بیت المقدس کی فضیلت اور تاریخی پس منظر

(Mohammad Nadir Waseem, Bhakkar)

محل وقوع:
بیت المقدس یروشلم یا القدس شہر میں قائم اس عظیم الشان عمارت کا نام ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام سماوی مذاہب کے لیے مقدس ومحترم ہے۔یروشلم شہر 31 درجے 45 دقیقے عرض بلد شمالی اور 35 درجے 13 دقیقے طول بلد مشرقی پر موجودہ ملک فلسطین میں واقع ہے۔ زمانہ قدیم میں جس علاقے کو’’شام‘‘ کہاجاتاتھا، وہ لبنان ،فلسطین، اردن اور شام کی سرزمین پر مشتمل تھا۔مکہ مکرمہ سے اس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔
فضائل:
بیت المقدس کے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں بہت سےفضائل بیان ہو‍ ئے ہیں۔
1. یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔مسلمان سترہ ماہ اسکی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے۔
2. وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ (التین:1)یہاں اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کی قسم کھائی ہے،حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے’’والزیتون‘‘ کی تفسیر میں بعض مفسرین کایہ قول نقل کیاہے۔ هو مسجد بيت المقدس۔یعنی زیتون سے مراد بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ ہے۔
3. اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآن مجید میں اسے مبارک قرار دیا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں۔ ( الاسراء:1) یہ علاقہ انبیا کا مسکن ومدفن اور قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لیے اس کو بابرکت قرار دیا گیا۔
4. اس علاقے کواللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کی زبان سے مقدس کا وصف دیا۔ فرمان باری تعالی ہے: یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ کَتَبَ الله لَکُمْ یعنی اے میری قوم اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔(المائدۃ:21)
5. بیت المقدس محبط وحی اورانبیائے کرام کا وطن ہے۔ بنی اسرائیل کے مورث حضرت یعقوب عليه السلام کا مسکن بیت المقدس تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق سےہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے اسحاق علیہ السلام کو بیت المقدس میں جبکہ دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کومکہ میں آباد کیا جبکہ حضرت یعقوب ،حضرت یوسف ،حضرت داود، ،حضرت سلیمان ،حضرت یحییٰ اورحضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت اور بہت سے انبیاء نے اسی سرزمین پر تبلیغ کا کام شروع کیا۔
6. دوسری کسی بھی مسجد کی نسبت مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہےاور مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔
7. حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد کے علاوہ کسی اورکی طرف( زیادہ ثواب کے حصول کی خاطر)سفر نہیں کیا جاسکتا ، مسجد حرام ، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجداقصی۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر: 1132)
قیامت کی بعض نشانیوں کا ظہور:
قیامت کی بعض بڑی نشانیوں کا ظہور بھی اسی مقدس سر زمین پر ہوگا۔
1. حضرت امام مہدی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آل مبارک میں سے نیک اور صالح شخص ہونگے جو قیامت سے پہلے اسی سرزمین میں ظاہر ہونگے پھر بلاد اسلامیہ پر حکومت کریں گے اور وہاں شریعت اسلامیہ کو نافذ کریں گے۔ آپ کی وجہ سے دین سر بلند ہوگااور سچے مسلمان آپکی پیروی کریں گے۔ دجال کے قتل میں حضرت عیسی علیہ السلام کے معاون و مددگار ہونگے۔(حاکم، مستدرک: 558، احمد، مسند: 28،36,79، ابو یعلیٰ موصلی، مسند: 987)
2. اسی سر زمین میں دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نماز فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ عليه السلام امت مسلمہ کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔
3. یہ ایسی پاکیزہ سرزمین ہے جہاں پر دجال بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: وہ دجال حرم اوربیت المقدس کے علاوہ باقی ساری زمین میں گھومے گا ۔(مسنداحمد:19665) حضرت عیسی علیہ السلام دجال کوبیت المقدس کے قریب مقام لد میں قتل کریں گے۔جیسا کہ حدیث نبوی میں ﷺہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسی بن مریم علیہ السلام دجال کو لد میں قتل کریں گے۔یعنی دجال اور یاجوج وماجوج جیسے بڑے بڑے فتنے بھی اسی سرزمین سے ختم کیے جائیں گے۔
4. فتنہ یاجوج وماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب’’جبل الخمر‘‘ کے پا س ہوگی۔(صحیح مسلم:۲۹۳۷)
5. وقوع قیامت سے پہلےیمن سے نکلنے والی آگ لوگوں کو اسی بابرکت سرزمین کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور سب موٴمنین اس مقدس سرزمین میں جمع ہو جائیں گی اور پھر اس کے بعد جلدی ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔
تاریخی پس منظر:
جتنے بھی انبیاء اس دنیا میں تشریف لائے ہیں ان میں سے بیشتر کی پیدائش اور تبلیغ کا مرکز زیادہ تر بیت المقدس ہی رہاہے۔ سب سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق یہاں مسجد ( اقصٰی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے یہ شہر آباد ہوا۔ ایک روایت میں ہے حضور ﷺ سے سوال کیا گیا یا رسول اللہ! سب سے پہلی مسجد کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام، سوال ہوا اور دوسری؟ آپﷺ نے فرمایا: مسجد اقصی، پوچھا گیا ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:چالیس سال کا۔
اسے پیغمبروں کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو انکے بھائیوں نے بیت المقدس ہی کے گردو نواح میں کنویں میں ڈالا تھا۔حضرت یوشع بن نون کے لیے بیت المقدس کے مقام پر ہی سورج کو محبوس کیا گیا۔ حضرت سلیمان نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے دور حکومت میں یہاں ایک شان دار عبادت گاہ تعمیر کرائی جو تاریخ میں ''ہیکل سلیمانی" کے نام سے مشہور ہے۔اپنی شان و شوکت اور جاہ و شکوہ کے لحاظ سے یہ عمارت عجائبات عالم میں شمار ہوتی تھی۔قرآن مجید کے بیان کے مطابق اس کی بڑی بڑی محرابوں کی تعمیر کے لیے سلیمان علیہ السلام نے ان جنات سے بھی مدد لی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مسخر کر دیا تھا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم جب معراج پر تشریف لےگئے تو جبرائیل امین کے ہمراہ بیت المقدس پہنچے،وہاں آپﷺ کے استقبال کے لیے تمام انبیاءجمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے سب سے مصافحہ کیااور انکونماز پڑھائی اور پھر آسمانوں کی سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ مسلمان تحویل قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔لیکن آپﷺ کا جی چاہتا تھا کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں۔ کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں آیات نازل فرما کر یہ اجازت دے دی کہ آپﷺ کعبہ ہی کواپنا قبلہ بنا لیں۔گویا مدینہ منورہ میں مسلمانوں نے پہلے بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنایا تھا۔صحابہ کرام میں سے حضرت عمر، ابو عبیدہ بن جراح، مؤذن رسول حضرت بلال، ابو ذر غفاری، عبادہ بن صامت، تمیم الداری، عمرو بن العاص، سعد بن ابی وقاص، شداد بن اوس، ابن عباس، امیر معاویہ، ابن عمر وغیرہم رضی اللہ عنہم بیت المقدس میں تشریف لائے۔
خلافت راشدہ کے دور میں بیت المقدس کی فتح:
زمانہء خلافت راشدہ و ما بعد میں اسلام کو عروج ملا اسی زمانہ میں ارض فلسطین اور بیت المقدس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہء خلافت میں15 ہجری کو فتح ہوئے۔ حضرت عمر اپنی خلافت کے دوران چار دفعہ ملک شام تشریف لائے۔ عیسائیوں نے بیت المقدس میں ہی آپکے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا اور بیت المقدس کی چابیاں آپکے حوالے کیں۔جس کے بعد پانچ سو برس سے زیادہ عرصہ تک یہ مقدس سر زمین مسلمانوں کے قبضہء حکومت میں رہی۔
صلیبی جنگیں:
زمانہء خلافت راشدہ و ما بعد میں اسلام کو جو عروج ملا اس سےاسلام چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔اس دور کی پے درپے شکستوں کا انتقام لینے کے لیے عیسائیوں نے گیارویں صدی آخر سے لیکر تیرھویں صدی آخر تک خطہء عرب، ارض فلسطین اور بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرانے کیلیے مسلمانوں کے خلاف جنگیں لڑیں انہیں تاریخ عالم میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔انہی جنگوں میں ایک بار پھر عیسائی بیت المقدس کوفتح کرنے میں کا میاب ہوگئے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فتح:
بیت المقدس ایک بار پھر 583ھ بمطابق 1187ء میں ایوبی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ فتح بیت المقدس کے بعد صلاح الدین ایوبی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے عیسائیوں سے مسلمانوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لیا۔صلیبی جنگوں کی فتح عظیم کے بعد بیت المقدس پر تقریباً سات سو باسٹھ سال تک مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا ۔
یہودیوں کی سازشیں اور بیت المقدس پر قبضہ:
یہودی اپنی شرارتوں اور سازشوں کی بنا پر ہر دور میں نفرت و حقارت کا نشانہ بنتے رہے ہیں ہر ملک نے کبھی نہ کبھی ان کو اپنی حدود سے ضرور باہر نکال کیا ہے۔خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شرارتوں اور سازشوں کی وجہ سے انکو مدینہ منورہ سے جلاوطن کیا اور یہ خیبر میں جا بسے۔انکی یہ سازشیں اب بھی جاری ہیں انہی سازشوں کے نتیجے میں1948ء میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے اسلام دشمن ممالک کی عالمی سازش سے مسلم دنیا کے عین وسط میں فلسطین کے علاقہ میں یہودی ریاست قائم کر دی گئی۔ شہر مقدس اور قبلہ اول بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء میں یہودیوں نے تیسری عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس کے اس شہر پر خوفناک بم باری کی۔ مسجد اقصیٰ کا مرکزی دروازہ مسمار کردیا اور مسجد کا ایک مینار بھی شہید کردیا۔ جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے۔ جون 1967 کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے بیت المقدس کی عرب حیثیت کو ختم کرکے اسرائیل کا جزو قرار دے دیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔
21 اگست 1969ء کو دنیائے اسلام کا المناک ترین سانحہ پیش آیا اس روز ساڑھے تین گھنٹے تک مسجد اقصیٰ میں آگ بھڑکتی رہی۔مسجد کا ایک بڑا حصہ جل گیا اور سلطان صلاح الدین ایوبی کا یادگار منبر بھی جل کر راکھ ہوگیا۔سارے عالم اسلام میں غیض و غضب کی لہر دوڑ گئی لیکن تاحال مسجد اقصی ایک اور صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے جو اسے یہود کے شکنجہ سے آزاد کروا کر اسکی حرمت کو بحال کرے۔
اسرائیل کا دارالحکومت:
6دسمبر 2017ء کو امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کی حیثیت سے تسلیم کرلیا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ امریکی سفارت خانہ اگلے تین برس میں تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا جائے گا۔
اس بیت المقدس میں سوا تین لاکھ فلسطینی مسلمان آباد ہیں۔ ان میں صرف 59 فیصد کو پانی، عوامی ٹرانسپورٹ، سیوریج لائنوں اور دیگر سرکاری سہولیات حاصل ہیں۔ بقیہ ایک لاکھ چالیس ہزار فلسطینی گویا بے بس و مجبور عوام کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے ان پر ٹیکسوں کا انبار لاد رکھا ہے۔ ان تمام مصائب کی وجہ سے مشرقی بیت المقدس میں مقیم مسلمان رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مغربی کنارے جارہے ہیں۔ اسرائیلی حکمران طبقے نے بیت المقدس پر قبضے کا جو شاطرانہ اور ظالمانہ پلان تیار کیا ہے، اس میں اسے کامیابی ملتی نظر آتی ہے۔
لمحہ فکریہ:
مسلمانوں کے قبلۂ اول پر دشمنانِ اسلام نے نہ صرف زبردستی قبضہ کرلیا ہے بلکہ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دار الحکومت بھی بنا رکھا ہے اوراسے ایک غیر متنازعہ علاقہ قرار دلوانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ان حالات میں قبلہ اول بیت المقدس کے تقدس کا تحفظ اور اس کی آزادی پوری دنیا کے مسلمانوں پر فرض ہو چکی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام بیدار ہو اور قبلہ اول کو یہودیوں کے تسلط سے آزاد کروائے اور مقامات مقدسہ کو انکا جائز مقام دے۔لاکھوں مسلمان جو عراق، افغانستان، شام، چیچنیا، بوسنیا، کشمیر، برما اور فلسطین وغیرہ میں یہود و ہنود اور بدھ مت اور نصاری کے ہاتھوں ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ان کو آزادی دلوائیں جو کہ انکا بنیادی حق ہے۔یہ ہر مسلمان کا مذہبی اور بنیادی حق ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ انسانی حقوق چارٹر کے مطابق کسی بھی قوم کے مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انکو عبادت سے روکا جا سکتا ہے۔ اوآئی سی کا قیام بھی اسی لئے عمل میں آیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانا ہے اس مقصد کے لئے باقاعدہ طور پر القدس فنڈ اور القدس فورس کی منظور ی بھی دی گئی تھی ۔اب وقت آگیا ہے کہ القدس کی آزادی کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں ۔
جبکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ مسلم دنیا خصوصاً فلسطین کے پڑوسی عرب ممالک سیاسی ،سفارتی ،مالی اور معاشی اعتبار سے بھی فلسطین کا ساتھ دیں اور اسرائیل اور امریکہ کو مقبوضہ فلسطین کو آزاد کرنے پر مجبور کریں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Nadir Waseem

Read More Articles by Mohammad Nadir Waseem: 32 Articles with 39584 views »
I am student of MS (Hadith and its sciences). Want to become preacher of Islam and defend the allegations against Hadith and Sunnah... View More
10 Jul, 2019 Views: 858

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ