معیشت کے بعد کھیل بھی تباہی کے دہانے پر!

(Sohail Azmi, Dera Ismail Khan)

تبدیلی سرکار نے ملکی معیشت کا تو بیٹرا غرق کیا ہی ہواہے اب کھیل کے شعبوں میں بھی ہماری کارکردگی تبدیلی سرکار کی سونامی کی زد میں ہے۔ہاکی کے اولمپک کوالیفائیڈ راؤنڈ کے لئے ہالینڈ کے خلاف ایک اہم میچ برابر اور ایک ہار کر باہر ہوگئے ،پاکستان کی ٹیم اوران کا قومی کھیل جو کبھی دنیا میں اپنا مقام رکھتا تھا۔تمام اعزازات ہمارے پاس تھے اب ورلڈ رینکنگ میں حکومتی عدم دلچسپی ،فنڈز کی کمی ،کرپشن ،سیاست اور گراس روٹ تک ہاکی کا کھیل ناپید ہونے کے ہم سترہویں نمبر پر ہیں ،ہاکی کا کھیل جو اسی ،ستر کی دہائی میں سکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کی سطح پر انتہائی مقبول اور معیاری ہوتا تھا جس کے باعث ہمیں کھلاڑی میسر ہوتے رہتے تھے اب ہاکی کا کھیل کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا ،راقم خود بھی سکول ،کالج کی سطح پر ہاکی کا کھلاڑی رہا ہے ،پرانے دور میں بہت ٹف مقابلے اور فائٹ سکولوں کے درمیان ہوتی تھی ،حکومت تعلیمی اداروں کو فنڈز دیتیں جس سے ایک ہاکی کی نرسری پھل پھول رہی تھی لیکن جب سے حکومت کی سرپرستی ختم ہونا شروع ہوئی ،ہاکی کا کھیل بھی ختم ہونا شروع ہوگیا۔اب ملک کے صرف چند شہروں میں یہ کھیل چند کلبوں کی بدولت زندہ ہے ورنہ ہم نے ہاکی کے کھیل کے تابو ت کو دفن کردیا ہے۔اب ہم نے قومی کھیل کے بعد کرکٹ کے ساتھ بھی سوتیلی ماں والا سلوک روا رکھا ہواہے جس کے باعث ہم گزشتہ چند ماہ میں دو ٹی ٹوئنٹی سیریز اور ایک ٹسٹ سیریز بری طرح ہار چکے ہیں ،ٹی ٹوئنٹی میں ہم ورلڈ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہونے کے باوجود سری لنکا جیسی بی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ہوم سیریز تین صفر سے ہار گئے۔اس کے بعد آسٹریلیامیں بھی دو صفر سے بری شکست کھائی ،ٹسٹ میچوں کو بھی ہم نے تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا،آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف نوجوان فاسٹ باؤلرزکو کہنہ مشق بنا کر ملکی کرکٹ کی رسوائی کا سامنا مہیا کیا اور مسلسل پانچویں مرتبہ آسٹریلیا میں ٹسٹ سیریز وائٹ واش کا اعزاز حاصل کیا۔سونامی حکومت نے جس طرح اپنی ناقص پالیسیوں اور نیب زدہ وزارء کی فوج ظفر موج کی طرح ملکی اداروں کا بیٹر ا غرق کیا ہے وہی حال انہوں نے قومی کھیلوں خصوصاًہاکی اور کرکٹ کا کیا۔ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرکے سینکڑوں کرکٹرز کو بے روزگار کردیا ،بیچارے کرکٹرزاب سوزوکی وین اور دیگر مزدوری کا کام کرکے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں ،مصباح الحق جن کی ایمانداری ،ذہانت اور بہتر ین کپتان اور کھلاڑی ہونے میں کسی کو بھی انکار نہیں ہے کو ملکی کرکٹ کی تین اہم پوسٹوں پر لگا کر ان کے ساتھ اور ملکی کرکٹ کے ساتھ زیادتی کی ،کوئی بھی انسان اپنی استعداد سے بڑھ کر کام نہیں کرسکتا انہیں صرف ایک عہدہ تفویض کیا جائے اور کرکٹ کے کھیل کو ہاکی کی طرح تباہ وبرباد ہونے سے بچانے کے لئے گراس روٹ سے دوبارہ شروع کیاجائے،کھیلوں کے گراؤنڈ بنائے جائیں ،سکول ،کالجز ،یونیورسٹیزمیں ہاکی ،کرکٹ دونوں کے لئے فنڈز مختص کیے جائیں اور خاص کر جو کرپشن ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرزکی اور بلدیاتی سطح پر سپورٹس فنڈز کی ہورہی ہے کو کنٹرول کیا جائے ،کروڑوں کا فنڈ ،میلوں ،ٹھیلوں پر ضائع کردیا جاتاہے ،راقم ڈویڑنل کرکٹ ایسوسی ایشن ڈیرہ اسماعیل خان کا صدررہا ہے،راقم کو معلوم ہے کہ سپورٹس آفیسرکیسے فنڈز کو خرد برد کرتے ہیں جن کا کوئی احتساب نہیں ہوتا۔تعلیمی اداروں میں کرکٹ ،ہاکی کے کھیل میں حصہ لینا اور ٹیموں کی تشکیل کو سکاؤٹ ٹرینگ کی طرز پرلازمی قرار دیا جائے تاکہ ہمیں کھلاڑی ملتے رہیں ،بصورت دیگرایک وقت ایسا آئے گا کہ کھیلوں میں ہمارا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا۔سکوائش کے کھیل میں ہم دنیا پر حکمرانی کرتے تھے ،جہانگیر خان ،جان شیر خان کو کون بھلا سکتاہے لیکن ہم نے اتنے بڑ ے بڑے ورلڈ چیمیئن ملک میں ہونے کے باوجوداس کھیل میں بھی اپنا مقام کھودیا ہے۔حال ہی میں ملائشیا میں ہونے والی جونیئر سکوائش چیمپئن شپ میں پاکستان نے انڈر 15 اور انڈر 17 کے ٹائٹلز اپنے نام کیے ،حذیفہ ابراہیم نے انڈر 15 جبکہ انڈر 17 میں ارشد عرفان نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔اب ان نتائج سے ظاہرہوتا ہے کہ ملک میں سکوائش کا ٹیلنٹ موجود ہے ،ضرورت ہے انہیں پروموٹ کرنے اور ان کی سرپرستی کرنے کی ،سکوائش کے کھیل کو بھی گراس روٹ تک شروع کرنے کی ،اپنے کھیل کے میدانوں ،گلیوں اور اداروں کو فعال کرنے کے علاوہ سیاست اور ذاتی پسندوناپسند سے کھیلوں کو پاک کرنے کی ،سیاست کا عمل جس بھی شعبے میں ہوا ہے اس کا ہم نے بیڑا غرق ہی کیا۔کھیل کسی بھی ملک میں نوجوان نسل کی مثبت سرگرمیوں اور جسمانی نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہیں اور کھیلوں کے ذریعے ہی ہمارے ملک کی دنیا میں پہچان ماضی میں ہوتی رہی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے پاس اب کوئی بھی ایسا کھیل نہیں رہا جو ہماری پذیرائی کا بین الاقوامی سطح پر باعث بنے۔آسٹریلیا میں حالیہ کرکٹ ٹیم کے دورے کو شدید تنقید کا سامنا ہے وہاں غیر معیاری ٹیم بھیجنے کے باعث پاکستانیوں کی دلچسپی وہاں نہ ہونے کے برابر تھی۔میدانوں میں کوئی پاکستانی جھنڈا نظر نہیں آیا ،پاکستانی باؤلروں کی خوب دل کھول کر پٹائی ہوئی ہم جونیئرزاور سنیئرز کے ساتھ رہ کر ہی نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ سرفراز ،محمد حفیظ ،کامران اکمل ،عمر اکمل ،فواد عالم کو وآپس لایا جائے ،اداروں کی کرکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ مصباح الحق کی ذمہ داریوں کو کم کیا جائے ،
٭٭٭٭

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 184 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Azmi

Read More Articles by Sohail Azmi: 150 Articles with 60298 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: