فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
انسانی ذہن ہر وقت گردش میں رہتاہے کسی نہ کسی ایکٹویٹی میں مصروف ہی ہوتاہے ۔چنانچہ اس وجہ سے وہ اپنے زعم میں طرح طرح کے خیالات اور نظریے بنالیتاہے ۔پھر اس حوالے اس کے اثرات کو قبول بھی کرتاہے ۔میں اآج اآپ کو شگون کے حوالے سے کچھ حقاءق بتاوں گا۔۔
شگون؛ لُغت میں اِس کے معنیٰ ہیں : ’’اچھی یا بری فال نکالنا ‘‘۔غیر مسلم معاشرت کے اثرات کے تحت ہمارے ہاں نیک وبَد شُگون کی بہت سی روایات چلی آرہی ہیں ۔صَفرالمُظفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے، ظہورِ اسلام سے پہلے اہلِ عرب میں بھی اِس مہینے کے بارے میں بہت سی روایات موجود تھیں ،بعض لوگ اِس کی طرف بیماری یامالی نقصان یا مصیبتوں کے نزول کی بدشُگونی منسوب کرتے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے اِن تمام باتوں کی نفی فرمائی ،اِس حوالے سے کُتبِ احادیث میں متعدد روایات ہیں ۔
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ بدشُگونی کی کوئی حقیقت نہیں ،کوئی مرض اپنی ذات سے مُتعدی نہیں ہوتا،اُلّو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ستاروں (کی چالوں )کا انسانوں کی تقدیر میں کوئی دخل نہیںاور بھوت پریت کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔
قارءین!!
قرآن مجید میں بد شگونی کے معنیٰ میں ’ ’نَحس‘‘ اور ’’طِیَرَہ‘‘ کے کلمات آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ(۱۹)تَنْزِعُ النَّاسَۙ- كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ(پ،سورۃ القمر،آیت:۱۹تا۲۰)
ترجمہ:بےشک ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی ()لوگوں کو یوں دے مارتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے ڈنڈ(سوکھے تنے )ہیں۔
قرآن مجید فرقان حمید میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ(پ۲۴ سورہّ حم السجدہ ۔آیت ۱۶)
ترجمہ ٔ کنزالایمان : تو ہم نے اُن پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی(ف۳۸) اُن کی شامت کے دنوں میں کہ ہم اُنہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بےشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی۔
ناظرین: آئیے ایک اور قرآنی آیت ہم آپ کو بتاتے ہیں جس میں اس حوالے سے بیان کیاگیاہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ()
ترجمہ کنز الایمان : تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر) کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔
قرآن مجید کس قدر پیاری کتاب ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ ہماری اصلاح کی گئی ہے اور ہمیں guide کیا گیا ہے ۔کوئی زندگی کی گوشہ ایسا نہیں جس کے بارے میں اسلام نے ہماری رہنمائی نہ کی ہو۔
قارءین :ذراتوجہ اور غور سے تحریر پڑھیے گا بہت عرق ریزی سے یہ تحقیق خالصتا اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اآپ تک پہنچارہاہوں۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قومِ عادپر عذاب بدھ کے دِن آیاتھا اوروہ اِس دن کومنحوس کہتے تھے ،اس کی تفسیر میںعلامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں : ’’ میں کہتاہوں کہ تمام ایام برابر ہیں اور بدھ کا دن نحوست کے لیے خاص نہیں ہے ،یعنی اُن پر عذاب اُن کی سرکشی اوربغاوت کی وجہ سے آیانہ کہ بدھ کے دن کی وجہ سے ،اورہر گزرنے والی ساعت کسی شخص کے لیے اچھی اور مبارک ہوتی ہے اوروہی ساعت دوسرے شخص کے لیے بری اور منحوس ہوتی ہے اور ہر دن کسی شخص کے لیے خیر اور دوسرے شخص کے لیے شَر ہوتاہے،یعنی ایک ہی دِن کہیں جنازہ اٹھتاہے اورکہیں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں،پس نحوست یا ناخوشگوار ہونے کاتعلق زمانے سے نہیں ہوتا ،بلکہ افراد کے اعتبار سے ہوتاہے ۔
اگر کسی شخص پر عذاب یا کوئی مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے بدھ کا دن منحوس ہے تو ہردن بلکہ ہرساعت میں کسی نہ کسی شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت اوربلا نازل ہوتی ہے ،تواِس طرح توتمام ساعتیں سَعد یا نحس قرار پائیں گی ۔(روح المعانی ، جلد 27، ص:86)‘‘۔
جب صلح حدیبیہ کے موقع پر سہیل بن عمروقریشِ مکہ کے نمائندے کے طورپر مذاکرات کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے اُس کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے فرمایا:’’ اللہ نے تمہارا کام آسان کردیا ہے ‘‘،کیونکہ سہیل کا مادّہ ’’سہل ‘‘ ہے اوراس کے معنی ہیں :آسانی ۔اِسی طرح رسول اللہ ﷺ کے سفرِ ہجرت کے موقع پر کفارِ مکہ نے آپ کو گرفتارکرنے والے کے لیے سو اونٹ کا انعام مقرر کیا ،بُرَیدہ انعام کی لالچ میں قریش کے 70شہسواروں کے ساتھ روانہ ہوااور راستے میںآپ تک جا پہنچا۔آپ ﷺ نے پوچھا:تم کون ہو؟،اُس نے کہا: بُرَیدہ،آپ نے اپنے رفیق سفر حضرت ابوبکر کی طرف مُتوجہ ہوکر فرمایا: ہمارے معاملے میں ٹھنڈک مقدر ہوگئی ،پھر آپ نے اُس سے پوچھا : تمہارا خاندان کیاہے ؟،اُس نے کہا:’’اسلم‘‘ ،اِس پرآپ ﷺ نے فرمایا:ہمیں سلامتی مل گئی ‘‘(کیونکہ اسلم کا مادّہ’’ سَلْم ‘‘بمعنیٰ سلامتی ہے)،پھرآپ ﷺنے پوچھا : تمہارا قبیلہ کیا ہے؟،اُس نے جواب دیا : بنوسہم ،آپ ﷺنے فرمایا: تمہارا تیر نکل گیا (سہم کے معنیٰ ہیں :تیر)،چنانچہ بُرَیدہ اور اُن کے سب ساتھی اسلام لے آئے ،(سُبُل الھدی والرشاد ،جلد9،ص:356)‘‘۔
پیارے سوشل میڈیا کے دوستو!!!
رسول اللہ ﷺ اچھے ناموں کو پسندفرماتے تھے اور بعض مواقع پر ناموں کو تبدیل فرمایا ۔آپ نے ’’بَرّہ‘‘ نام کو تبدیل کرکے زینب اور جویریہ رکھا ، اَصرم کو بدل کر زُرعہ رکھا ۔اِسی طرح آپ ﷺ نے ’’عاص،عزیز ،عَتَلہ ،غُراب ،حُباب اور شِہاب‘‘ ناموں کو بھی بدلا ۔سعید بن مُسیّب نے بتایاکہ اُن کے دادا کا نام ’’حَزن‘‘ تھا ،وہ حضور کے پاس آئے ،آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا نام سَہل ہے ،اُنہوں نے کہا : میں اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام کو نہیں بدلوں گا، چنانچہ اِسی کا اثرہے ہمارے خاندان کے مزاج میں سختی چلی آرہی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ ’’صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘،اِس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اِس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اِس مہینے میں شادی نہیں کرتے ،شریعت کی رُوسے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں ۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا : صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہ ﷺ صحت یاب ہوئے تھے ،لہٰذا وہ اِس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں ،بعض لوگ اِس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں ۔ اُنہوں نے جواب دیا :آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ،بلکہ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا ،اُس کاآغاز صفر 11؁ھ کے آخری بدھ کے دن ہواتھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کایہ فرمان کہ’’ ستارے کی کوئی اصل نہیں ‘‘،اِس کے معنی ہیں: بعض نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یااُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے یا یہ کہ فلاں کا ستارہ یہ ہے اور برج یہ ہے اور اُس کا دن یاسال اِس طرح گزرے گا ،یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیںڈاکٹراقبال نے کہاہے:
ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبردے گا؟
وہ خود فراخیٔ ِ افلاک میں ہے ،خوار وزبوں
یعنی جوستارہ اپنی مرضی سے حرکت نہیں کرسکتا،وہ خود قادرِ مُطلق کے حکم کا پابندہے اور اُس کی مجال نہیں کہ اُس کے حکم سے ’’بدفالی شرک ہے‘‘، اس حدیث کی شرح میں علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ’’اگر کسی نے یہ اعتقاد کیا کہ حصولِ نفع یا دفعِ ضرر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل مؤثر ہے تو یہ شرکِ جلی ہے ،آپ نے اس کو شرک اس لیے فرمایاکہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے، وہ مصیبت کے لزوم میں مؤثر ہے اور بالعموم ان اسباب کا لحاظ کرنا شرکِ خفی ہے ،خصوصاً جب اس کے ساتھ جہالت اور سوئے اعتقاد بھی ہو ،تو اس کا شرکِ خفی ہونا اور بھی واضح ہے، (مرقاۃ المفاتیح،ج:9،ص:6)‘‘۔
تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کوئی دن نامسعود اور نامبارک نہیں ہے ،اسی طرح تمام انسان اور اشیاء اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیز منحوس نہیں ہے اور حوادث، آفات، بلائوں اور مصائب کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے۔ بیماریوں ،آفتوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا تعلق تکوین اور تقدیر سے ہے، دن اور کسی شئے کا کسی شر کے حدوث اور کسی آفت کے نزول میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے ،ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس!اسی لیے کسی بھی جائز اور صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اور کوئی چیز منحوس، نامسعود اور نامبارک نہیں ہے، (شرح صحیح مسلم،ج:7،ص:613)‘‘
قارءین :ہم بار بار اصلاحی و فلاحی موضوع اآپ تک پہنچاتے ہیں کسی شہرت ،نیک نامی ،مالی منفعت کی وجہ سے نہیں صرف و صرف اآپ کی اور اپنی اصلاح کے لیے ۔اس بے راہ روی کے شکار انسانی کی بہتری کے لیے ۔اس معاشرے کی بقا کے لیے ۔جب ہم یہ کوشش کررہے ہیں تواآپ بھی اس سفر میں ہمارے دست راست بنیں ۔اآپ جہاں کہیں بھی ہیں ان اچھی باتوں کو دوسروں تک پہنچاءیں ۔ہمارا عزم شعور کی بیدار درست سمت کا تعین اور روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی
نوٹ:قارءین :ہماراعز م ہے کہ اآپ تک سچ اور وہ بھی درست انداز میں پہنچاءیں ۔ان دنوں ہم فطرت اور قدرت کے مظاہر کے حوالے سے ایک کمپین میں مصروف ہیں ۔ہم چاہتے ہیں ۔ہم فطرت و قدرت کے مظاہر کو جانیں بھی اور ان کو بہتر انداز میں اپنی زندگی میں راءج بحی کریں ۔۔۔چنانچہ اس کی ایک کڑی @hos1011ہے ۔اآپ فیس بک پر ہمارا یہ پیج ضرور وزٹ کریں ۔۔رب نے چاہا تو اآپ کو نہ صرف مفید اور دلچسپ معلومات ملے گی ۔بلکہ دعا بھی ضرور دیں گے ۔۔۔ہم سے رابطہ کے لیے اآپ رابطہ نمبر: 03462914283
وٹس ایپ :03112268353یا پھر اآپ ہمیں ای میل کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ نگہبان

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 177 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 235 Articles with 222473 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ