سات خوش نصیب ۱: عادل حکمراں 

(Abdul Bari Shafique, Mumbai)
اسلام کی حقانیت کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے ایک مسلمان کو کتاب وسنت کا گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کرنا چاہئے جب وہ قرآن وحدیث کا مطالعہ کرے گا تو امام وقت اور عادل امام کی ذمہ داریوں کا احساس ہوگا ۔ عادل امام کی ذمہ داریاں موجودہ وقت میں دو چند ہوجاتی ہیں ۔ آج کے اس مادہ پرستی اور پرآشوب دور میں جب کہ ہر طرف انارکی اور فتنہ پروعی کا بازار گرم ہے ۔عادل امام اصلاح معاشرہ کا فریضہ بخوبی انجام دے سکتاہے ۔
عبدالباری شفیق ،ممبئی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ إِمَامٌ عَدْلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّہَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ۔‘‘(بخاری : كتاب الزكاة: باب الصدقة باليمين۔ح:۱۴۲۳،مسلم: ح:۲۴۲۷)
ترجمہ : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نےارشاد فرمایا کہ:’’سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیںاللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کےسائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا:عدل و انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ہوئی ، وہ شخص جس کا دل مسجد وںمیں لگا رہتا ہے،وہ دو آدمی جنھوں نے ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبت کی،اسی پر اکٹھاہوئے اور اسی پر جداہوئے،وہ آدمی جس کو ایک عہدے دارخوبصورت عورت نےدعوت (گناہ )دی ہولیکن اس نے کہاکہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈر تاہوں ، وہ آدمی جس نے اس طرح خفیہ طور پر صدقہ کیاکہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نہ کیا خرچ کیا، وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑیں‘‘۔

تشریح : عادل حکمراں ؍امام :
عادل حکمراں سے مراد وہ شخص ہے جسے مسلمانوں کے انتظامی امور کا نگراں وذمہ دار بنایا گیا ہو،جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی پاسداری کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ فیصلے کرتاہو،اور لوگوں کے حقوق کی کماحقہ ادائیگی کرتاہو۔

امام چاہئے اپنے گھر کا ہو ،یاکسی مسجد ومدرسے کا ذمہ دار،یاکسی تنظیم وسوسائٹی کا نگراں ،یا کسی سماج ومحلہ کا پردھان یامکھیا ،یا کسی قوم وملت کا پاسبان ونگہبان ہو۔کتاب وسنت میں ایسےامراء و حکمراںکی تابعداری وفرمانبرداری کاحکم دیاگیاہے ،چاہے ہمارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی بھی اطاعت کا حکم دیاگیاہے اور ایسےامام کی طرف اشارہ کرتے ہوے ان کے فضائل ومناقب کوبیان کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ :’’إِنَّ الْمُقْسِطِیْنَ عِنْدَاللّٰہِ عَلیٰ مَنَابِرَ مِنْ نُّوْرٍ عَنْ یَمِیْنِ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ وَکِلْتَا یَدَیْہِ یَمِیْنٌ، أَلَّذِیْنَ یَعْدِلُوْنَ فِيْ حُکْمِھِمْ وَأَھْلِیْھِمْ وَمَا وَلُوْا‘‘۔ (أخرجہ مسلم في کتاب الإمارۃ، باب: فضیلۃ الأمیر العادل وعقوبۃ الجائر والحث علی الرفق، رقم: ۴۷۲۱)ترجمہ : ’ انصاف کرنے والےلوگ اللہ تعالیٰ کی دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں، (وہ لوگ مراد ہیں) جو اپنے فیصلوں، اپنے گھر والوں اور جن کے وہ نگراںہیں، ان میں میں عدل کرتے ہیں۔ اور دوسری حدیث میں ایسے عادل حکمراںجو رب العالمین کی اس مقدس سرزمین پر عدل وانصاف کو میانہ روی ،کتاب وسنت کی بالادستی اور رب کریم کی رضاجوئی کی خاطر غیر جانبدارہوکر عوام الناس وصاحب معاملہ کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں ،اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ کل قیامت کے دن اللہ کے محبوب اور اس سے سب سےزیادہ قریب ہوں گے ۔ ’’ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَقْرَبَھُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ ‘‘( مسند أحمد، رقم: ۱۱۱۷) اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن سب سے زیادہ محبوب اور مجلس کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب عادل امام ہوگا۔ ‘‘

اور دنیاکے اندر عدل وانصاف کرنے والا امام کل قیامت کے دن سات ان خوش نصیبوں میں ہوگا جسے عرش الہٰی کا سایہ نصیب ہوگاکہ ان سات کے علاوہ کسی اور کو رب ذوالجلال کے عرش کا سایہ نصیب نہ ہوگا ،جہاں لوگ نفسی نفسی کے عالم میں ہوں گے ، مردوخواتین اپنے گناہوں کے بالمقابل پسینے میں شرابور ہوں گے کوئی ٹخنے ،کوئی گھٹنے ،کوئی کمر اور کوئی سینے تک توکوئی اسی میں ڈبکی لگارہاہوگا،جہاں تمام لوگ مادر زاد ننگے ہوںگے،کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہوگا،بھائی اپنے سگے بھائی سے ،بیٹااپنے باپ سے ،بیوی اپنے شوہر اور دیگر قریبی رشتہ دار، اعزہ واقارب ایک دوسرے سے دور بھاگ رہے ہوں گے ،کہ کہیں میرابیٹا ،میری ماں،میراباپ ،میرابھائی ،میراشوہر ،میری بیوی مجھ سے ایک نیکی نہ مانگ لے اور میری نیکیوں میں کمی آجائے ۔ وہاںصرف اور صرف انسان کی یہی نیکیاں اور اعما ل حسنہ کام آئیں گے جو وہ اس دارفانی میں رب کی رضاجوئی کی خاطر انجام دے گا ۔چنانچہ ان خوش نصیبوں میں ایک خوش نصیب وہ شخص(حاکم وقت؍امام ) بھی ہوگا جو اپنی رعایا وماتحتین کے ساتھ عدل وانصاف کرے گا ، ان کے درمیان رب کی رضاجوئی کی خاطر عدل وانصاف پر مبنی فیصلے کرے گا ۔تو ایسے خوش نصیبوں کی دعائیں بھی اللہ سنتا اور قبول فرماتاہے ۔جیساکہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ : ’’ ثَـلَاثٌ لَا یُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ: اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ ۔۔۔۔۔۔۔۔وَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ: وَعَزَّتِيْ لَأَنْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔ ))صحیح سنن الترمذی: ۲۰۵۰)’’ تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کی دعا رد نہیں کی جاتی: (۱) عادل امام۔۔۔۔۔۔ اور رب تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ہی اس کی مدد کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد ہی کروں‘‘۔

لیکن ایسے حکمراں اورامام وقت پر لعنت وملامت بھیجی گئی ہے جو اپنی رعایا کے ساتھ عدل وانصاف نہیں کرتے ،ان کے ساتھ غداری ،فراڈ ،دھوکہ دھڑی ،مکروفریب اور خیانت ودغابازی کرتے ہیں ان کو ستاتے اور پریشان کرتے ہیں ان کے ساتھ نازیبا سلوک کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ نے فرما یاکہ ایسے لوگوں پر جنت حرام ہے :’’ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‘‘ یعنی جس بندے کو اللہ تعالیٰ کسی رعایا کی ذمہ داری سونپے ،پھر وہ اپنی موت کے وقت اپنی رعایا سے دھوکہ کررہاہو تو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کردیتاہے‘‘۔(بخاری :۳۸۰،مسلم :۴۸۳۴)،اور دوسری روایت میں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ورسوائی اور آخرت میں جہنم کا عذاب ہے جو لوگوںکے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے :’’ امام ڈھال ہے جس کی آڑ میں قتال کیا جاتا ہے اور دفاع ہوتا ہے اگر وہ تقوی اور عدل سے حکومت کرتا ہے تواس کے لیے اجر ہے اور اگر اس کے مطابق حکومت نہیں کرتا تو اس کے لیے عذاب ہے ۔(متفق علیہ۔ابوداؤد۔نسائی)
مذکورہ تمام نصوص شرعیہ سے ایک حاکم یا امام وقت کی ذمہ داریاں دوچند ہوجاتی ہیں ، وہ اللہ کی طرف سے رعایاکا ذمہ دار اور چرواہا ہوتاہے ،کل قیامت کے دن اس کے ماتحتین کے متعلق اس سے پوچھ تاچھ کی جائے گی ۔ لہذا ہر مسلمان والدین وسرپرست خصوصا حکمراں اور امام وقت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھتے ہوئے کماحقہ اس پر عمل پیرا ہونے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہم دنیا کے اندر بھی سرخروہوسکیں اور کل قیامت کے دن بھی رب العالمین کے عرش کا سایہ نصیب ہوسکے ۔

اللہ ہمیں اپنے ہر معاملہ میں عدل وانصاف کرنے کی توفیق عطافرما ،ہمارے حکمرانوں وامیروں کی اصلاح فرمااور ہمیں اپنی رعایا کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کی توفیق بخشے تاکہ قیامت کے دن میدان محشر کی ہولناکیوں سے بچتے ہوئے تیرے عرش کا سایہ نصیب ہوسکے ۔ آمین !

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 309 Print Article Print
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 95 Articles with 39083 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: