ماہ شوال کے چھ روزوں کے فضیلت اور چند مسائل

(Tanvir Ahmad, )

حضر ت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا’’ کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ(نفل) روزے شوال کے رکھ لئے تو (پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ہو گا،اگر ہمیشہ ایسا ہی کرے گاتو ) گویا اس نے ساری عمر روزے رکھے ‘‘(مسلم شریف)کیونکہ یہ اﷲ کی مہربانی ہے کہ ہر عمل کا ثواب کم از کم دس گنا عطا کرتا ہے لہذا جب بندہ نے رمضان کے تیس اور شوال کے چھ روزے رکھے تو چھتیس ہو گئے اس کو دس کے ساتھ ضرب دیں تو تین سو ساٹھ ہوئے اور قمری سال بھی عموما تین سوچون دن کاہوتا ہے،لہذا ان روزوں پر پورے سال کے اور پوری عمر روزے رکھنے کا اجر و ثواب دیا جاتا ہے۔

محدثین عظام نے لکھا ہے کہ شوال کے روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ وہی نسبت حاصل ہے جو سنت اور نفل نماز کو فرض نماز کیساتھ حاصل ہے یعنی جس طرح فرض نماز کی کمی کو نوافل کے ساتھ پورا کیا جائے گا ایسے ہی فرض روزوں کی کمی کو ان نفل روزوں کے ساتھ پورا کیا جائے گا اور یہ اس وجہ سے کہ ماہ شوال رمضان کے مہینے کے ساتھ متصل اور ملا ہوا ہے اور اس لئے بھی کہ ماہ رمضان میں روزے رکھنے کے بعد شوال میں کھانے کی رغبت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے نفس پر مشقت زیادہ ہوتی ہے اور اجرو ثواب بقدر مشقت دیا جاتا ہے۔

مسائل صیام شوال۔٭اگر کسی کے ذمہ رمضان کے روزے قضا ہوں تو اس کو بھی شوال کے نفلی روزے رکھنا اگرچہ جائز ہے مگر بعض علماء کے مطابق اس مذکورہ فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے رمضان کے روزوں کی گنتی اور تعداد پورا کرنا ضروری ہے البتہ بعض اہل علم حضرات کے نزدیک اگر رمضان کے روزے کسی عذر کی وجہ سے قضا ہوئے ہوں تو فضیلت حاصل ہو جائے گی ۔ احتیاط کاتقاضا یہ ہے کہ پہلے قضا رکھے پھر شوال کے نفلی روزے رکھے اگرچہ برعکس بھی جائز ہے٭ شوال کے یہ چھ روزے لگا تا ر رکھنا یا عید کے اگلے دن سے فورا رکھنا ضروری نہیں بلکہ شوال کے مہینے میں صرف عید کا دن چھوڑ کر جب اور جس طرح چاہیں رکھ سکتے ہیں البتہ بعض حضرات کے نزدیک ان روزوں کو عید کے بعد لگا تا ر رکھنا افضل اور بہتر ہے،ان روزوں کے لئے رات سے نیت کرنا ضروری نہیں،اگر کسی کا دن کے شروع میں روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن اس نے صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہیں تھا پھر روزہ رکھنے کا ارادہ ہو گیا تو زوال سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے تک نفل روزے کی نیت کر لینا صحیح ہے اس کے بعد نیت کرنا صحیح نہیں،اور نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔سحری کھانا سنت ہے اگر بھوک نہ ہو تو تھوڑا بہت سنت کی نیت سے کھا لینا چاہیے لیکن اگر کسی نے با لکل سحری نہ کھائی اور روزہ رکھ لیا تب بھی روزہ صحیح ہو جائے گا،اور اگر نفلی روزہ رکھ کر توڑ لیا جائے تو اس کی صرف قضا ضروری ہوتی ہے ،کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہوتا۔عورت کو شوہر کے اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا منع ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Ahmad

Read More Articles by Tanvir Ahmad: 17 Articles with 6894 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jun, 2019 Views: 889

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ