نبی خدا حضرت الیاسؑ

(Musab Ghaznavi, )

حضرت الیاس ؑبنی اسرائیل پر مبعوث ہوئے، آپ کی آمد مورخین 850 سے 875 قبل مسیح لکھتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑجلعاد کے رہنے والے تھے، موجودہ دور میں جلعاد ریاست اردن میں ہے جو کہ دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ حضرت الیاس ؑکا ذکر قرآن پاک میں دو مقامات پر کیا گیا ہے، ایک مقام سورۃ الانعام میں اور دوسرا مقام سورۃ الصافات میں ہے۔ حضرت الیاس ؑنے اپنے جدامجد حضرت ابراہیم ؑخلیل اﷲ کی طرح پتھروں کے بتوں کے ساتھ ساتھ ایوان اقتدار میں بیٹھے بتوں کو بھی للکارا۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑنے بتوں اور مورتوں کی اصلیت اپنی قوم کے سامنے آشکار کی اور پھر خود ساختہ خدا نمرود جو کہ اس وقت ایوان اقتدار کا سب سے بڑا بت تھا اسے للکارا۔ بالکل اسی طرح حضرت الیاس ؑنے اپنے دور کے بتوں کی اصلیت بنی اسرائیل پر واضح کی، اور انہیں سمجھایا کہ بت کسی بھی طرح نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ حضرت الیاس ؑکا ذکر بائبل میں بھی ملتا ہے۔

حضرت سلیمان ؑکی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی نااہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک حصہ جو کہ فلسطین کے جنوبی علاقہ جات اور بیت المقدس پر مشتمل تھی، باقی شمالی ریاست میں ایک مستقل ریاست کا قیام عمل میں آیا جس کا نام اسرائیل رکھا گیا۔ جنوبی فلسطین اور بیت المقدس کا علاقہ آل داؤد کے قبضے میں رہا۔ مگر دوسرے علاقے اسرائیل میں حالات اس قدر بگڑے کے شرک و کفر، بت پرستی اور ظلم نے اس قدر پنجے گاڑے کہ اس کا اثر بہت وسیع پیمانے تک پھیل گیا ۔اور پھر جب ریاست اسرائیل کے بادشاہ نے صیدا( موجودہ لبنان) کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی تو یہ بگاڑ اپنی انتہا کو چھونے لگا۔ کیونکہ ریاست صیدا کی شہزادی انتہائی مشرک خاتون تھی، اپنی بیوی کے اثر میں آکر اسرائیل کے بادشاہ نے بت پرستی کو بڑے پیمانے پر پھیلا دیا اور خود بھی مشرک ہوگیا۔ اس وقت کا سب سے بڑا بت بعل تھا، بادشاہ اسرائیل نے بعل پرستی کو طاقت کے بل بوتے پر پھیلانے کا بھرپور انتظام کیا۔ اور ہر شہر میں بعل کے نام کے مذبح خانے تعمیر کروائے، اور ہر ایک شہر میں بتوں کے نام پر قربانیاں ایک بڑے پیمانے پر کروائی گئیں۔ اور لوگوں کو اس گناہ کو اپنانے کا شاہی حکم بھی جاری کیا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب حضرت الیاس ؑمنظرعام پر آئے اور انہوں نے کھل کر لوگوں کو بت پرستی سے منع کیا۔ اور خدائے واحد کی پرستش کی جانب دعوت دی۔ اور حضرت الیاس نے با دشاہ کو بھی اس قبیح گناہ کے بارے میں انتہائی خطرناک انجام سے دوچار ہونے سے خبردارکیا، اس بدترین جرم اور گناہ پر رب کریم کے غضب سے ڈرایا اور آگاہ کیا۔ حضرت الیاس ؑنے بادشاہ وقت کو کہا کہ اگر وہ اپنے قبیح فعل سے باز نہ آیا تو عنقریب ان گناہوں کی وجہ سے ملک اسرائیل پر بارش کا ایک قطرہ تک نہ برسے گا، یہاں تک کہ اوس بھی نہ پڑے گی۔ مگر شاہ اسرائیل نے اس بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ اور حضرت الیاس ؑکی بات کو ذرا برابر بھی حقیقت نہ مانا۔ مگر پھر نبی خدا کی کہی ہوئی بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی، اور تقریبا تین سے چار سال تک اسرائیل پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسا۔ آخرکار بادشاہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس ؑکو تلاش کرنے کے لئے اپنے لوگوں کو ادھر ُادھر بھگایا ۔کہ آپ ؑکو ڈھونڈ کر لایا جائے چنانچہ وہ حضرت الیاس ؑکی تلاش میں نکلے اور آپ کو ڈھونڈ کر سارا ماجرا بیان کیا ،اور ساتھ چلنے کی درخواست کی تاکہ حضرت الیاس ؑساتھ چل کر رب کریم سے بارش کی دعا کریں۔
حضرت الیاس ؑجب اسرائیل کے بادشاہ کے سامنے آئے تو اس نے آپ سے دعا کرنے کی درخواست کی ۔تو اس وقت حضرت الیاس ؑنے یہ بات ضروری سمجھی کے بارش کی دعا سے قبل لوگوں کو اور بادشاہ کو رب ذوالجلال اور بعل بت میں جو کہ خود ساختہ ہے فرق سمجھانے کا ایک طریقہ اپنایا جائے ۔چناچہ انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ ایک مجمع عام بلایا جائے اور اس میں بعل بت کے پجاریوں کو بھی بلایا جائے اور پھر اس مجمع عام کے سامنے وہ پجاری اپنے معبود بعل کے نام پر قربانی کریں، اور میں اپنے معبود رب ذوالجلال کے نام پر قربانی کروں گا۔ اور پھر اس قربانی میں سے جو بھی قربانی بنا کسی انسانی آگ لگائے خودبخود جل کر بھسم ہو جائے اس کے معبود کو سچ تسلیم کر لیا جائے۔ یہ بات بادشاہ نے تسلیم کرلی، اورپھر ایک بہت بڑا مجمع اور بعل کے800 سے زائد پجاریوں کو کوہ کرمل پر جمع کیا گیا۔ اور پھر حضرت الیاس ؑنے رب کریم کے معجزہ سے یہ ثابت کردکھایا کہ بعل بت جھوٹا خدا اور صرف ایک پتھر کی مورتی ہے ،اور کچھ نہیں ہے۔ وہ کسی کو نفع و نقصان پہنچانے کا متحمل نہیں ہے۔ خدائی کے لائق ذات صرف اور صرف رب واحد کی ذات ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی ذات عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی ۔پھر حضرت الیاسؑ نے کہا کہ اس کے بعد تمام بعل بت کے پجاریوں کو قتل کر دیا جائے ،اور پھر حضرت الیاس ؑنے تمام پجاریوں کو قتل کروا ڈالا۔ اور پھر حضرت الیاس ؑنے بھرے مجمع میں رب ذوالجلال سے بارش کی دعا کی، اس دعا کا ہونا تھا کہ رب کریم نے دعا کو قبولیت سے نوازا اور پھر اس قدر بارش ہوئی کہ جس سے پورا اسرائیل بارش کے پانی سے سیراب ہوگیا۔

مگر یہ سب معجزات دیکھ کر بھی بادشاہ اسرائیل نہ بدلا کیونکہ وہ انتہائی زیادہ رن مرید ہو چکا تھا۔ وہ پہلے سے بھی بڑھ کر اپنی بیوی کے شکنجے میں پھنس گیا، اس کی بیوی اس واقعہ کے بعد حضرت الیاس کی جان کی سخت دشمن ہوگئی۔ اس نے اس بات کی قسم اٹھا لی کہ جس طرح حضرت الیاس ؑ نے بعل بت کے پجاریوں کو قتل کروایا بالکل اسی طرح حضرت الیاس ؑکو قتل کروائے گی۔ اور اس نے حضرت الیاس ؑکوتلاش کرکے لانے کا حکم دیا۔ حضرت الیاس ؑکو اس کے خطرناک عزائم کی خبر ہوگئی ،جس وجہ سے آپ ؑیہاں سے نکل کو ہ سینہ کے دامن میں کئی سال تک پناہ گزین رہے۔

اسی عرصہ کے دوران بیت المقدس کی ریاست کے حکمران نے اسرائیل کی ریاست کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کر لی۔ اس کے بعد جو بگاڑ ریاست اسرائیل میں انتہا کو پہنچ چکے تھے وہ تمام اب ریاست بیت المقدس میں بھی پھیل گئے ۔اور وہاں بھی رب ذوالجلال کی کھلم کھلا حکم عدولی ہونے لگی۔ بعل بت کی پرستش شروع ہوگئی ،یہاں تک کہ لوگ زنا بھی سرعام بلکہ حکومتی سرپرستی میں کرنے لگے۔ تب آپ ضرت الیاس ؑنے اس بادشاہ کو بھی رب واحدکی دعوت بذریعہ خط پہنچائی ۔اور عذاب الہی سے ڈرایا جو اس کی سرپرستی میں کیے جانے والے بدترین گناہوں کی باعث اس پر آ سکتا تھا۔ مگر اس بادشاہ نے بھی حضرت الیاس ؑکی ایک نہ سنی اور رب کی لگاتار نافرمانی کرتا رہا۔ حضرت الیاس نے اسے خبردار کیا کہ اُس کے اور پوری قوم کے برے اعمال کی وجہ سے اس پر اوراُس کی رعایا پر عذاب خداوندی نازل ہوگا، جس کے باعث خدا تعالی ان لوگوں کو اور اُس بادشاہ کے اہل و عیال کو بری تکلیفوں سے مارے گا ۔اور اے بادشاہ تو خود بھی انتڑیوں کے مرض کے باعث سخت بیمار ہو جائے گا۔ حضرت الیاس ؑنے جو کچھ فرمایا تھا وہ سب حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا، اس کی بیویوں کو دشمن پکڑ کر لے گئے اور وہ خود بھی انتڑیوں کی مرض کے باعث ہلاک ہو گیا۔

اس کے بعد حضرت الیاس ؑدوبارہ اسرائیل تشریف لائے اور بادشاہ اسرائیل کو اور اُس کے اہل و عیال کو دوبارہ رب کی طرف پلٹنے کی دعوت دی۔ مگر جو گناہ اس شاہی خاندان میں پنجے گاڑ چکا تھا وہ کسی طرح نہ نکلا۔ اور آخرحضرت الیاس ؑ کی بددعا کے باعث بادشاہ اسرائیل اور اس کا گھرانہ ختم ہوگیا۔ حضرت الیاس ؑنے بارہا بنی اسرائیل کو رب کی طرف دعوت دی، اور رب کی طرف پلٹنے کا حکم دیا۔ رب کریم کا پیغام بھی سب تک پہنچایا مگر اس کے باوجود لوگ گمراہی میں پڑے رہے۔ اور پھر حضرت الیاس ؑکو اﷲ تعالی نے اس دنیائے فانی سے اپنے پاس بلا لیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 234 Print Article Print
About the Author: Musab Ghaznavi

Read More Articles by Musab Ghaznavi: 12 Articles with 1373 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ