خلاصہء سورہ یونس

(Aalima Rabia Fatima, )

• آیت نمبر 1 تا 2 قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشرکین اس کو کھلا جادو کہا کرتے تھے۔
• آیت نمبر 3 تا 6 میں اللہ عزوجل کی عظمت اور اس کی قدرت کی دلائل بیان کی گئی ہیں۔
• آیت نمبر 7 تا 10 میں قیامت میں منکرین کی سزا اور مؤمنین کو دی جانے والی جزا کا ذکر ہے۔
• آیت نمبر 11 تا 14 میں انسان کی فطری خود غرضی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب مصیبت آن پڑے تو کروٹ کروٹ اللہ تبارک وتعالی کو یاد کرتے ہیں اور جب آسودگی ہو تو یکسر بھول جاتے ہیں۔۔
• آیت نمبر 15 تا 20 میں کفار کی بدترین حجت بندھی کا اور شرک کے آغاز کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 21 تا 24 میں انسان کی احسان فراموشی ، دنیا اور اسکی حقیقت کا بیان ہے۔
• آیت نمبر 25 تا 30 میں قیامت میں ملنے والی جزاء وسزا کا ذکر اور مشرکین اور معبودوں کے درمیان ہونے والی گفتگو، اور باطل معبودوں کا مشرکین کی گئی عبادات سے لاعلمی اور بیزاری کے اظہار کا بیان مذکور ہے۔
• آیت نمبر 31 تا 44 میں مشرکین سے قیامت میں اللہ کی قدرت کے حوالے سے کیے جانے والے سوالات کا ذکر ہے۔۔
• آیت نمبر 45 تا 60 میں اللہ تعالی کے مقتدر اعلی ہونے کا ذکر کیا گیا پھر مشرکین سے اجتناب کرنے اور مر کر مٹی ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آگے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منصب عظیم کا ذکر کیا گیا ہے پھر آگے حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھرانے والوں کی شدید مذمت کی گئی ہیں ۔
• آیت نمبر 61 تا 64 میں بتاگیا کہ ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز کا اللہ تبارک و تعالی ہی کو ہے آگے اولیاء اللہ کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ قیامت میں ان پر کسی قسم کا ڈر و خوف نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
• آیت نمبر 65 تا 70 میں بتایا گیا ہے کہ عزت صرف اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول کے لیے ہے – ساری مخلوق اللہ تبارک و تعالی کی ملکیت ہے ۔۔۔ آگے یہود و نصاری کے اس جھوٹ کا ذکر ہے جو وہ اللہ تبارک و تعالی کے بارے میں بولتے تھے کہ اس کی اولاد ہے۔۔
• آیت نمبر 71 تا 74 میں قصہ حضرت نوح علیہ السلام اور انکے بعد کے رسولوں کا ذکر موجود ہے۔
• آیت نمبر 75 تا 93 میں قصہء حضرت موسی علیہ السلام مع فرعوں بیان کیا گیا ہے۔
• ایت نمبر 98 میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 99 تا 103 میں اللہ تعالی کی حکمت کا ذکر کیا گیا ہے پھر آگے دعوت غور وفکر دی گئی ہے ، غور وفکر میں ہی نجات ہے۔
• آیت نمبر 104 تا 109 میں دین حنیف کی وضاحت اور اپنا منہ دین حنیف کی طرف سیدھا رکھنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ پھر اگے بتایا گیا کہ نافرمان صرف اپنا ہی نقصان کیا کرتا ہے۔۔
تعداد رکوع، آیات، کلمات، اور حروف:
11 رکوع، 109 آیات ، 1841 کلمات، 7425 حروف ہیں۔
وجہ تسمیہ:
اس سورت کی آیت نمبر 98 میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا قصہ مذکور ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سوره یونس رکھا گیا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 48 Articles with 26045 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2019 Views: 270

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ