دو گدھ

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
بہت ے جنگلی پرندوں میں سے ایک ایسا پرندہ بھی ہے جو مردار یعنی مردے کا گوشت کھاتا ہے، ایسا ہی دل کو دہلا دینے والی داستان ہے، فوٹوگرافر تصویر کشی کرتا ہے، تصویر پر انعام پاتا ہے۔۔ لیکن انٹرویوکے دوران یہ پوچھنے پر کہ وہاں کتنے گدھ تھے جواب ایک ۔۔ لیکن ایک نہیں دو تھے۔ وہ حقیقی گدھ اور ایک تم فوٹو گرافر انسان کے روپ میں انسانی گدھ۔۔ اس کے بعد فوٹوگرافر کا ڈپریشن کا شکارہونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انعام یافتہ تصویر ۔۔۔ فوگرافر کا ڈپریشن سے مر جانا۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانیت اور گدھ

رب کائنات نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں فرمائی۔ چرند پرند، خوانخوار جانور سے لے کر خطر ناک شکار کرنے والے پرندے یہ سب رب کریم کی پیدا کردہ کائنات ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کبھی مفید تو کبھی نقصادہ محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ انسانی ایجادات یا سوچ و واقعات پر سوچ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن انسانی سوچ اور انسانیت اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔ سب سے بڑ کر اللہ کریم نے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے یعنی تمام پیدا کردہ مخلوق میں سب سے زیادہ افضل ۔ اس کو علم سے نوازا گیا۔ انسانیت کی قدر ومنزلت سے روشناس کرایا گیا ، ایک دوسرے کا دکھ بانٹنے کے لیے انسانی معاشرہ قائم کرنا اور پھر معاشرہ میں رہنے کے قانون اور ضابطوں سے آگاہی دی گی باوجود اس کے انسان اپنے اندر سے انسانیت نکال پھینکتا ہے اور مفاد پرست، موقع پرست ، وحشی اور ۔۔۔ کی شکل میں نمایاں نظر آتا ہے ، اس کو دیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ ایسی ہی تحریر آپ کے سامنے ہیے۔ سوچنا یہ کہ ہے کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں جو بعد میں شرمندہ کردے اور ڈپریشن کا شکار ہو کر خودکشی کرنے پر مجبور پو جائے۔تو پڑھیے۔

١٩٩٣سوڈان قحط سالی کے دوران ایسا واقع پیش آیا جب ساؤتھ افریقی فوٹو جرنلسٹ Kevin Carter نےقحط کے دوران تصویر کھینچی ،یہ تصویر دنیا میں بہت مشہور ہوئی ، دنیا کے ہر چھوٹے برے چینل پر اس کا ذکر ہونے لگا ۔یہی تصویر اس جرنلسٹ کی وجہ شہرت بنی اوربطور جرنلسٹ بڑا مقام پایا ۔کیونکہ اس قحط زدہ میدان میں ایک مجبور اور لاچار لڑکی بھوکی کی وجہ سے چلنے سے قاصر تھی ، رینکنا بھی اس کے لیے مشکل تھا، اس کے پیچھے چند قدم کے فاصلےپر ایک گدھ بیٹھی تھی جو اس کے مرنے کا انتظار کر رہی تھی۔اس جرنلسٹ کو اس تصویر کی وجہ سے Pulitzer Prize سے نوازا گیا. لیکن کارٹر زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکا اور اپنے اس اعزاز کا لطف زیادہ دنوں تک نہیں اٹھا سکا کیونکہ ڈپریشن کا شکار ہوکر اس نے خود کشی کرلی.

ایسا کیوں ہوا؟
دراصل جب وہ اس ایوارڈ کے پانے کا جشن منا رہا تھا تو ساری دنیا کے میڈیا چینلز پر اس کا ذکر ہو رہا تھا اور اس کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی تھی. تبھی وہ واقعہ ہوا جس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو کر کارٹر نے خودکشی کرلی. ہوا یوں کہ ایک انٹرویو کے دوران کسی نے کارٹر سے پوچھ لیا کہ آپ نے تصویر تو بہت زبردست لی لیکن یہ بتائیں کہ اس بچی کا کیا ہوا؟

کارٹر یہ سوال سن کر مبہوت رہ گیا پھر اس نے سنبھل کر جواب دیا کہ یہ دیکھنے کے لئے وہ رک نہیں سکا کیونکہ اسے فلائٹ پکڑنی تھی. یہ جواب سن کر سوال پوچھنے والے نے کہا کہ اس دن وہاں دو گدھ تھے، جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کیمرا تھا.

آج اس سائنسی دور اور جدید دور میں ہم روز اس کے لاتعداد واقعات دیکھتے ہیں۔ کوئی کیمرہ کے سامنے خود کو آگ لگا رہا ہے، کوئی سیدھا فائر کر رہا ہے، کوئی بے یارو مددگار لوگ وقت کی چکی میں پستا ہوا دیکھ رہا ہے لیکن ان تمام لمحات کی لمحہ بہ لمحہ تصویر اپ ڈیٹ ہو رہی ہوتی ہیں، ویڈیو کلپس بریکنگ نیوز بن رہے ہوتے ہیں لیکن یہ لاکھوں تنخواہ لینے والے سینئر اینکرز ، کیمرہ مین ، نام نہاد جرنلسٹ بھی شاید اسی انسانیت سے دور ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ میں بھی کیمرہ ہوتا ہے۔

اس واقعہ نے کارٹر پر اتنا اثر ڈالا کہ وہ ڈپریشن میں چلا گیا اور آخر کار خوکشی کرلی.

کسی بھی کام میں سب سے پہلے انسانیت کو مقدم رکھنا چاہیے. کارٹر آج زندہ ہوتے اگر وہ بھوک کی شکار اس بچی کو یونائٹڈ نیشن کے فیڈنگ سنٹر تک پہنچا دیتے جہاں وہ بچی پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی.

میرے ہم وطن پاکستانیوں، مسلم امہ ہم تو دنیا کے وہ خوش قسمت ترین لوگ ہیں جنہیں رب کریم کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اسوہ حسنہ ہمارے لیے انسانیت ، انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آئیے ہم سب ملک کر عہد کریں ۔ اور اس پر ذرا سوچیں کہ یہ کیسے ممکن ہے اور ہم کس حدتک گدھ یا انسان ہیں ۔اللہ کریم سے دعا گو ہوں کہ ہم سب میں انسانیت کی قدر پیدا فرمائے اور ہم کیمرہ اور کسی مجبوری کو چھوڑ کر عملی انسانی اقدام کر سکیں۔ آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 449 Print Article Print
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 60 Articles with 24479 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More

Reviews & Comments

Language: