بچوں کی تربیت اور والدین کا کردار

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)

زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک قوموں کا سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ ہونے کا عمل جاری ہے جو قومیں بظاہر ترقی کرجاتی ہیں انہیں ترقی پذیر کہا جاتا ہے جو ابھی اس دوڑ میں پیچھے ہیں ان کو ترقی پذیر کہا جاتا ہے۔ جب ترقی پذیر کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس کے پیچھے بہت سے اعوامل ایسے ہیں جن پر نہ تو سوچ بچار ہوتی ہے اور نہ ہی ان کوتاہیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے ممالک کے حکمران یا تو مفاد پرست ہوتے ہیں ، یا ان کو خود ترقی یافتہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بس وہ خود مال و متاع اکٹھا کرنے میں ترقی یافتہ ہو جاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ پورا ملک ترقی یافتہ ہو گیا ہے کیونکہ اس کے وزیر مشیر بھی اس قابل نہیں ہوتے جو اسے اس راہ پر گامزن کر سکیں۔

پھر وہ قومیں جو غلام رہ چکی ہوں، جن کو کسے کے حکم کے تابع رہ کر کام کرنے کی صدیوں سے عادت بن چکی ہو تو پھر غلامی ڈی این اے میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس غلامی کی عادت کو دور کرنا ممکن نظرآتا ہے ۔ پھر جن لوگوں کی مرہون منت قوم غلام بنتی ہے وہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ اسے غلامی سے نجات دلائی جائے ایسی کچھ مثال پاکستان کی ہے۔ لارڈ مکالے نے جو کتاب ١٩٣٥میں لکھی اس کو پڑھنے سے ہماری عقل درست ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ غور کرنے سے ہی ممکن ہے۔

بچہ اپنی زندگی کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے بڑا ہو کر بالغ ہو جاتا ہے، لیکن بطور ایک اچھا شہری ہونے کے ناطے سے اس کے اندر وہ اخلاقی اقدار معاشرتی خوبیاں بیدار نہیں ہو پاتیں جن کی معاشرے کو پروان چڑھانے کے لیے اشد ضرورت ہوتی ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ بچہ ماں باپ کی گودسے سن بلوغت کو پہنچ جاتا ہے پھر کمی کہاں رہ گئی۔ کیونکہ یہی کمی ہمیں قوم بننے سے روکتی ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے تمام مکتبہ فکر نے اپنی عقل و دانش کے مطابق کچھ نہ کچھ لکھا ۔ یا وہ کتابوں کی زینت بن گیا پھر ہمیں اس پر عمل کرنے کا موقع نہیں ملایا وہ سب کچھ ہماری سمجھ سے بالا تر رہا۔ بچے کی تربیت اور قوم کی بناوٹ تک بڑے جتن کیے جاتے ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی تک موٹیویشن لیکچرز، کونسلنگ دیئے جاتے ہیں۔ ٹریننگ کو لاکھوں روپے ادا کیئے جاتے ہیں، باوجود اس کے ہم ایک قوم نہیں سکے۔

میری سوچ، تجربہ اورمشاہدہ کے مطابق بچے کی بہترین پرورش کا آغاز ماں کی گود اور باپ کی شفقت سے شروع ہو جاتا ہے۔والدین کی پہلی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ جتنا انہوں نے اپنے معیار زندگی اور اسٹیٹس میں رہتے ہوئے سیکھا ہے وہ تو ان کو تربیت میں شامل کریں۔ اپنے اردگرد ماحول سے والدین جو سیکھتے ہیں اسے بھی اپنی اولاد کی تربیت میں شامل کرتے جائیں جہاں انہیں خود محسوس ہوتا وہاں بھی اپنے بچے کی پرورش میں اضافے کرتے جائیں ۔ جو چیز باہر کسی بھی جگہ غلط دیکھتے ہیں اس واقع کو اپنے انداز میں اپنے بچوں سے شیئر کری اور ساتھ نصیحت کریں کہ بچے آپ نے ایسا نہیں کرنا۔ اگر ہم سب اس امر کو اپنے پلوکے ساتھ باند ھ لیں تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا ایک سلجھا ہوا معاشرہ، منظم معاشرتی نظام اور ایک قوم بن جانے کا خواب پورا ہو گا۔ لیکن ہم سب کو اپنی اپنی جگہ پر رول ادا کرنا ہوگا۔ گھر سے با ہرسکول، کالج اور یونیورسٹی میں بچوں کو موٹیویشن اور کی انتہائی ضرورت ہے۔ میں گورنمنٹ آف پاکستان اور تمام تعلیمی اداروں سے ملتمس ہوں کہ ایک ایسا اصلاحی پروگرام تیار کیا جائے جسے ہر صورت گراس روٹ سے اوپر تک روزانہ کی بنیاد پر تربیتی شکل میں پڑھایا اور سمجھایا جائے انشاء اللہ ہماری قوم، انفرادی اور اجتماعی طور پر بے شمار برائیوں سے نجات پا کر ایک بہتری قوم اور بچوں کی پرورش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جب۔ قوم تیار ہو گئی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہونے روک نہیں سکتی۔ اس پر ذرا سوچیں ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو اچھی پرورش کے ساتھ ساتھ بہترین تعلیم و تربیت کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 118 Articles with 67960 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
10 Jul, 2019 Views: 586

Comments

آپ کی رائے