آزاد میڈیا اور انٹر نیشنل کبڈی میچ

(Saif Ali Adeel, Hafizabad)
نوجوان نسل کو بچانے کیلئے کو مشعل آزاد میڈیا نے اپنے ہاتھوں میں لی اسے ضرور روشن کیا جائے گا کھیل صحت مند زندگی کے حصول کیلئے بنیادی ضروری ہے کھیل ہماری ذہنی اور جسمانی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے

ایک صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ رکھتا ہے،کھیلوں کے میدان آباد نہ ہونے سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے اور اپنی نسل کو بچانے کیلئے کھیلوں کا فروغ ضروری ہے ،کھیلوں کے شعبے کی قومی ترجیحات میں کمی سے نہ صرف ہماری کامیابیوں کا سفر رک گیا بلکہ ملک میں منفی رجحانات نے بھی فروغ پایا ، تاریخ گواہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں وہی قومیں ترقی اور عروج کی منزل پر پہنچیں جن کے کھیل کے میدان آباد تھے کیونکہ یہ کھیل کے میدان ہی ہیں جو نوجوانوں کی توجہ مثبت سرگرمیوں کی طرف مبذول کروا کے ان کی صلاحیتوں کو نکھارتے اور پروان چڑھاتے ہیں۔اس کے مقابلے میں جن قوموں کی توجہ اس طرح کی مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف نہیں ہوتی،ان ملکوں میں کھیل کے میدان ویران ہو جاتے ہیں اور نوجوانوں کی صلاحیتیں تعمیر کے بجائے تخریب کی طرف مبذول ہو جاتی ہیں،پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔پاکستان ایک زمانے میں کھیلوں کی دنیا پر چھایا ہوا تھا کھیلوں میں ہمارے کھلاڑی دنیا بھر میں ناقابلِ تسخیر تھے،کھیلوں کے میدان آباد کرکے ملک سے جہالت اور تنگ نظری جیسی برائیوں کا خاتمہ اور صحت مند انہ سرگرمیوں کو فروغ دے کر وطنِ عزیز کی ترقی اور نیک نامی کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے ،جس ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں ہسپتال غیر آباد ہوتے ہیں، کھیل اور ورزش جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں، جسم مضبوط ہو گا تو دماغ بھی صحت مند اور توانا ہو گا جس کی وجہ سے انسان کی سوچ مثبت ہو گی اور وہ معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کرے گا،کھیل نہ ہونے سے بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔تدریسی اداروں کا اپنے علاقوں میں کھیلوں کے فروغ میں بڑی حد تک کردار رہا ہے لیکن اب ان اداروں نے کھیلوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف تعلیمی نتائج تک محدود کر دیا ہے، کھیلوں کے میدان غیر آباد ہونے کی سب سے بڑی وجہ تو موبائل فونز اور لیپ ٹاپز پر سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہے۔دس، پندرہ سال پہلے اکثر نوجوان اور بچے سکول اور کالج سے واپسی پر گرانڈ چلے جاتے تھے اور سورج غروب تک کھیلتے تھے۔ چھٹی کا دن بھی کسی نا کسی کھیل میں گزرتا تھا لیکن اب چھٹی کا دن انٹرنیٹ پر ہی گزرتا ہے اور ایسے حالات میں آزاد میڈیا گروپ نے کبڈی جیسے کھیل کا انعقاد کر کے جہاں نوجوان نسل کے دل جیت لئے بلکہ شہر میں ایک مثبت کھیل کے فروغ کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے گئے آزاد میڈیا کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آئندہ کھیلوں جیسی مثبت سرگومیوں کو فروغ دیا جا تا رہے نوجوان نسل کو بچانے کیلئے کو مشعل آزاد میڈیا نے اپنے ہاتھوں میں لی اسے ضرور روشن کیا جائے گا کھیل صحت مند زندگی کے حصول کیلئے بنیادی ضروری ہے کھیل ہماری ذہنی اور جسمانی نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے ۔ کھیلنے سے دماغ تر وتازہ ہوتا ہے اور ایسی قائدانہ صلاحیتوں کو ابھارتا ہے جو کوئی اور چیز نہیں ابھار سکتی ۔ جیسے کہ کہا جاتا ہے اگر کھیل نہ ہو تو ہمارا جسم بالکل لاغر و کمزور ہو جاتا ہے ۔ بہت سی بیماریاں اس کو گھیر لیتی ہیں اور وہ جلد بڑھاپے کی طرف بڑھنا شروع کر دیتاہے ۔ اور اس کی خود اعتمادی لڑکھڑانے لگتی ہے ۔ کھیل خواہ کسی بھی قسم کے ہوں انسانی نشونما پر اثر ڈالتے ہیں ۔کھیل سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی قابلیت بھی ابھرتی ہے کرکٹ، فٹ بال ، باسکٹ بال ، والی بال کبڈی، مختلف قسم کی دوڑیں ، ٹینس اور بیڈمنٹن وغیرہ سرِ فہرست ہیں ، جو ہمارے جسم کو چست ، لچکدار اور پھرتیلا بناتے ہیں ۔ جو بچہ فزیکل فیٹنس کے اصول سے واقف ہو وہ خود کو ہر کھیل کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔ اور اس سے اس کی انفرادی اور اجتمائی طور پر کام کرنے کی صلاحیت بھی ظاہر ہو تی ہے ۔ کھیل کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آزاد میڈیا نے بھی اس میدان میں قدم رکھ دیا ہے آج بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کھیل صرف وقت کا ضاع ہے یا پھر فارغ وقت گزارنے کا ذریعہ ہے ۔ یہ لوگ بچوں کو صرف تعلیم پر زور دینے کیلئے مجبور کرتے ہیں کیونکہ شاید یہ لوگ کھیلوں کی اہمیت اور ان کے بے شمار فوائد سے انجان ہیں ۔ جبکہ کھیل انسان کی شخصیت کو سنوارنے میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ کھیل کود سے انسان میں فرماں برداری ، تحمل مزاجی ، صبر ، انتظام اور قوتِ برداشت بڑھتی ہے ۔ انسان اتفاقِ رائے سے کام کرنا اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا سیکھ جاتا ہے ۔ اور اس میں دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے اسے شکست دینے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ ہر کھیل کے اپنے قوائد و ضوابط ہوتے ہیں جو کہ کھلاڑی کو نظم و ضبط کا پابند بناتے ہیں ۔ کھیل کے دوران جب کھلاڑی ناکام ہو جائے تو وہ ہمت نہیں ہارتا اور ناہی غصہ یا ناراض ہوتا ہے ۔ کیونکہ ایک کھلاڑی بخوبی جانتا ہے کہ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے آزاد میڈیا گروپ، کبڈی شان پنجابیاں دی کے زیر اہتمام حافظ آباد اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل کبڈی میچ کا انعقاد جیتنے والی ٹیم کو 1لاکھ روپے کیش اور ٹرافی انعام دیا گیا جبکہ رنر ٹیم کو70ہزار روپے اور ٹرافی دی گئی ،ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی اور ڈپٹی کمشنر حافظ آباد نویدشہزادمرزااور رائے غضنفر علی کھرل، مہر رضوان محمود جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف حافظ آباد ،جنرل سیکرٹری پریس کلب گلزار حسین چوہان و دیگر نے دونوں ٹیموں میں انعامات تقسیم کئے بین الاقوامی شہرت یافتہ کبڈی کے ستارے ماناجٹ،مشرف جنجوعہ کبڈی کھیلنے آئے تو حافظ آبادمیں ان کا پھولوں سے استقبال کیا گیا ، حافظ آباد کے شہری بین الاقوامی شہرت یافتہ، ملکی سطح کے کھلاڑیوں کی ٹیموں کا دلچسپ ٹاکرا دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں حافظ آباد اسٹیڈیم جمع ہو گئے ۔شہریوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھاکانٹے دار مقابلے کے بعد رائل کبڈی کلب نے بندیشہ کبڈی کلب کو ہرا دیا، منشیات کیخلاف عملی جہاد کرتے ہوئے کھیلوں کے گرانڈ آباد کر کے آزاد میڈیا گروپ حافظ آباد،کبڈی شان پنجابیاں دی کی جانب سے پاکستان کبڈی کی دو نامور ٹیموں،رائل کنگ کبڈی کلب بمقابلہ بندیشہ کبڈی کلب کے درمیان میونسپل سٹیڈیم حافظ آباد میں کبڈی میچ کا انعقادکروایا گیا ، رائل کنگ کبڈی کلب نے بندیشہ کبڈی کلب کو چت کر کے ایک لاکھ روپے نقد اور ٹرافی اپنے نام کر لی ، میچ میں ڈی پی او، ڈی سی حافظ آباد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور آزاد میڈیا گروپ کے ممبران کو کامیاب کبڈی میچ کروانے پر مبارکباد بھی دی۔میونسپل اسٹیڈیم حافظ آباد میں آزاد میڈیا گروپ، کبڈی شان پنجابیاں دی(امجد شبیر،مرزاصغیرجرال) کے زیر اہتمام زبردست کبڈی میچ کروایا گیا،جس میں پاکستان بھر سے نیشنل و انٹر نیشنل کھلاڑیوں نے بھر پور شرکت کی۔فائنل میچ میں رائل کنگ کبڈی کلب ٹیم نے بندیشہ کبڈی کلب ٹیم کو دلچسپ مقابلے کے بعد ہرا کر ایک لاکھ روپے نقد اور ٹرافی اپنے نام کی ۔آزادمیڈیاگروپ حافظ آباد ،کبڈی شان پنجابیاں دی کی جانب سے رنراپ بندیشہ کبڈی کلب کی ٹیم کو بھی 70ہزار روپے نقد کیش انعام دیاگیا۔کبڈی میچ کیلئے خواجہ محمد عامر کی جانب سے خصوصی تعاون کیا گیا ،۔مہمان خصوصی میں ڈی پی او حافظ آباد ساجدمحمود کیانی ،ڈی سی حافظ آبادنویدشہزادمرزا ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رہنما مہر محمد رضوان،سید حسنین شاہ،مرزاصغیراحمدجرال(سعودی عرب)آزاد میڈیا گروپ حافظ آباد و ڈسٹرکٹ پریس کلب حافظ آباد کے چئیر مین رائے غضنفر کھرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس طرح کی سرگرمیوں سے معاشرے میں مثبت سر گرمیوں کوفروغ دینا ہمارا مشن ہے آزاد میڈ یا گروپ کے جنرل سیکرٹری گلزار حسین چوہان نے کہا کہ ہم اپنے کھیل کے میدان آباد کر کے کبڈی جیسے کھیلوں کو فروغ دے کر اپنے نوجوانوں کومنشیات سے بچا سکتے ہیں اس سے پنجاب کلچر دی شان کبڈی کھیل کو مزید فروغ ملے گاقوموں کی عظمت اور شناخت بھی کھیلوں سے منسلک ہے ۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کھیل نا صرف انسان کی ذاتی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ملک کی خوشحالی اور ترقی میں بھی ایک خاص حیثیت رکھتا ہے ۔ اور تو اور کھیل وقت کا ضیاع نہیں بلکہ یہ وہ وقت ہے جو انسان کی مصروفیت بھری زندگی کو خوشگوار بنا تا ہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 419 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saif Ali Adeel

Read More Articles by Saif Ali Adeel: 13 Articles with 4067 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: