دو قومی نظریہ اور اس کا مطلب

(Syed Muhammad Mansoor Ali, Multan)

دو قومی نظریے کا مطلب تب سمجھ نہیں آتا جب آپ ماضی کے گرد آلود اوراق کو چھان ماریں اور كسی ارسطو صفت مفکر کی طرح تخیل میں ڈوب جائیں ـ اس نظریے کا مطلب تب سمجھ آتا ہے جب ہزاروں کی تعداد میں دردندے بابری مسجد کے گنبد پہ چڑھ کر اس پہ ہتھوڑے برساتے ہیں ـ جب ایودھیا میں مسلمانوں پہ سرد کی چادر گرتی ہےـ جب ایک عمر رسیدہ شخص کی داڑھی کھینچی جاتی ہےـ جب تبریز انصاری سے جے شری رام بلوایا جاتا ہےـ جب آر ایس ایس کے گنڈے نمازیوں کے آگے پوجا پاٹ کرواتے ہیں ـ جب تین طلاق کا قانون راجیا سبھا میں پیش کیا جاتا ہےـ جب مسلمان ریاست ہونے کی وجہ سے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا جاتا ہے اور ہندو ریاستوں اسّام، سِکّم اور ناگا لینڈ کو خاص تشخص دیا جاتا ہےـ جب ہندوستان میں مسلمان کو کٹوا کہا جاتا ہےـ جب علیگڑھ یونیورسٹی سے جناح کی تصویر کو ہٹایا جاتا ہےـ جب اسلام کے قْل چوغہِ تطہیر کو گرایا جاتا ہے اور سب سے اہم.. جب اتر پردیش میں یوگی ادتھیاناھ کو جتایا جاتا ہےـ
آزادی کی قدر نہیں کرسکتے تو خدارا توہین کرنے سے بھی گریز کیا کریں ـ شکریہ ـ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Mansoor Ali

Read More Articles by Syed Muhammad Mansoor Ali: 3 Articles with 996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2019 Views: 204

Comments

آپ کی رائے