ماں قدرت کا ایک حسین عطیہ ہے

(M Usman, Islamabad)
ماں نام ہے اس ہستی کا جوسراپا شفقت ،پیار، محبت ہے
ماں کے نام میں کتنی مٹھاس اور تسکین ہے

ماں قدرت کا ایک حسین عطیہ ہے

ماں نام ہے اس ہستی کا جوسراپا شفقت ،پیار، محبت ہے زبردست قوت برداشت کی مالکہ ، نیک اطوار اور تمنائوں کا مجسمہ ، ماں قدرت کا ایک حسین عطیہ ہے جو آنکھ کے لئے جنت ہے تو دل کے لئے فرحت کاسامان ، ماں سرمایہ راحت وسکون ہے ماں نام ہے صبر ورضا کا ، ماں ، پیار کی مورت ہے ماں، پیارکی صورت ہے ماںممتا دریا ہوتی ہے، ماں محبت کا ایک بھرپور چشمہ ہے ماں …

ماں کے نام میں کتنی مٹھاس اور تسکین ہے اسی لئے خدائے تعالیٰ جنت کو ماں کے قدموں کے نیچے قراردیا ہے۔ یہ لفظ ماںکتنا پیارا اور گہرا ہے اس لفظ میں اتنی گہرائی ہے جسے ناپا نہیں جاسکتا یہ اتنا گہرا انمول ر وپ ہے جس کے مقابلے کسی بھی ہستی کو نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ ہاں ماں تمہیں مجھ سے بچھڑے ہوئے ا یک عرصہ بیت گیا تمہارے بغیر یہ دن یہ مہینے اور یہ سال کیسے بیتیں یہ میں اور اور صرف میرا خدا ہی جانتا ہے۔ اس درمیان میری آنکھیں ڈھونڈتی ہی رہیں کہ کوئی آپ جیسی شخصیت میرے سامنے آجائے تو میں انہیں ماں کہہ کر پکاروں اور تمہاری کمی تھوڑی سی بھی پوری ہوجائے۔ لیکن افسوس اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود میری نظریں اب بھی تلاش ہی کررہی ہیں کوئی تم جیسی پیاری ہستی ہی نہیں ملی اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ یہ لفظ صرف اور صرف تم ہی پر جچتا ہے اور کوئی اسکے قابل نہیں۔ اولاد صرف ا پنی ماں ہی کو ماں کہہ سکتی ہے بھلا دوسرے کیوں اسے ماں کا پیاردیں گے۔ یہ دنیا ویسے بھی مطلبی ہے۔ یہاں ان انمول رشتوں کی قدر بھلا کیوں کر ہونے لگی۔ کسی کو کیا پڑی ہے کہ ایک حساس اور جذباتی لڑکی کے جذبات کو سمجھ سکیں اور اسے ماں کا پیاردیں۔ اس جہاں میں کسی کے پاس یہ سب سوچنے کا وقت ہی کہاں ہے؟ مجھے آج بھی وہ دن یا آتے ہیں ممتا کی چھائوں میں بیتا میرا وہ سہانا بچپن ، تمہاری بانہوں میں ہنستے کھلکھلاتے ہوئے خوشیوں سے بھرے و ہ دن رات ، ماں اب بھی بہاریں ا ٓتی ہیں تو خزاں کے مانند ہر انجمن ا داس اداس بھی مجھے وہ دن آتے ہیں تو آنسوئوں کے موتی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ جب کبھی مجھے تھوڑاسا بھی سردرد ہوتا یا میں تھوڑی سی بھی بیمار ہوجاتی تو تم کس قدر اداس ہوجاتیں، میرے پاس پیٹھ کر کے میرے سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے روپڑتیں اور کہتیں کہ بیٹی تم جب ایک جگہ سوجاتی ہو تو بالکل اچھا نہیں لگتا۔ اس گھر میں تمہارے قدموں کی آہٹ سے ہی رونق ہے۔ تمہارے چلتے پھرتے رہنے سے ہی یہ گھراچھا لگتا ہے۔ ماں تم مجھے کتنی اہمیت دیا کرتیں۔ جب گھرمیں زیادہ مہمان آجاتے تومجھے کام کرتے دیکھ کر تمہاری آنکھیں بھر ا ٓتیں ، تم کہہ اٹھتیں کہ سارا کام تمہیں اکیلے ہی کرنا پڑتا ہے تم تھک جاتی ہو ، ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی تم میرے لئے کتنا تڑپ اٹھتی ، اس وقت میں اپنے آپ کو اس قدر خوش قسمت تصور کرتی تم جتنی بھولی اور نیک تھیں اتنی ہی معصوم اور پیاری بھی ، کسی کا دکھ تم سے نہیں دیکھا جاتا تھا ، جتنے دن اس دنیا میں رہیں سبھی کی تن من دھن سے مددکرتی رہیں۔ آج بھی لوگ تمہیں اپنی یادوں میں آباد رکھے ہوئے ہیں۔ آج بھی میری آنکھوں میں تمہارا وہ نورانی چہرہ باربار نظر آتا ہے۔ تمہارا وہ کتابی چہرہ آج بھی میرے چہرے میں سبھی تلاش کرتے ہیں ہم میں مشابہت ہی نہیں بلکہ ہمارے دل بھی ایک اور خیالات بھی ایک ہی پائے تھے ہم نے۔ سچ کہوں تو میری ماں میرے لئے صرف ماں ہی نہیں تھیں۔ وہ میری ایک شفیق ساتھی بھی تھیں۔ تبھی تو مجھ سے جدا ہونے کی خبر اللہ نے شاید پہلے ہی تمہیں دے دی تھی۔اجل کو لبیک کہنے سے دو تین دن قبل تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم میرے بغیر کیسے رہ پائوگی اس دنیامیں۔ اس وقت تمہاری جدائی کا مجھے خیال بھی نہیں تھا۔ میں تمہاری بات کو تمہارا خیال سمجھ کر ٹال گئی کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ لیکن آج مجھے تم سے جدا ہوکر سچائی کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، کتنی سچائی تھی تمہاری باتوں میں ماں تم نے ہمیں خدمت کا موقع بھی نہیں دیا۔ خدا کو تم اتنی پیاری تھیں کہ اچانک اس نے آواز دی اور آہ تم نے لبیک کہہ دیا۔ ماں تمہاری تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ تم وفا کی نعمت تھیں تم مہر ومحبت کی دلنشیں تصویر تھیں تم خلوص کی تصویر تھیں۔ تمہاری محبت تمہاری شرافت تمہاری صلاحیت پہ مجھے ناز تھا اور سدا رہے گا۔ جب بھی ان آنکھوں سے شبنم کے موتی ٹوٹتے ہیں تو بے ساختہ تمہارا پاکیزہ آنچل یاد آجاتا ہے۔ نہ جانے قدرت کے فیصلے اتنے سنگین کیوں ہوتے ہیں جن کے آگے انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت بھی میری یہ شبنمی پلکیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ہیں جیسے خداسے تمہارے دیدار کی ایک جھلک کے لئے التجا کررہی ہیں۔ …!
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 250 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Usman

Read More Articles by M Usman: 18 Articles with 12069 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: