انسانی بےحسی

(Huda irfan, Karachi)

دور حاضر میں انسانی بے حسی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ ایک وقت تھا لوگ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف میں مدد کرنے کیلے آگے آگے رہتے تھے اظہار افسوس کرتے تھے اور اس کی تکلیف کم کرنے کی اپنی سی پوری پوری کوشش کرتے تھے۔

اب تو دل حیران اور دماغ پریشان ہو جاتا ہے اپنے اردگرد پھیلی بے حسی اور بے پرواہی دیکھ کر لگتا ہے جےسے لوگوں نے اپنے دلوں کو گزرے ہوےبادشاہوں فرعون اور نمرود سے بھی زیادہ سخت کر لے ہیں۔ہم مسلمانوں ایک دوسرے پرظلم ڈھانےپر ان ظا لم بادشاہوں کو بھی پیچھےچھوڑ جن کے ظلم وجبر کی داستانیں تاریخ میں لکھی گئیں۔

ایک دوسرے سے آگے اور مقابلے کی دور دھوپ میں ہم اپنی تربیت،معاشرت،مذھب،دین،ایمان،اخلاقیات سب بھول گے ہیں ہم اس دور میں لگ جانوروںسے بھی بد تر ہو گے ہیں مگر ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہورہا آخر کیوں؟؟؟

کل ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں دکھایا جا رہا ہے دو لوگ آگ میں بری طرح جل رہے ہیں۔اور کئ لوگ خاموش تماشائ بنے وہاں سے گزر رہے ہیں ۔ساتھ میں ویڈیو میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایک آدمی اوپر سے بجلی کی تاروں سے اٹک کر گرا جس کی وجہ سے آ گ لگی اور دوسرا بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔

کیا واقعی اس ویڈیو بنانے والے کی یہی ذمہ داری تھی کہ اس نے یہ سب دیکھا اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی۔کیوں اس نے آگ بجھانے کی کوشش نہیں کری؟؟ کیوں اس نےفوری ایمبولینس نہییں بلائ؟؟؟ آخر کیوں اس نے ان کو بچانے کی کوشش نہییں کری؟؟؟ کیوں؟؟؟ کیا اس کیوں کا جواب ہے کسی کے پاس؟؟؟

اور یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ہمیں آئے دن ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں آخر کیوں ہم اتنی بے حس اور ظا لم قوم ہو گئے ہیں کہ ایسے ظلم کرتے ہمارا دل نہیں لرزتا آخر کیوں ہمیں خوف خدا نہیں آتا۔ کیوں آخر کیوں؟؟؟

کبھی فرصت ملے تو اس بارے میں سوچئے گا ضرور ۔
شکریہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huda Irfan

Read More Articles by Huda Irfan: 3 Articles with 1653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2019 Views: 344

Comments

آپ کی رائے