محبت کی حقیقت میری نگاہ میں

(ارم جنت, Faisalabad)
محبت کیا بلا ہے، اسی تناظر میں ملاحظہ کیجئے، ایک نو آموز لکھاری کی شاندارتحریر جو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

انسان سے محبت کرنا گناہ نہیں ہے، بلکہ اس محبت کیلئے خود کو برباد کرنا گناہ ہے، کیونکہ یہ بات "اللہ تعالٰی" کی ناشکری کا باعث بنتی ہے. اور ایک مسلمان کیلئے "اللہ تعالٰی" کی ناشکری کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے.

بلاشبہ ایک انسان کے دل میں دوسرے انسان کی محبت ڈالنا قدرت کے ہاتھ میں ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے، کہ مجازی محبت ایک مقصد کے تحت بنائی گئی ہے، "اللہ تعالٰی" ایک انسان کو صابر اور اپنا شکرگزار بندہ بنانے کیلئے ہی کسی دوسرے انسان کی محبت آزمائش کے طور پر اس کے دل میں ڈالتا ہے، یہاں امتحان لینے کے ساتھ ساتھ انسان کے دل کو مضبوط بنانا بھی ایک مقصد ہے. تاکہ انسان کا دل نرم ہو جائے اور پھر "اللہ تعالٰی" کی محبت اس قدر مضبوطی سے اس دل میں اس قدر راسخ ہو جائے، کہ کوئی اور مجازی محبت کبھی اس پر اثر نہ کر سکے.

انسان کا دل "اللہ تعالٰی" کا گھر ہے، اور اس گھر میں مستقل رہنے کا حق بھی صرف "اللہ تعالٰی" کو ہی حاصل ہے، انسان اک مسافر کی طرح اس دل میں عارضی قیام تو کر سکتا ہے، مگر دائمی رہائش کا اختیار انسان کو نہیں دیا گیا، یہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس کے برعکس کبھی کچھ ہونا ممکن نہیں ہے،
کسی بھی انسان کا دل کسی بھی دوسرے انسان کا ٹھکانہ، نہ کبھی تھا اور نہ ہی کبھی ہو گا. کیونکہ "اللہ تعالٰی" نے انسان کے دل کے سکون کو کسی دوسرے انسان کا محتاج نہیں بنایا، بلکہ قرآن پاک" میں واضح فرما دیا ہے کہ،

" بیشک دلوں کا سکون "اللہ" کے ذکر میں ہے"!

اس لئے کسی بھی دوسرے انسان کیلئے خود کو اذیت دینا، اس معاملے میں "اللہ تعالٰی" کی ناشکری کرنا اور "اُس" سے گلے شکوے کرنا گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے.
_____________________________
جتنا گرا ہے تو اک انسان کے پیچھے آتش
"رب" کی بارگاہ میں گرتا، تو آج ولی ہوتا!
_____________________________
محبت کی گہرائی سے محبوب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، اور گہری محبت کا رنگ سب رنگوں سے جدا ہوتا ہے، اک انسان اپنے محبوب کا جس قدر فرمانبردار ہو گا، اتنی ہی محبت گہری اور خالص ہو گی، محبت میں اطاعت پہلی شرط یے، اطاعت ہے، تو فرمانبرداری ہے، اور فرمانبرداری ہے تو محبت کے سب اصول اور تقاضے خود بخود پورے ہوتے چلے جاتے ہیں.

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر "اللہ تعالٰی" اپنے ایک بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، تو وہ اس بندے سے بھی بدلے میں محبت چاہتا ہے، اسلئیے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ "اس" کی اطاعت و حکم برداری سے اپنی محبت کو "اللہ تعالٰی" کی بارگاہ میں پیش کرے. اور اپنی محبت کے بدلے محبت دے کر "اللہ تعالٰی" کا شکرگزار بندہ بننے کا حق ادا کرے، اسی میں انسان کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کا راز مضمر ہے!
_____________________________
کیوں روتا ہے اس خاکی بشر کیلئے آتش
جس کی بے رخی سے تیرا ہر زخم جلتا ہے،

چل اٹھ اس در پہ چلتے ہیں خوشی خوشی،
جہاں آنسوؤں کے بدلے میں خود "خدا" ملتا ہے!
_____________________________

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 153 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ارم جنت

Read More Articles by ارم جنت: 2 Articles with 761 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: