جناب اظہار الحق کی توجہ کے لئے!

(Muhammad Naeem Shehzad, )
فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم " تلخ نوائی" میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے.مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی طرح اردو کو بھی لازمی کیا جائے. اور تین سال کے بعد طلباء کو اختیار دیا جائے کہ وہ انگریزی یا اردو میِں پرچہ حل کرے لیکن انگریزی کی بطور لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے.سوال یہ ہے کہ جب انگریزوں نے ایک غلام ملک میں اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے اور غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لئے ایک سمندر پار ملک کی اجنبی زبان کو یہاں اعلی مقابلے کی زبان بنایا تو کیا انہوں نے اس زبان کو مسلط کرتے وقت بھی اس تدریج کا خیال رکھا. بس انہوں نے تو راتوں رات فیصلہ کیا کہ ان کو اپنی حکومت چلانے کےلئے غلام چاہئے تو انہوں نے برصغیر میں مقابلے کا امتحان ایک اجنبی زبان میں متعارف کرایا.. اس امتحان کا بنیادی مقصد آپنے آقاؤں کے لئے غلاموں کی ایسی کھیپ تیار کرنا تھا. جو اپنے دماغ اور عقل کا استعمال کئے بغیر بلاچون چراء ان کے حکم کی بجا آوری کرے.

اب ہوناتو یہ چاہئے تھا.قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک آزاد مملکت کے تقاضوں اور امنگوں کے مطابق مقابلے کا امتحان فوری طور پر " لارڈمیکالین "تعلیمی فلسفے کے مطابق راتوں رات اردو میں.لینے کے احکامات اور اقدامات کئے جاتے. مگر افسوس ایسا نہ ھوسکا.پاکستان کے تینوں دستور میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا. مگر افسوس ہمیشہ پاکستان کی اس آئینی شق کی سرکاری طور پر آئین شکنی ھوتی رہی.یہ آئین شکنی یہاں تک بڑھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت نے آئین کی خلاف ورزی گرتے ہوئے 2009 میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سرکاری فرمان کے تحت انگریزی میڈیم کردیا. اس انگریزی میڈیم کرنے کے نتیجے میں جب پہلا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کاآیا تو اا میں بیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے تعلیم کو خیرباد کہہ گئے.یہ نونہالوں کا وہ قتل عام تھا.جس کا کسی مہزب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا کاسکتا. دستور کی اس خلاف ورزی کے ردعمل میں پاکستان قومی زبان تحریک نے جنم لیا. جس نے عدالتوں میں میڈیا پر سڑکوں' عوام الناس میں ہر جگہ نفاذ اردو کا مقدمہ لڑا.اسے جیتا اب اس کے نفاذ کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں!

ہم محترم اظہار الحق صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسے اور کتنے ترقی یافتہ خوشحال ممالک جہاں ایک غیر ملکی زبان اعلیٰ ملازمت میں پہنچنے کا زریعہ ھے؟

دوسرا سوال ان سے یہ ہے کہ پاکستان کی افسر شاہی کی واحد قابلیت غلط سلط انگریزی کے علاوہ کچھ اور ہو تو بتادیں. آپ ہی کے ساتھی بیوروکریٹ کہتے ہیں کہ " دنیا پاکستان کی افسر شاہی کی انگریزی پر ہنستی ہے" ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بیان قدرت اللہ شہاب کا بھی ہے..جس نے خود یہ تسلیم کیا کہ انگریزی سے میرا تعلق غلامی کا ہے.

پاکستان کی انگریزی کی غلام بیورو کریسی دنیا کی نمبر ایک کام چور' حیلہ ساز' بد عنوان ' بد انتظام' راشی' اپنی اقدار کو روندلنے والی' جعلساز بیورو کریسی ھے. اگر ہماری بیورو کریسی بھی دنیا کی ترقی یافتہ ' تعلیم یافتہ خوشحال اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مقابلے کا اعلی امتحان دیتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائ قابل ' پاکستانی سوچ کی حامل اور مخلص بھی ھوتی. مگر افسوس اس نے انگریزی غلامی کو اپنے اوپر طاری کر کے لارڈ میکالے کے اس قول کی تصدیق کی ھے " برصغیر جیسی تہذیب یافتہ زرخیز قوم کو پسماندہ کرنے کا صرف ایک ہی زریعہ ھے کہ ان پر اہک ایسی زبان لاد دی جائے جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ھو مگر فکر میں برطانوی ھوگی"

ایک بات ہم اور کالم نویس کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں ھم لوگ محض جذباتی ہی نہیں ہیں ہم لوگ عملی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں.. پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں ڈاکٹر شریف نظامی ' پروفیسر سلیم ھاشمی ' پروفیسر اشتیاق احمد ' ڈاکٹر مبین اختر ہیں. پروفیسر اشتیاق اپنے شوق اور جذبے سے بغیر سرکاری اعانت کے گریجویشن کی سطح تک اردو سا-نس لغت آسان فہم الفاظ میں تیار کر چکے ہیں. اگر سرکار ہماری اعانت کرے تو ہم چند ماہ میں انگریزی زریعہ تعلیم کی پیداکردہ ستر سال کی تباہیاں اور خامیاں دور کرسکتےہیں. کیونکہ قوموں کی تعمیر کے لئے وسائل سے زیادہ نیک جذبات اور خلوص کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان قومی زبان تحریک ان جذبوں سے سرشار اور مالا مال ھے.

آخر میں محسن اردو :' نفاذ اردو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنانے والے درویش صفت ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس اعلی عدلیہ کے منصفین کی انگریز دانی کا پول کچھ ان الفاظ میں کھول رہے ہیں: " میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے وکلاء اور جج دونوں ہی کو انگریزی نہیں آتی. پاکستان میں انگریزی کا ڈھونگ صرف اپنی نالائقی کو چھپانے کےلئے رچاہا جاتا ھے"

 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 177 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Naeem Shehzad

Read More Articles by Muhammad Naeem Shehzad: 136 Articles with 32283 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: