کچھ تو کرنا ہوگا

(Mukhtar qadri, )

ٹی وی ڈرامے انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ کلچر کو بھی فروغ دیتے ہیں نوجوان نسل خصوصی طور پر بچے جو کچھ دیکھتے اسے پک کرتے ہیں حتٰی کہ جیولری، لباس، کٹنگ، جوتے، گاڑی اور میک اپ تک ڈرامے دیکھ کر سلیکٹ کیا جاتا ہے اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو اپنا کلچر، اپنی تہذیب، اپنا لباس،اپنا رہن سہن، اپنی بول چال اور اپنے طور طریقے سکھانے کے لیے اپنے ڈراموں کو فروغ دینا چاہیے نہ کہ انڈین۔
نوجوان نسل کے بگاڑ میں والدین اساتذہ, نصاب تعلیم, مخلوط نظام تعلیم,روشن خیالی, سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے۔کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوان نسل اہم رول ادا کرتی ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کا اندازہ اِس ملک کی نوجوان نسل سے لگایاجاسکتاہے۔قوموں کے عروج و زوال فتح ونصرت اور شکست کا دارومدار اِس ملک و قوم کی نوجوان نسل پر ہی ہوتا ہے۔ نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد اِس وقت 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ29 فیصد 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل ہیں۔ اقوام متحدہ کی ترقیاتی رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی ایک ریکارڈ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ہماری بدقسمتی دیکھئے ہم نے نوجوان نسل کو اُوپر اُٹھانے کی بجائے بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ۔سب سے پہلے تو میں والدین کو اِس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں جو اپنے بچوں کو اپنی مصروفیت کی وجہ سے ٹائم نہیں دے پاتے۔اور نہ ہی بچوں کو کھیل کود کے لیے ٹائم دیتے ہیں۔بچے انٹرٹینمنٹ کے لیے ٹی وی،کیبل، فلموں ڈراموں کا سہارا لیتے ہیں۔اور اوپر سے ٹی وی پر ایسے غیراخلاقی شرمناک اشتہارات آتے ہیں۔کہ کوئی ذی شعور آدمی اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر ڈرامہ نہیں دیکھ سکتا۔اور انڈین ڈراموں نے تو اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔انڈین ڈراموں میں تنگ لباس نِکر شرٹ اور بوس وکنار عام پایا جاتا ہے۔جو کہ ہمارے معاشرے میں اخلاق اور ادب کا جنازہ نکال رہے ہیں۔اور ان کی وجہ سے گھروں میں لڑائی جھگڑے اور طلاقیں عام ہو رہی ہیں ۔ یہ ڈرامے ہمارے گھروں میں بڑے شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔دوسرے نمبر پر اساتذہ کرام ہیں جو ہمارے معاشرے کی سب سے عزت و احترام والی شخصیت ہیں۔ان کے ہاتھوں میں نوجوان نسل کا مستقبل ہوتا ہے۔بدقسمتی سے زیادہ تر اساتذہ مخلوط نظام تعلیم اور روشن خیالی کے گرویدہ ہیں۔کیونکہ وہ بھی اپنی نفسیاتی خواہشات کے غلام بن چکے ہیں۔ مخلوط نظام تعلیم اور روشن خیالی، لبرلز طبقے نے نوجوان نسل کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔پرائیویٹ سکول و کالج میں تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں کھلی آزادی ہے۔ ڈانس پارٹیاں جس میں جوان لڑکے لڑکیاں اکٹھے ڈانس کرتے ہیں۔ استاد اور استانیاں بھی پورے طریقے سے انجوائے کرتے ہیں اور ساتھ شامل ہوتے ہیں۔رنگارنگ پارٹیوں میں والدین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ اداروں میں ان مخلوط تعلیم، روشن خیالی کو پروان چڑھانے کے لیے باقاعدہ فنڈنگ ہوتی ہے۔پرائیویٹ تو پرائیویٹ اب تو گورنمنٹ سکولوں میں بھی میٹرک تک لیڈی ٹیچر رکھی جانے لگی ہیں۔نوجوانون کے بگاڑ میں سمارٹ فون کا بھی حصہ کم نہیں ہے۔سمارٹ فون طالب علم نوجوانوں کے لیے کسی ڈرگ سے کم نہیں اوپر سے انٹرنیٹ کا بیجا اور غلط استعمال جس نے نوجوانوں کے دماغوں کا بھُرکس نکال دیا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نوجوان کے پاس سمارٹ فون ہو اور انٹرنیٹ کا پیکیج نہ لگائے۔اور پھر انٹرنیٹ کا پیکیج لگا ہو اور دماغ فلموں ڈراموں غیراخلاقی ویڈیو کی طرف متوجہ نہ ہو۔جب ایک ہاتھ میں سمارٹ فون اور ایک ہاتھ میں کتابیں ہوں رزلٹ آپ خود نکال لیں۔ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے سکولوں کالجز اور یونیورسٹیز میں ڈرگز کا بے جا استعمال۔ڈرگز ایک ایسی بیماری ہے جو اس میں مبتلا ہوتا ہے اسے اپنی اور اپنے والدین اور کسی کی بھی پروا نہیں ہوتی۔ڈرگز زدہ نوجوان اپنے ساتھ کئی اور نوجوانوں کا بھی مستقبل تباہ کرتا ہے۔ایسے نوجوان اپنے ملک و قوم کا کیا بھلا کریں گے۔میری والدین سے اپیل ہے اپنے بچوں کو ٹائم دیں۔ ان کی ہر حرکت پر نظر رکھیں۔ حکومتِ وقت اور اداروں سے اپیل ہے کے نظام تعلیم کی خرابیاں،نصابِ تعلیم کی خرابیاں،مخلوط نظام تعلیم اور روشن خیالی کو چھوڑ کر اسلامی طرزِ تعلیم کو اپنائیں تاکہ نوجوان نسل میں اخلاقیات اور ادب پیدا ہو۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ایکٹیویٹیز،غیراخلاقی ویب سائٹس مکمل بند کی جائیں۔ ئی وی پر غیر اخلاقی اشتہارات بند کیے جائیں۔اشتہارات چھان بین کرنے کے بعد چلائے جائیں۔ انڈین ڈراموں پر مکمل پابندی لگائی جائے۔سکول و کالج میں منشیات کے نقصانات پر پروگرام کیے جائیں۔ خُلق اور سیرت نبّی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پروگرام کیے جائیں۔اِن اقدامات کرنے سے ہم کسی حد تک اپنی نوجوان نسل کو مستقبل میں روشن دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 196 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtar qadri

Read More Articles by Mukhtar qadri: 2 Articles with 387 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: