی قوم کایہ عظیم ہیرو آجکل ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف میں مبتلا اپنے گھر تک محدود ہوچکا ہے ۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں کہ انکے گھر کے سامنے چند پھول ہی اظہار محبت کے لیے رکھ آئے ۔ پاکستانی قوم کا ایک اور عظیم ہیرو میاں محمدنوازشریف ہے جس نے امریکی صدر کلنٹن کی 5ارب ڈالر کی پیشکش ٹھکرا دی اوردھمکیوں سے خوفزدہ ہوئے بغیر ایٹمی دھماکے کرنے کا حکم جاری کیا ۔اگرنوازشریف کرپٹ ہوتا تو 5ار ب ڈالر لے کر ایٹمی دھماکے نہ کرتااور آج پاکستان ‘بھارت کے سامنے سینہ تان کے نہ کھڑا ہوتا لیکن اس نے بھارت کی بالادستی کو ختم کرنے اور پاکستانی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے کسی کی پروا نہ کی ۔ سپریم کورٹ اور نیب عدالت بھی اپنے فیصلوں میں لکھ چکی ہے کہ نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا لیکن ان کو‘ مجرم اعظم بنا کر جیل میں ناقابل برداشت اذیتیں دی جارہی ہیں ۔ یہ وہ ہیرو ہے جو 2013ء میں 6ارب ڈالر کے اوپننگ بیلنس سے حکومت شروع کرتا ہے اور 2018ء میں 18ارب ڈالر کے فارن ریزورزکے ساتھ اپنی مدت پوری کرتا ہے اپنی بہترین پالیسیوں سے بیس ہزار پوائنٹس والی سٹاک مارکیٹ کو 53ہزار پوائنٹ تک پہنچا دیتا ہے اور پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پانچویں نمبر پر پہنچ جاتی ہے ۔ 42ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیتااور اسی مدت میں 70ارب ڈالر کے قرضے واپس بھی کرتا ہے ۔سی پیک کے ذریعے 60ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لاتا ہے ۔ ملک بھر میں موٹرویز کو 2500کلومیٹرتک بڑھاتا ہے ۔18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے پاکستانی قوم کو نجات دلا کر سرپلس بجلی دے کر جاتا ہے ۔ دہشت گردی ‘ بدامنی اور بھتہ خوری والے پاکستان کوپرامن پاکستان بنادیتا ہے ‘ٹیکس کلیشن 2800سے 4500ارب روپے تک لے جاتاہے ۔ پٹرول کے قیمت 108سے کم کرکے 68روپے فی لیٹر پر لے آتاہے ۔ بیسک ہیلتھ یونٹس اور ڈی ایچ کیو و سول ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ اور مفت ادویات فراہم کرتا ہے ۔موذی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو تاحیات مفت مہنگی ترین ادویات اور علاج مفت فراہم کرتا ہے ۔ عوام کے لیے میٹروبس سسٹم تعمیر کرتا ہے ۔ذہین طالب علموں کے لیے سپیشل انڈومنٹ فنڈاور لیپ ٹاپ متعارف کرواتا ہے ۔ آج شاید ہی کوئی الزام ایسا ہوگا جو نوازشریف پر نہ لگایا گیا ہو۔جیسے ڈاکٹر قدیر ‘ ڈاکٹر ثمر‘ محمد حسین چغتائی سمیت درجنوں سائنس دانوں کے کارنامے قوم کی نظروں اوجھل ہیں اسی طرح نواز شریف کے کارنامے بھی حکومتی پروپیگنڈے کی نذر ہوچکے ہیں ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ 27فروری 2019ء کو دو بھارتی طیارے گرانے والے دو عظیم پاکستانی پائلٹوں( حسن صدیقی اور نعمان علی خان) کی خدمات کااعتراف کرنا بھی حکومت پاکستان بھول گئی لیکن مہوش حیات اداکارہ کی خدمات کو فراموش نہ کیاجاسکے ۔ مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب پاک فضائیہ کے ان دو طیاروں پر تباہ شدہ بھارتی طیاروں کے نشانات( مونوگرام ) لگائے جارہے تھے لیکن جن پاکستانی پائلٹوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ان کے سینے تمغوں سے ابھی تک خالی نظر آرہے ہیں ۔جہاز خود نہیں اڑتے انہیں اڑنے والے ہی عظیم ہوتے ہیں ۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایٹم بم پر تو فخر کرتے ہیں لیکن ایٹم بم بنانے والے سائنس دانوں‘تجربات کا حکم دینے والے نوازشریف کو بھول جاتے ہیں اور اسی طرح ہم بھارتی جہازوں کوگرانے والوں کو بھی فراموش کر چکے ہیں لیکن مہوش حیات کے کارنامے ہمیں بخوبی یاد ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 561 Articles with 281708 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2019 Views: 177

Comments

آپ کی رائے