شادی نہیں ہوئی؟

(Saba Naz, )

اپنی خوراک پر ہلکا ہاتھ رکھو موٹی ہوگی تو شادی نہیں ہوگی۔
چہرہ پر کچھ کروا لو لڑکی ورنہ آج کے دور میں کالی پیلی کو کوئی نہیں پوچھتا ۔
تمہارے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے ، اب کیا آسمان سے شہزادہ آئے گا؟
بالوں میں چاندنی چھا رہی ہے ، آخر کب کرو گی شادی؟

آج اتنے عرصے بعد تمہیں دیکھا ، یار تم تو بالکل نہیں بدلی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ پیاری ہوگئی ہو ماشااﷲ لیکن یہ تو بتاؤ ۔۔۔ اب تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟

ایسی یا اس سے ملتی جلتی باتیں کبھی نہ کبھی آپ کے کانوں سے ضرور ٹکرائی ہونگی کیونکہ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں آپ کچھ کریں یا نہ کریں لیکن شادی ضرور کریں ورنہ ایسے ہی کئی طعنوں کے ملبے تلے دبتے چلے جاتے ہیں ۔ اکثر اوقات ہم مذاق ہی مذاق میں یہ سب کہہ جاتے ہیں اپنے بچوں سے، اپنے بہن بھائیوں سے، اپنے دوستوں سے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری کہی ہوئی بات آگے والے کے لیے تکلیف دہ تو نہیں ؟ کیونکہ قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے، شاید اس میں ہماری بھی کوئی غلطی نہیں کیوں کہ ہم تو وہی سب دہرارہے جو دیکھتے چلے آرہے۔

کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہمارے اس عمل سے اس انسان کی شخصیت پر منفی اثرات رونما ہوسکتے ہیں ؟ بالخصوص موجودہ دور میں لڑکیوں کو ایسی باتیں نفسیاتی مریض بنا رہی ہیں ۔ کم عمری میں ہی وہ کسی فینٹیسی ورلڈ میں پہنچی ہوتی ہیں کہ گھوڑے میں بیٹھا ایک ہیرو آئے گا اور انہیں لے جائے گا لیکن ان معصوموں کو اب کون بتائے اصل زندگی میں ہیرو کم زیرو زیادہ ملتے ہیں اور پھر اسی زیرو سے کام چلانا پڑتا ہے کبھی اپنی غرض کے لیے، کبھی ترس کھا کر تو کبھی مجبوری کے نام پر ۔

لڑکی کے لیے شادی کیوں ضروری ہے؟ ماں باپ کی نظر سے ہم مر گئے تو ہمارے بعد تمہارا کیا ہوگا؟ بھائیوں کی نظر سے تمہاری شادی ہوگی تو ہماری باری آئے گی ، اور تو اور دو دن کی آئی ہوئی بھابھی کو اپنی نندوں کی شادی فکر ہونے لگتی ہے شاید یہ سوچ یہ لڑکی جائے گی تو سکون ہوگا۔۔۔ہاہاہا، ان سب سے بڑھ کر آپ کے دوستوں کو بھی آپ کی شادی کی بریانی کھانے میں بہت زیادہ دلچپسی ہوتی ہے۔ آج لڑکیاں ہر شعبہ حیات ِ زندگی سے منسلک ہیں اور ہر وہ کام کر رہی ہیں جو کبھی عورت کے لیے ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن پھر بھی ہماری سوچ اس بات پر بضد کیوں ہے کہ ایک عورت مرد کے بغیر نہیں رہ سکتی ؟

شادی سنتِ رسول ہے لیکن شادی کے لیے لڑکیوں کو مسلسل دباؤ میں ڈالنا یہ کہاں کی انسانیت ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ آج لڑکیاں شادی کرنانہیں چاہتیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ شادی کے نام پر کمانے والے پیدا ہوگئے ہیں ، پھر چاہے وہ لڑکے والے ہوں یا رشتہ لگانے والے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں لیکن بعض اوقات کسی نہ کسی بنا رشتہ نہیں ہو پاتا اور ایسے میں لڑکیاں ذہنی جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کی شخصیت میں چرچراہٹ رونما ہونے لگتی ہے جو زرا زرا سی باتوں پر منہ کھول کر ہنستی تھیں وہی ہر بات کیڑے نکلنے لگتی ہیں جو ایک فطری عمل ہے جس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہوتی لیکن وہ سب کی نظروں میں بُری بن جاتی ہیں ۔ کیا اس کے ذمہ دار ہم اور آپ نہیں ؟ کیوں ایسے وقت میں جب ہمیں لڑکیوں کو ذہنی پریشانی سے باہر نکلنا چاہیے ہم ان سے یہ پوچھتے ہیں کہ اب تک شادی کیوں نہیں کی؟ شادی وقتِ مقرر ہو ہی جائے گی اگر نہ ہوئی تو بھی عورت اکیلے زندگی گزار سکتی ہے ، کیونکہ آپ سب نے ایسی عورتوں کو بھی دیکھا ہوگا جو بیچاریاں شادی کا تمغہ تو اپنے سر پر سجا لیتی ہیں لیکن ان کی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی ۔

بنا شادی کے زندگی کیسے گزر رہی ہے اس سوال کے بجائے اگر ہم ان لڑکیوں کے ذہنوں میں یہ بات پیدا کریں کہ تم کسی بیٹے سے کم نہیں ، تم کسی بھائی سے پیچھے نہیں ، شادی نہیں ہوئی تو کیا ہوا یار ہم ہیں ناں ساری زندگی تمہارے نخرے اٹھانے والے ۔ شادی کے لیے خود کو ہرگز نہ بدلیں بلکہ اپنی شخصیت کو پرکشش بنانے کے لیے مثبت تبدیلی لائیں ، زندگی کے خوبصورت نظاروں کا لطف اٹھائیں ، اچھے دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں ، فلاحی کاموں میں دلچپسی لیں ، غرض ہر وہ کام کریں جس سے آپ کو سکون ملے محض اس لیے نہیں کہ آپ شادی کے نام سے بھاگ رہے بلکہ اس لیے یہ آپ کی زندگی ہے بہتر ہے پچھتاوے کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے خوش دلی کے ساتھ بسر کریں۔ کیا اب بھی آپ کسی سے پوچھیں گے شادی کیوں نہیں ہوئی؟ امید ہے پوچھیں گے کیونکہ ہم وہی کام کرتے ہیں جس سے ہمیں روکا جائے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 536 Print Article Print
About the Author: Saba Naz

Read More Articles by Saba Naz: 13 Articles with 5780 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

excellent description. Well done. arise questions is pinpoint of alive societies. Excellent description of inner voice of heart & Soul .
By: shah Nawaz Bokhari, Rawalpindi on Nov, 15 2019
Reply Reply
0 Like
Language: