ضمیر زندہ ہے

(Maham jawaid, Karachi)
ملک میں ثقافت کا عدم پرچار

ہم اکثر لوگوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ فلاں کا ضمیر مر گیا ہے یا فلاں کا ضمیر جاگتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔مگر نہیں۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ضمیر جاگتا یے۔۔۔۔۔روزانہ کی بنیاد پر جاگتا ہے۔۔۔۔۔مگر ہم اسے خود سلاتے ہیں۔۔۔۔۔اسے تھپک کر بہلا کر سلا دیتے ہیں۔ آج میں یہاں کسی ایک ٹاپک کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں لکھ رہی ہاں مگر شاید ان مختلف مسائل کا تعلق ایک ہی ٹاپک سے ہے اور وہ ہے اخلاقیات، میں یہ نہیں کہتی کہ کوئ بھی انسان سو فیصد درست ہے یا سو فیصد پاکیزہ ہے کسی بھی اعتبار سے، میرے نزدیک تمام انسان ہی خطاکار ہیں جن میں، میں خود بھی شامل ہوں، میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ کوئ بھی اداراہ، کوئ بھی پلیٹ فارم کسی بھی جگہ کا ریپریزینٹیٹیر ہوتا ہے وہ اپنی جگہ اور اس سے منسوب لوگوں، وہاں کے کلچر، وہاں کی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے اور جو کہ اس کا بنیادی فرض و حق دونوں ہے، لیکن اگر اس ہی جگہ کسی اور ملک کی ثقافت کیو ان کی تہذیب اور ان کے رہن سہن کو پروموٹ کیا جائے تو میرے نزدیک یہ بذات خود ایک بے وقوفی کی علامت ہے، یہاں ہم بات کررہے ہیں ہمارے ملک میں ہونے والے مختلف اوارڈ شوز کی جنہیں ہم کبھی بہت آئیڈیالائز بھی کیا کرتے تھے، وہاں جانا وہاں کا حصہ بننا ہمارے خواب میں شامل ہوتا تھا اور یہی خواہش ہمارے لوگوں کی ذہنیت کی بھی غمازی کرتی تھی کہ ان کی ترجیحات کیوں اس طرف ہیں،وہ اس لیے کہ وہ اوارڈ شوز اس بات کے اہل تھے، مگر ہاں اگر ہم بات کریں اب ہونے والے نام نہاد پاکستانی اوارڈ شوز کی تو یقیناً جو اب ان کے طریقہ کار کو جانتے ہوئے اس کی تمام بے ہودگیوں کو جانتے ہوۓ ان سب چیزوں کو پروموٹ کرتے ہیں یا انہیں داد و تحسین پیش کرتے ہیں تو شاید وہ لوگ پاکستان کو نہیں خود کی سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ہی پروموشن کرتے ہیں یا اپنی سوچ کی، بہر حال میرا ذاتی اختلاف اس بات سے ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم لوگ ایک ایسے معاشرے اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جو کم از کم کسی بھی غلط چیز کو کھلے عام پروموٹ کرنے کا حکم تو ہرگز نہیں دیتا، اب رہی بات کہ کیا میں یہاں اوارڈ شوز میں موجود لوگوں کی کردار کشی کررہی ہوں ان کے ظاہری تبدیلی کو دیکھتے ہوئے تو ایسا بالکل نہیں ہے میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ ہمارے ملک سے منسوب تمام چیزیں ہمارے ملک کی ریپریزینٹیٹیر ہیں، ہم اگر کوئ بھی غلط کام کرتے ہیں تو اس کا تعلق صرف انسان اور اللّٰہ کے ذاتی تعلق سے ہے ہم کسی کو جج نہیں کرسکتے، ہاں مگر ایک ایسا کام جو غلط ہو اور وہ آپ سو لوگوں کے سامنے کھلے عام کررہے ہیں اور لوگ اسے پسند بھی کررہے ہیں تو اس کا مطلب لوگوں پر اس غلط چیز کا اثر پڑ رہا ہے، اب یہ نہ کہنا کہ صحیح ہے تو لوگ پسند کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے، ہم انسان ہیں اور اکثر غلط چیزیں بھی پسند کرتے ہیں، تو کہنے کا مقصد یہ کہ اگر ہم کسی بھی چیز کو دس لوگوں کے سامنے اس لیے کریں گے کہ لوگ ہمیں سراہیں تو یہ ایک طرح کی ریپریزینٹیٹیشن ہے جو ہم کرتے ہیں، تو کیا ہی بہتر نہ ہو کہ ہم اپنے سوۓ ضمیر کو جگا کر اچھی چیزوں کو مجموعی سطح پر پھیلانا شروع کردیں اور اپنے مسلمان ہونے پر اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کریں، میرے نزدیک ہم اگر آدھے ننگے ہوکر کسی اوارڈ شو میں شمولیت اختیار کیے بغیر بھی اپنے کام کی بنیاد پر لوگوں کا دل جیت سکتے ہیں تو اس سے بہتر ہمارے لیے کچھ نہیں کہ ہم اپنے ہی ملک کی ثقافت کو سر اٹھا کر آگے بڑھائیں، اگر ہم ہماری معزز ایکٹریس کو اسٹیج پر بے ہودہ ڈانس نہ کرواتے ہوئے بھی اپنے اوارڈ شوز کو کامیاب بنا سکیں تو اس سے بہتر اور کوئ بات نہیں ہوگی، آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ "ضمیر ہم سب کا جاگتا ہے وہ مرتا نہیں ہے ہم اسے سلا دیتے ہیں، ہم خود کو بہلاتے ہیں، خود کو تسلی دینے کے لیے جھوٹے سچے دلیل پیش کرکے آپنے تئیں مطمئن تو ہو جاتے ہیں مگر ہم دراصل مطمئن نہیں ہوتے ہم ضمیر کو سلا سکتے ہیں مار نہیں سکتے، کیونکہ ضمیر سب کا زندہ ہے" ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maham jawaid
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Feb, 2020 Views: 159

Comments

آپ کی رائے