اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حوصلہ آفزائی

(Anzul Abdul Sattar, )

ایک انسان زندگی کی جس شاہراہ پر مسافر ہے اس راہ میں زندگی مختلف نشیب و فراز سے گزرتی ہیان مختلف مراحل کے درمیان بعض اوقات انسان جو سوچتا یے وہ کر نہیں پاتا یا بہت جدوجہد کے بعد حتمی نتیجہ نہیں آرہا ہوتا یا وہ وسوسوں اور خوف کے درمیان رہ جاتا ہے۔ انسانی نفسیات کے مطابق اس وقت انسان کو ایک سہارے کی اپنایت کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرسکے اس کی ہمت بڑھائے اس عمل کو Motivation کہا جاتا ہے۔ یعنی ہمت بڑھانا۔ حوصلہ افزائی کرنا حوصلہ افزائی جسکے لیے مثبت سوچ اور حسن ظن لازم و ملزوم ہیں اسلامی تعلیمات چونکہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں وہ حسن ظن کا درس دیتی ہیں اسلامی تعلیمات کا جائزہ لیں تو ایک ایسی راہ تقلید نظر آتی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی میں عمل کرے تو ایک پرلطف زندگی اس کی منتظر ہو۔

ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کی حوصلہ افزائی کے لیے سب سے پہلے اپنے خیالات کو پاکیزہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اسلام ہمیں درس دیتا ہے کہ ''
اے ایمان والوں!گمان سے بچو ''یعنی کسی کے بارے میں مفروضے قائم نہ کرو جب تک کسی بات کا یقین کامل نہ ہو شک میں نہ پڑو۔ (سنن ابی داؤد، باب فی حسن الظن ج 4، ص 298، رقم: 4993)
’’حُسنِ ظن (یعنی دوسروں کے متعلق حتی الوسع اچھاگمان رکھنا) عبادت ہے ۔بلکہ اچھا سوچو یہیں سے حوصلہ افزائی کا آغاز ہوتا ہے۔ جب آپ کسی انسان کے متعلق منفی خیالات کو اپنے اردگرد آنے نہیں دیں گے تو آپ کے دل میں اس شخص کے لیے نرمی آئے گی گویا کہ اسلام نے حسن ظن کا درس دے کر آپ کے دل میں حوصلہ افزائی کرنے کا بیج بودیا اب آپ مثبت خیالات کا چھڑکاو کرکے آسانیاں بانٹ کر اس کھیت میں ہل چلایں گے تو امید واثق ہے کہ ایک دن حوصلہ افزائی کا تن آور درخت ابھر کر سامنے آئے گا اور آپکے الفاظ اداسیوں کے دلدل میں ڈوبے لوگوں کے لیے معاون ہوں گے وہ لوگ جو ناکامیوں کی منڈیر پر احساس کمتری کے اندھیرے میں ڈوبے ہیں آپ کا کردار آپ کے الفاظ ان کے لیے جگنو کی روشنی کی مانند ہوں گے اس تمام مرحلے سے گزرنے کے لیے حسن ظن کا دامن تھام کر آگے بڑھنا ہے پھرآسانیاں تقسیم کرنی ہیں آسانیاں بانٹنے کے لیے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں ضروری نہیں کہ آپ لمبی لمبی تقریریں کرکے ڈھاربندھایں کیونکہ جب انسان الگ ہیں تو ان کے دکھ بھی الگ ہیں سب کے دکھ کے مداوے کا ایک طریقہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آپ لمبی لمبی تقریریں کریں۔آسانیاں بانٹنے کے لیے آپ کسی پریشان حال شخص کی بات سن لیں کسی سے مسکرا کر مل لیں توجہ سے بات سنیں جس طرح کے وسائل بروئے کار لاسکتے ہیں لے آئیں کیونکہ اس میں در حقیقت فائدہ آپکا ہی کیسے یہ حدیث مبارکہ پڑھیے
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا: ''جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، تو اﷲ تعالیٰ اس سے روز قیامت کی تکلیفوں سے کوئی تکلیف دور فرمادے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اﷲ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے گا، اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی کرے گا۔ اﷲ تعالیٰ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ جو شخص کسی راہ پر چلتا ہے جس میں وہ (دینی) علم حاصل اور تلاش کرتاہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے اور جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کتاب اﷲ کی
تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اس کی درس وتدریس کرتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ ان کا ذکر ان (فرشتوں) سے کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے چھوڑ دیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھائے گا۔''(مسلم)

توثیق الحدیث:ائخرجہ مسلم(2699 ) آسانیاں بانٹنے سے ہم کسی پر احسان نہیں کررہے ہوتے در حقیقت ہماری ابدی اور دائمی زندگی کی تیاری کررہے ہوتے ہیں آسانیاں بانٹنے کے بعد کا جو مرحلہ ہے وہ ہے الفاظ کے ساتھ ہمت بڑھانا حوصلہ افزائی کرنا جسے عرف عام میں motivation کہا جاتا ہے اور جب بات کریں تو اچھی بات کہیں لوگوں کیلیے اچھی بات کہو۔( البقرہ )یہیں سے motivation کے سفر کا آغاز ہوتا ہے لیکن لیکن۔ہزاروں تقریریں سن لینے،ہزاروں کتابیں پڑھ لینے کے باوجود وہ اثر انداز نہیں ہوں گی جب تک خود ہمت نہ کی جاے جب تک حقیقت پسندی سے کام نہ لیا جاے جب تک پہلا قدم نہ اٹھایا جاے۔۔۔ اﷲ عزوجل نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بندے کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے مصیبت کے وقت صبر کرنے اجر اور مصیبت کے بعد خوشحالی کی نوید جہاں جہاں عذاب یا جہنم کا ذکر ہے اسکے بعد جنت کی بشارتیں سنا کر اپنی نعمتوں کو یاد دلا کر لیکن پہلا قدم اٹھانا حاصل مقصود ہے۔ پھر اٹھ اے انسان کیونکہ ایک وقت وہ تھا جب تم کچھ نہیں تھے ایک وقت وہ ہوگا جب تم کردکھاوگے ایک وقت وہ تھا جب تمہیں دوسروں کی ضرورت تھی ایک وقت وہ ہوگا جب تم ضرورت ہوگے ایک وقت وہ تھا جب تم اداسیوں کی منڈیر پر بیٹھے تھے ایک وقت وہ ہوگا جب تم عروج کی معراج طے کررہے ہوگے ایک وقت وہ تھا جب تم اندھیر ے اور تنہائی کے مرکز تھے ایک وقت وہ ہوگا جب تم روشنی کے منبع و مرکز ہوگے ایک وقت وہ تھا جب عسر کے دن تھے ایک وقت وہ ہوگا جب یسر کے دن ہوں گے اٹھو طارق بن زیاد کی طرح چلو تو محمد بن قاسم کی طرح خودی کو پہچانو منزل مقصود تمہاری منتظر ہے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 223 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anzul Abdul Sattar

Read More Articles by Anzul Abdul Sattar: 2 Articles with 384 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ