شجر کاری اور صفائی ستھرائی اسلام کی نظر میں

(Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)
دل آویز سبزہ زار، دل فریب گھنے جنگلات، ہرے بھرے درختوں کی لمبی قطاریں، باغات میں ثمر آور اشجار کسی بھی خطے کو جنت نظیر بنادیتے ہیں کہ جس کی طرف دل خراماں خراماں کھچا چلا جاتا ہے۔بھینی بھینی خوشبو، ٹھنڈی ہوائیں، چڑیوں کی چہچہاہٹ اور بلبل کی نغمہ سرائی کان میں رس گھولتی ہے۔ اس سے جہاں مضطرب دل کو سکون ملتا ہے، رنجیدگی کو شکست ہوتی ہے وہاں بالآخر انسان ان تمام مظاہرِ قدرت سے متاثر ہوکر برملا گویا ہوتا ہے:اور کہتے ہیں اے پروردگار تونے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔ (اٰل عمرٰن )
شجر کاری، باغات کو اور جنگلات کی اہمیت و ضرورت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب چاروں طرف آلودگی بسیرا ڈالے ہو، صاف و شفاف ہوا کے لیے جسم ترستا ہو، اور زہر آلود ہوائیں نسل انسانی کو گھن کی طرح کھارہی ہوں۔ دور جدید کی سائنس و ٹکنالوجی نے جہاں انسان کی سہولت و آسانی کے لیے لامحدود و اَن گنت وسائل مہیا کیے ہیں، زندگی کے مختلف شعبہ جات میں انسان کو بام عروج پر پہنچادیا ہے، وہیں اس کے لیے مختلف بیماریوں اور آفات کے سامان بھی فراہم کردیے ہیں۔ صنعتی ترقی کے اس دور میں ہر طرف آلودگی چھائی ہوئی ہے۔ ہوا، پانی اور زمین پر دیگر حیاتیات اپنی خصوصیات کھورہی ہیں۔ جس کی وجہ سے عالمی حدت کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ فضائی آلودگی، آبی آلودگی، زمینی آلودگی، صوتی آلودگی،سمندری آلودگی، شعاعی آلودگی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔تیزی سے فیکٹریاں، سڑکو ں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، فضائی اور بحری جہازوں کا دھواں، مختلف صنعتوں کے فضلات سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلاجارہا ہے۔اس صورتِ حال میں سرسبز پودے، گھنے باغات اور جنگلات کی اہمیت و ضرورت شدت سے بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اﷲ نے مخلوقات اور دیگر مظاہرِ کائنات کی تخلیق کو اس طرح مربوط کیا ہے کہ یہ سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری چلا آرہا ہے۔ چناں چہ انسان کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے جس کا منبع نباتات ہیں، جب کہ نباتات،انسان اور دیگر مخلوقات سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنی خوراک کے طور پر استعمال کر تی ہیں۔ اسی طرح اﷲ نے انسان کو نباتات کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ بنایا ہے،جس کی وجہ سے فضا میں توازن قائم ہے۔ لیکن اگر اس میں کسی طرح کی مداخلت کی جائے تو توازن میں خلل پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے براہِ راست نقصانات انسانوں اور دیگر مخلوقات کو بھگتنا پڑتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی۔‘‘(القمر)’’اس نے ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اُگائی۔‘‘(الحجر)
لیکن افسوس ہے کہ جہاں فضائی آلودگی اپنے پَر پھیلا تی جارہی ہے وہیں اس کے علاج کی دوا، یعنی جنگلات کی کٹائی انسان کی خود غرضی ومفاد پرستی کی تلوارسے بڑی بے دردی سے جاری ہے۔اور صورت حال بھی یہی بتاتی ہے کہ جنگلات کی بے رحمی سے کٹائی ہمیں عنقریب سدابہار درختوں سے محروم کردے گی۔ اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق ہر سال تقریبا تیرہ ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات کا صفایا ہورہا ہے،جب کہ سائنس داں حضرات کے نزدیک دورِ حاضر کا سب سے بڑا خطرہ تیزی سے جنگلات کا خاتمہ ہے کیوں کہ ایسی صورت حال میں سیلاب، آندھی اور طوفان اور دیگر آفات کا آنا لازمی ہے اور انسان مہلک امراض کا شکار ہونے لگے ہیں۔ نباتات کے فوائد صرف یہی نہیں ہیں کہ وہ ہمیں آکسیجن فراہم کرتی ہیں، بلکہ یہ درجہ حرارت کو اعتدال و توازن بخشتی ہیں، فضائی جراثیم کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں، نیز انسانوں اور حیوانات کی غذائی ضروریات فراہم کرتی ہیں۔ چرندوں، پرندوں اور متعدد حیوانات کا مسکن بھی یہ درخت ہیں۔ ادویات کا مخزن ہیں، دھوپ میں سایہ،اور سب سے بڑی بات یہ کہ آگ کا وجود بھی ہیں۔خوش آیند بات یہ ہے کہ اب حکومتیں اور عوام نے اس بار آگاہی مہم شروع کر دی ہیں۔ شجرکاری اور اس کے تحفظ کے لیے آوازیں بلند ہورہی ہیں،کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں، اور عملی اقدام بھی جاری ہیں۔ یہاں ہم مختصراً سائنس اور قرآن و حدیث کے حوالے سے اس کی اہمیت و افادیت پر چند معروضات پیش ہیں۔بڑے قصبوں میں ماحول کی آلودگی کے پیچیدہ مسئلے، گاڑیوں اور کارخانوں وغیرہ کے دھوئیں اور زہریلی گیسوں کی فضا میں شمولیت سے انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔اس مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ ملک بھر میں اور بالخصوص شہروں میں بکثرت درخت لگائے جائیں۔ ان سے شہروں کے درجہ حرارت میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف رہے گی۔
ماحولیات اور نباتات کے ماہرین کے مطابق ایک اوسط سائز کا درخت دوخاندانوں سے خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرکے ہوا میں کافی آکسیجن پیدا کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ درخت دن میں کافی رطوبت ہوا میں شامل کرتے ہیں، جس سے درجہ حرارت کم اور ماحول خوش گوار ہوجاتا ہے۔ بڑے بڑے سر سبز وشاداب علاقے بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں کی ہوا میں شامل70فی صد سلفرڈائی آکسائیڈ اور نائٹرک ایسڈ کو جذب کرلیتے ہیں۔
’’ناسا‘‘ کی تحقیق کے مطابق چھوٹے پودوں کے گلدستے گھر میں رکھنے سے اندرونی فضا صاف ہوتی رہتی ہے۔ تحقیق کے مطابق آلودگی ہمارے گھروں میں مختلف ذررائع سے پھیلتی ہے۔ ان میں سگریٹ، گیس سے چلنے والے آلات، مصنوعی ریشے سے بنے ہوئے کپڑے، قالین، پردے ریفریجرٹر وغیرہ بھی کمرے کی ہوا کو آلودہ کرتے ہیں۔ ان سے کمرے کی ہوا میں نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسوں کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے، ایسے کمروں میں اسپائڈر پلانٹ نامی پودوں کے گملے رکھنے سے24 گھنٹوں کے اندر اندر ہوا میں ان گیسوں کے تناسب میں زبردست کمی آجاتی ہے۔ ایک اوسط گھر میں آلودگی سے بچاؤ کے لیے ایسے8 سے15 پودوں کی موجودگی ضروری ہے اور پودوں کے مقابلے میں اسپائڈر پلانٹ زیادہ مؤثر پودے ثابت ہوئے ہیں۔
شجر کاری قرآن کریم میں موجودہ سائنس شجر کاری کی جس اہمیت و افادیت کی تحقیق کررہی ہے، قرآن و احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی آگاہ کردیا تھا۔ قرآن کریم میں مختلف حوالے سے شجر(درخت) کا ذکر آیا ہے۔ ایک جگہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر اس طرح کیا:’’وہی تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو۔ اسی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اُگاتا ہے۔ بے شک ان لوگوں کے لیے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ ‘‘(النحل )
ان آیات میں درختوں کو چوپایوں کی غذا اور انسانوں کی ضرورت بتایا ہے۔ایک جگہ درختوں اور پودوں کے فوائد اس طرح بیان کیے گئے ہیں:
آپ کے ربّ نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا۔(النحل )اﷲ نے درخت کا ذکر آگ کے حوالے سے کیا ہے:وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کردی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو۔ (یٰس )
ایک جگہ شجر مبارکہ کے طورپر ذکر کیا گیا:’’وہ چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی‘‘ (النور)
ایک جگہ تمام مظاہرِ قدرت کو آرایش کائنات قرار دیا گیا ہے:’’روے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انھیں آزمالیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے۔ (الکہف)اسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے نسل اور کھیتی باڑی کو تباہ کرنے والوں کی مذمت کی ہے:’’جب وہ لوٹ کرجاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اورکھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اﷲ تعالی فساد کو ناپسند کرتا ہے۔(البقرہ)
درخت انسان کے دوست ہیں اور درخت لگانا شجر کاری کہلاتا ہے۔ شجر کاری نا صرف سنتِ رسول ﷺہے بلکہ ما حول کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں بھی اہم کر دار ادا کرتی ہے۔درخت جہاں دنیا بھر کے جانداروں کو چھا ؤں مہیا کرتے ہیں وہیں ان کی خوشبو سے زمانہ مہکتا ہے۔ رنگ برنگے درخت کبھی ریگستان کو نخلستان میں بدلتے ہیں تو کبھی جنگل میں منگل کا سماں پیدا کرتے ہیں۔درختوں پربسنے والے پرندوں کی چہچہاہٹ پر فضا ماحول میں رس گھول دیتی ہے۔
درختوں سے انسان کو بہت سے فوائد حا صل ہوتے ہیں۔ یہ فوائد معاشی بھی ہیں اور معاشرتی بھی۔ معاشی فوائد کا ذکر کریں تو درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسان کے بہت کام آتی ہے۔کبھی یہ فرنیچر بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے تو کبھی جلانے کے لیے۔ کبھی اس کی شاخیں جانوروں کے چارے کے طور پراستعمال ہوتی ہیں تو کبھی اس کے سوکھے پتے کھاد بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ پھلوں کا حصول ہو یا بچوں کے کھیل کا میدان، ہر جگہ درخت ہی انسان کے کام آتے ہیں۔درختوں سے انسان کثیر زرِمبادلہ بھی کماتا ہے۔اچھے معاشرے میں درختوں کی بہت قدرو قیمت ہوتی ہے۔ یہ تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور ادویات کی تیار ی میں بھی۔درخت زندگی کے ضامن ہیں۔ اس لیے شجر کاری کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے جانور سبزی خور ہوتے ہیں۔ ان سبزی خور جانوروں کو انسان اور دیگر جاندار کھاتے ہیں اس طرح درخت، پودوں کے ذریعے خوراک کی ایک زنجیر وجود میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ انسان ہوں یا جانور، سبھی کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آکسیجن درختوں، پودوں کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب سے انسان نے دنیا میں آنکھ کھولی، درخت اس کی اہم ترین ضروریات میں شامل رہے ہیں۔ آج ہمارے پاس درخت گھٹتے جا رہے ہیں اس لیے ضروت اس امر کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ زندگی اسی طرح رواں دواں رہے۔
قانون کوئی ہو یا ضابطہ اخلاق کوئی بھی ہو آسمانی مذاہب کے اخذ شدہ یا دانشورں و رداناؤں کی ترتیب شدہ صفائی کے بارے میں نظریات اور خیالات دنیا بھر میں یکساں ہیں۔اسلام نے تو اسے اس حد تک ہم کو سمجھایا ہے کہ اسے نصف ایمان کا درجہ دے دیا ہے۔بچوں خواہ دنیا کے کسی گوشے میں ولادت پائے رنگ و نسل، مذہب، معاشرتی اور معاشی معیار و اقتدار سے قطع نظر پہلی تربیت اس کی صفائی کے بارے میں ہی ہوتی ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ ہونی چاہیے۔
صفائی کا آخر مفہوم کیا ہے؟ کہ اسے اتنی اہمیت دی جاتی ہے۔اگر اچانک کسی سے سوال کیا جائے تو شاید اس کے لیے واضح جواب دینا فوری طور پر ناممکن ہو،باوجود اس کے کہ اسے اس کے اکثر ممکنہ پہلوؤں کا علم ہو۔آئیے! دیکھتے ہیں کہ یہ آفاقی طور پر تسلیم شدہ امر آخری ہے کیا چیز۔
صفائی وسیع ترمعنی میں باطنی، ظاہری، اردگرد اور ماحولیاتی صفائی کا مرکب ہے۔تن کی صفائی یعنی اپنی ذات کی اندرونی اوربیرونی صفائی اس کی پہلی اور سب سے اہم سٹیج ہے۔جب انسان کے اقدار درست اور متوازن نہیں ہوتی وہ ممکن ہے ایک حد کے اندر اندر تو صاف نظر آتا ہو لیکن در حقیقت پاک صاف نہیں ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ نہایت عمدہ لباس پہنے ہوئے قیمتی، گاڑی میں سوار لوگ پھولوں کے چھلکے، کاغذ، سگریٹ یہاں تک کہ پان کی پیک تک گاڑی سے باہر سڑک پر اور راہگیروں پر پھینکتے ہوئے گزرتے ہیں۔اس لئے بنیادی طور پر باطنی صفائی یا صحیح اقتدار کی پہچان اور ان پر عمل ہی صفائی کی اولین اور سب سے اہم منزل ہے۔
ان اقتدار کے بغیر اگر انسان اپنے آپ کو صاف رکھتا ہے تو ایک حد تک جاذب نظر لگنے کی خاطر، لیکن زیادہ تر اس لیے بھی کہ اس کی وجہ سے اس کے ملنے جلنے والوں کی جمالیاتی حس نہ ہو اور وہ اس کے بارے میں غلط تاثرات نہ لیں۔گھر کی صفائی کے بارے میں بھی کم و بیش یہی اموار کارفرما ہوتے ہیں کہ گندا گھر صحت کا دشمن ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ غلیظ گھر کو دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے۔ملنے جلنے والے اور عزیزواقارب افراد خانہ کے بارے میں اور خصوصا خاتون خانہ کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ان مفروضات میں پوشیدہ نقطہ یہ ہے کہ سوسائٹی کی رائے یا دڑ کی وجہ سے صفائی اختیار کرنے والے درحقیقت صفائی پسند نہیں ہوتے اور اردگرد کے ماحول کو گندا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔پاکستان میں حکومت کی طرف سے شجر کاری اور صفائی ستھرائی مہم میں عوام و خاص حصہ لیکر پاکستان کو جراثیم اور گندگی سے پاک و صاف کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔
درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ روئے زمین پر جا بجا پھیلے پیڑ بنی نوع انسان کے لئے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔ درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ درخت سیلابوں کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ درخت جہاں ماحول کو خوشگوار بناتے ہیں وہی انسانوں کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں انسان ان درختوں کے ذریعے مزے دار اور شریں پھل حاصل کرتا ہے اور گھروں کی سجاوٹ کے لیے درخت کی لکڑی سے فرنیچر اور دوسری چیزیں تیار کرتا ہے۔درخت اﷲ تعالی کی وہ نعمت ہے جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ درختوں کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اﷲ تعالی نے اسے چار موسموں کے انعام اور نعمت سے نوازا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاتے کیوں کہ ہمارے ملک میں صرف چار فیصد حصے پر جنگلات موجود ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے۔گلوبل وارمنگ میں اضافے کا ایک سبب درختوں کا کاٹنا بھی ہے۔ درختوں کے بے حساب کٹاؤ سے فضا میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ ہو رہی ہے۔ درخت چونکہ کاربن ڈائی آکسائڈ بطور خوراک استعمال کرتے ہیں لہذا اگر درخت کا کٹاؤزیادہ رہا تو فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک پہنچ جائے گا اور پاکستان میں گلوبل وارمنگ کا اثر بہت زیادہ ہو جائے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں اس کے بچاؤ کے لیے کوئی قابل ذکر ٹیکنالوجی موجود نہیں۔ حکومت پاکستان کا شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کرکے ، عوام کے لیے شجر کاری سے متعلق آگاہی پروگرام جاری کرنا قابل تحسین عمل ہے اس سے ملک میں گلوبل وارمنگ کے اثرات کم ہونگے۔شجرکاری کے لئے آج کل دنیا میں جدید طریقے آچکے ہیں جن میں ڈرون کے ذریعے شجرکاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ ڈرون فضا سے زمین پر بیج پھینکے گے جس سے ایک وسیع رقبے پر بہت کم وقت میں شجر کاری کا عمل انجام دیا جاسکتا ہے۔سری لنکا نے بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے شجرکاری کا نہایت کامیاب تجربہ کیا۔ اسی ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاپانی کسانوں کے ایجاد کردہ طریقہ کار کے مطابق جلی مٹی، کھاد اور مختلف بیجوں سے تیار کیے گئے گولے پھینکے گئے جس سے کچھ عرصہ بعد ہی پودے اگ آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاتھ سے شجر کاری کے مقابلے میں یہ طریقہ دس گناہ زیادہ تیز ہے اور اس میں رقم بھی بے حد کم خرچ ہوتی ہے۔حکومت پاکستان کی طرف سے صاف ستھرا اور سرسبز پاکستان کی مہم یقینا ریاست مدینہ کی عکاس ہے۔ہم سب نے مل کر اپنے ماحول کو صاف اور خوبصورت بنانا ہے۔اپنی گلی اور محلے کو صاف رکھنا ہے۔۔اس مہم میں ہر فرد کو حصہ لینا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صفائی کی روح پہچان کر صفائی اختیار کی جائے۔یہ پہچان اور اس کی تعلیم ماں کی آغوش سے شروع ہوجاتی ہے۔اگر بچے کو تعلیم دی جائے تو گندگی اختیار کرنا یا پھیلانا کس حد تک نقصان دہ امور ہیں تو اس کا لاشعور اور شعور دونوں ہی یہ حقیقت تسلیم کرلیں گے۔بچپن کی سیکھی ہوئی بات ہمیشہ یاد رہتی ہے۔من کی صفائی سے اگلا مرحلہ تن کی صفائی ہے۔بعدازاں گھر،کوچوں،محلوں،شہروں اور پھر پورے ملک کی صفائی کی باری آتی ہے۔اس طرح یکے بعد دیگر سارے مراحل آسانی اور تسلسل سے طے ہوتے چلے جاتے ہیں۔
مسلمانوں کو تو صفائی کی اہمیت جاننے اور پہچاننے میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ہمارے لیے تو صفائی نصف ایمان ہے بلکہ دین کی ابتداء ہی صفائی سے ہوتی ہے۔من اور تن اگر صاف نہ ہو تو نماز نہیں ہو سکتی۔نمازعیدین کا پہلا اور سب سے اہم رکن ہے۔آخرت میں نمازی کے بارے میں اولین پرسش ہوگی۔قرآن کریم، سنت نبوی صلی اﷲ علی وسلم اور احادیث میں اتنی بار صفائی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ نہ ممکن ہے کہ کوئی مسلمان اس کے ظاہری اور باطنی اوصاف سے بے خبر رہ سکے۔جہان صفائی ہوگئی وہاں بیماری پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ ہی پروان چڑھ سکتی ہے۔ساتھ ذہن صرف جسم کے اندر ہی رہ سکتا ہے۔ظاہری گندگی، اندرونی گندگی کا باعث بنتی ہے یا اندرونی گندگی، بیرونی گندگی کا سبب بنتی ہے۔اس لیے من اورتن دونوں کی صفائی اصل ایمان ہے۔
نماز سے پہلے وضو کرنا لازمی ہے۔نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہا کو وضو کرنے کا طریقہ سکھایا۔انہوں نے فرمایا '' جو پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے یعنی صحیح طریقے سے وضو کر کے نماز پڑھتا ہے وہ اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے کسی شخص کے گھر کے سامنے نہر یا دریا گذرتا ہو اور وہ دن میں 5 مرتبہ اس میں غسل کرے’’۔اسی طرح کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا کو اسلام نے ضروری قرار دیا ہے۔جدید تحقیق کی رو سے آج کے سائنس دان اور دانشور یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ جو شخص دن میں 5 مرتبہ وضو کرتا ہے وہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ جراثیم ہاتھ، پاؤں اور منہ کے راستے ہیں جسم میں داخل ہوتے ہیں۔جمعہ کی نماز کی تیاری میں نہانا، دھونا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا سنت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ صفائی میں غیر لوگ ہم سے آگے ہیں۔کوریا کی مثال دیکھیے۔وہاں جب کوئی اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو جاتا ہے تو وہ فارغ نہیں بیٹھتا۔وہ ایک چھوٹا سا چمٹا اور ایک ٹوکری لے کر صبح سے لے کر شام تک چھلکے، کاغذ کے ٹکڑے یا کسی قسم کی گندی اشیاء اٹھاتا پھرتا ہے۔وہاں کے لوگوں میں بھی اتنا شعور پایا جاتا ہے کہ وہ سگریٹ پینے کے بعد اس کا ٹکڑا،ردی، کاغذ یا پھل کا چھلکا وغیرہ ادھر ادھر نہیں پھینکتے۔اگر کوڑا پھینکنے والی کوئی جگہ نظر نہ آئے تو وہ سگریٹ کا ٹکڑا وقتی طور پر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ صحیح احادیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اسلام ظاہری زیب وزینت اورفطری حسن وزبیائش کی بھی ترغیب دیتا ہے۔مثلاً یہ حدیث کہ:’’یعنی اﷲ صاحب جمال ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔یہ بات حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس شخص کے جواب میں فرمائی تھی،جس نے یہ سوال کیا تھا کہ میں اچھے اور عمدہ کپڑے زیب تن کرنا پسند کرتا ہوں۔گھمنڈ اور ریاکاری کی وجہ سے نہیں بلکہ زیب وزینت کے لیے کیا یہ جائز ہے؟اس کے جواب میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی کہ اﷲ تعالیٰ بھی زیب وزینت کو پسند کرتا ہے۔‘‘اسی طرح حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ناخن ترشوانے،زیر ناف اور غیر ضروری بالوں کو صاف کرنے اور گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کاحکم دیا ہے۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’بلاشبہ اﷲ کی ذات پاک ہے اور پاکی کو پسند کرتا ہے۔صاف ستھرا ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔پس اپنے گھروں کو صاف رکھا کرو اور یہودیوں سے مشابہت نہ اختیار کرو(غالباً اس زمانے میں یہودی اپنے گھروں کو گندارکھتے ہوں گے)۔(ترمذی)حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے گھر سے باہر سڑکوں کی صفائی کا بھی حکم دیا ہے۔اور اس بات سے سختی سے منع کیا ہے کہ لوگ راستوں اور دیواروں کے سایہ میں پیشاب یا پاخانہ کریں۔حدیث نبوی (صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے:’’دونوں قابل لعنت چیزوں سے بچو،پیشاب پاخانے سے اور اس شخص سے جو لوگوں کے راستے یا سایے میں پیشاب پاخانہ کرتا ہو۔ (مسلم)اسی طرح حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے کھانے پینے کی چیزوں میں صفائی ستھرائی کی تلقین کی ہے،فرمایا:’’اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیاکرو(یعنی سوتے وقت تاکہ جانور وغیرہ نہ گھس جایا کریں) اور اپنے برتنوں کو ڈھک دیا کرو اوربتی گل کردیا کرو اورپانی کے برتنوں کو ڈھک دیا کرو۔‘‘ (مسلم)
صفائی کا مطلب صاف ستھرا رہناہے۔ہمیں روحانی صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ہمارا جسم اﷲ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک تندرست جسم صحت مند تب ہی رہ سکتا ہے جب تک اس کی مناسب صفائی کی جائے۔ اس لیے جسم کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے۔جہاں صفائی ہوتی ہے وہاں سے بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔مچھر اور دیگر جراثیم گندگی میں زیادہ پرورش پاتے ہیں جہاں گندگی نہیں ہوتی یہ جراثیم وہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔ظاہر ہے جب گندگی اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہی نہیں رہیں گے تو بیماریاں خودبخود بھاگ جائیں گی۔اس لیے صحت مند زندگی کے لیے صفائی بہت ضروری ہے۔
صفائی عجب چیز دنیا میں ہے صفائی سے بہتر نہیں کوئی شے
ہمارا دینِ اسلام بھی ہمیں صاف ستھرا رہنے کی ہدایت دیتا ہے اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیتاہے۔صفائی اسلام کا بہترین عمل ہے۔نماز جیسے بنیادی اسلامی رکن کی ادائیگی اس وقت تک ممکن نہیں،جب تک ہمارا جسم، لباس اور وہ جگہ جہاں نماز پڑھیں پاک صاف نہ ہو۔صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غسل بہت ضروری عنصر ہے۔یہ صفائی کا بنیادی عمل ہے۔ اس لیے ہمیں غسل کا معمول بنا لینا چاہیے۔ اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی۔
صفائی کو رکھو ہمیشہ عزیز صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز
اپنی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی گلی اور محلے کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا ہے۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے۔ محلے میں جہاں کوڑا کرکٹ ہو گا وہاں مکھیاں آئیں گی اور ان مکھیوں سے بیماریاں پھیلے گی اور صحت متاثر ہوگی اس لیے مل جل کر محلے کی صفائی کا خا ص خیال رکھنا چاہیے۔اسلام میں تن کی صفائی کے سا تھ من کی صفائی پر بھی زور دیا گیا ہے،ظاہری صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ہمارے دل سے حسد،لالچ،غرور اور تکبر کا نام و نشان مٹنا چاہیے۔اس طرح تن کی صفائی کے ساتھ من کی صفائی بھی ضروری ہے۔’’اگر من ہے میلا نہ تن کو سنوارو‘‘
اوراحادیث نبویہﷺ میں شجرکاری کے حوالے سے صریح ہدایات موجود ہیں۔ ایک روایت میں شجر کاری کو صدقہ قرار دیتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:’’جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی کرے اور اس میں پرندے، انسان اور جانور کھالیں تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔(بخاری)جو مسلمان پودا لگاتا ہے اور اس سے انسان، چوپائے یا پرندے کھالیں تو یہ اس کے لیے قیامت تک کے لیے صدقہ ہے۔‘‘(مسلم)اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے کہ جس میں آپﷺ نے فرمایا قیامت قائم ہورہی ہو اور کسی کو شجر کاری کا موقع ملے تو وہ موقعے کو ہاتھ سے نہ جانے دے:اگر قیامت قائم ہورہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں قلم ہو اور وہ اس بات پر قادر ہوکہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے۔ (مسند احمد)یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے درخت وغیرہ جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، کانٹنے یا برباد کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ حدیث نبوی ﷺہے:’’جو بیری کا درخت کاٹے گا اﷲ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے گا۔‘‘(سنن ابوداؤد)
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں بھی قطع شجر کو ممنوع قرار دیا ہے۔ آپؐ لشکر کی روانگی کے وقت دیگر ہدایات کے ساتھ ایک ہدایت یہ بھی فرماتے تھے کہ:’’ً کھیتی کو نہ جلانا اور کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا۔‘‘یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں باغبانی اور شجرکاری میں گہری دل چسپی دکھائی ہے، اسے علوم و فنون کی شکل دی اور دنیا میں فروغ دیا۔
شجرکاری کی اہمیت و ضرورت اور افادیت کے تعلق سے قرآن و حدیث اور سائنس کی تعلیمات ہمارے سامنے ہیں۔حکومت نے شجر کاری اور صافی ستھرائی مہم کا آغاز کیا ہے۔عوام سے اپیل ہے کہ اس کام میں اپنی نیکیوں میں اضافے کیلئے اور اپنے ماحول کو خوش گوار بنانے کیلئے آگے بڑھیں اوراپنا قومی فریضہ نبھایئے، خود پودے لگایئے، دوسروں کوبھی ابھاریں۔
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 296 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 40 Articles with 22121 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ