کرونا وائرس۔۔اﷲ ہی ہمیں بچائے

(Umar Khan Jozovi, )

یہ توقانون فطرت ہے کہ دوسروں کوبے سکون کروگے توپھرسکون سے تم بھی نہیں رہوگے۔کروناوائرس کے باعث چین ،امریکہ،برطانیہ،اٹلی اوربھارت سے پاکستان تک یہ بے چینی ،بے سکونی اورتشویش ویسے تونہیں ۔ہم نے کسی کوبے سکون کیاتب ہی توآج ہم بے چین اوربے سکون ہورہے ہیں ۔اس وائرس کی حیثیت چاہے جوبھی ہولیکن ہم انسانوں کے لئے اس وقت یہ کسی بڑے عذاب سے ہرگزکم نہیں۔جس چیزکے نام سے بھی خوف آئے۔جوشئے لمحوں میں دن کاچین اورراتوں کاسکون غارت کردے وہ اﷲ کاعذاب نہیں توپھراورکیاہے۔۔؟کشمیر،فلسطین،شام،چائنہ اورعراق میں انسانوں بالخصوص مسلمانوں کوجانورسمجھ کران کاچین اورسکون تباہ کرنے والے توشائدیہ سمجھ رہے تھے کہ ان سے پوچھنے والاکوئی نہیں ۔۔؟لیکن چین سے اٹھنے والی کروناکی لہروں نے یہ بات مزید واضح اورحقیقت دنیاکے سامنے آشکارہ کردی ہے کہ دنیاکے قوانین توتبدیل ہوسکتے ہیں لیکن قانون فطرت کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔دوسروں کوبے سکون کرکے کیاتم پھرسکون سے رہوگے۔۔؟نہیں ہرگزنہیں ۔اب بھی اگریقین نہیں آرہاتوچین سے امریکہ ،برطانیہ سے انڈیااوراٹلی سے پاکستان تک یہ بے چینی اوربے سکونی دیکھیں۔اﷲ کے ہاں دیرہے پراندھیرنہیں ۔اﷲ کی لاٹھی واقعی بے آوازہے۔ہمارے جیسے سرکشوں اورظالموں پرجب یہ پڑتی ہے توپھرکسی کوکانوں کان خبربھی نہیں ہوتی۔مگرافسوس ہم انسان بالخصوص آج کے مسلمان پھربھی ان قدرتی آفات،حادثات،سانحات اورآزمائشوں سے ذرہ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔کروناوائرس نے اس وقت پوری دنیاکوہلاکے رکھ دیاہے۔اس وائرس کے باعث مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک چھوٹے بڑوں سمیت دنیاکے ہرایک شخص اورفردکوجان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔بحیثیت مسلمان ہماراتوایہ ایمان اورعقیدہ ہے کہ موت کاایک دن اٹل ہے۔ایک نہ ایک دن ہم سب نے اس دنیاکوچھوڑکرہرحال میں جاناہے۔ہم اس دنیامیں نہ تواپنی مرضی سے آئے ہیں اورنہ ہی اپنی مرضی سے جائیں گے۔جس رب کے حکم سے ہم دنیامیں آئے اسی رب کی مرضی ومنشاء اورحکم کے مطابق ہم نے واپس جاناہے۔کروناوائرس کی وجہ سے آج پوری دنیامیں کرفیوکاسماں ہے۔ہرملک نے وائرس کے خوف اوردہشت کی وجہ سے دوسرے ممالک پراپنے دروازے بندکردیئے ہیں ۔موت کوتوکوئی ٹال نہیں سکتا۔جورات قبرمیں گزارنی ہے دنیاکاکوئی بڑے سے بڑااورطاقتورسے طاقتورشخص بھی وہ رات دنیامیں گزارنہیں سکتا۔اورجب تک زندگی ہے اس وقت تک کروناوائرس کیا۔۔؟کہ دنیاکی کوئی طاقت بھی کسی کومارنہیں سکتی۔اسی لئے توجہاں قرآن کریم کی مقدس آیات اوراسلامی تعلیمات کے ذریعے اہل دنیاپریہ واضح کیاگیاکہ ہرنفس نے موت کاذائقہ چکھناہے وہیں یہ حقیقت بھی دین اسلام نے کھل کربیان کی کہ وقت سے پہلے موت بھی کبھی نہیں آسکتی۔اس سے پہلے بھی جودنیامیں آئے ہرذی روح نے موت کاذائقہ چکھااورآئندہ بھی قیامت تک جوبھی اس دنیامیں آئے گا وہ موت کاذائقہ چکھ کرہی دنیاسے جائے گا۔دنیامیں ہرچیزسے فرارہے مگرموت سے بھاگنے اورچھپنے کاکوئی راستہ نہیں ۔موت کوزندگی کے ساتھ لازم کرنے کے بعداہل دنیاکواس حقیقت سے بھی خبردارکیاگیاکہ جب تک کسی نفس ،کسی ذی روح کارزق مکمل نہیں ہوتااس وقت تک اس کوموت نہیں آئیگی ۔کسی کااس دنیامیں رزق کاایک دانہ بھی باقی ہواس وقت تک اس پرکرونامروناکاکوئی اثرنہیں ہوگا۔جب تک دنیامیں دانہ پانی ہے اس وقت تک زندگی ہے جب دانہ پانی ختم ہوگاپھرکرونانہیں محض ایک سیکنڈکارونابھی موت کاسبب بنے گا۔کروناوائرس یہ کوئی موت نہیں ۔زندگی اورموت اصل میں اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔جس رب نے ہمیں پیداکیااورآج تک دنیاکی ہرآفت،مصیبت،وباء،بیماری اورپریشانی سے ہماری حفاظت فرمائی وہی رب اب کروناسے بھی ہماری حفاظت فرمائے گااس لئیہمیں آزمائش اورامتحان کی اس گھڑی میں قوم کے اندرخوف وہراس پھیلانے کی بجائے سچے دل سے اپنے رب کی طرف رجوع کرناچاہئیے۔یہ زندگی جو ہمارے پاس اﷲ تعالی کی امانت ہے۔اس کی حفاظت ہم پرفرض اوراس کے لئے احتیاط ہم پر لازم ہے۔یہ حقیقت جاننے اورماننے کہ موت کاایک دن مقررہے پھربھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں کروناجیسے وائرس اورموذی امراض سے خودکوبچانے کے لئے اپنے طورپرہرممکن احتیاط اوراقدامات کرنے چاہئیں۔موت برحق اورایک دن اس کا مقررہے وہ توہم سب کوپتہ ہے مگروہ دن کونساہے یہ ہم میں سے کسی کونہیں معلوم ۔اس لئے اس طرح کے حالات میں اپنے آپ اورپوری قوم کوتباہی سے بچانے اورآزمائش سے نکالنے کے لئے ہمیں اپنے رب کے سامنے گڑگڑاکررونااورتڑپناچاہئیے۔اے اﷲ تونے ہمیں پیداکیااورتوہی اب اس کرونااوراس جیسے دیگروائرس اوربیماریوں سے ہماری حفاظت فرما۔آمین۔چین ،امریکہ،اٹلی اوردیگرممالک پرجب کرونانے حملہ کیاتووہاں پوری پوری قوم اس کے خلاف یکجان اورمتحدہوئی مگریہاں 20سے زائدکیسزسامنے آنے کے باوجودہم ابھی تک لوٹ مارکے چکروں سے باہرنہیں نکلے ہیں ۔آج کروناپرسکولز،کالجز،مساجداورمدارس کے دروازے بندکرنے والے اگرصرف ایئرپورٹس،پاک افغان،چین اورایران بارڈرکے دروازے اس وائرس پراچھی طرح بندکرلیتے توآج ہمیں ان حالات سے کبھی گزرنانہ پڑتامگرافسوس پیسوں کی لالچ میں ہم اس قدراندھے ہوئے کہ پھر ہمیں اپنی جانوں کاکچھ خیال رہااورنہ ہی اپنے بچوں اوراس قوم کی کوئی فکررہی۔ہماری اسی لالچ،غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے آج نہ صرف اس ملک میں ہرطرف کروناکاراج ہے بلکہ لاکھوں اورکروڑوں انسانوں کی زندگیاں بھی اب داؤپرلگ چکی ہیں ۔چین میں کروناکیسزاوروباء سامنے آنے کے بعدامریکہ،سعودی عرب،بھارت اوردیگرممالک نے توٹھوس اقدامات اٹھائے ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے کیاکیا۔۔؟چین کے لئے فضائی دروازے توہم نے فوری بندکئے لیکن ہمارے پڑوس ایران میں کئی کیسزرپورٹ ہونے کے بعدبھی ہم نے پاک ایران بارڈرپراپنے روایتی طورطریقوں کونہیں بدلا۔بظاہربارڈربندہونے کے باوجودمٹھی کی گرمائش پربارڈرکے ذریعے آنیاں جانیاں پھربھی جاری رہی جس کی وجہ سے کروناکاعذاب ہم تک آسانی سے پہنچ آیا۔کچھ نادان پوچھتے ہیں کہ اٹلی،چین ،سعودی عرب اورایران میں کروناوائرس سے متاثرہونے والے لوگ پاکستان میں واپس کیسے آئے ۔۔؟انہیں نہیں پتہ کہ کرونااگرہاتھ میں کچھ نوٹ پکڑکرکسی انسان کے بغیرخوداکیلے بھی آئے توایئرپورٹس اورپاک ایران وافغان بارڈرپریہ رنگ برنگے جھنڈے لہرانے والے ہمارے یہ مہربان اس کے ہاتھ اورماتھے کو چومتے ہوئے نہ صرف پرجوش اندازمیں اسے ویلکم کہے بلکہ کسی خفیہ دروازے سے انہیں بھاری پروٹوکول میں ملک کامہمان بھی بنالے۔باڑے میں بڑے ہونے والے کٹے کے دانت پھرنہیں گنے جاتے۔کون کتناپانی میں ہے ۔۔؟یہ ہمیں سب پتہ۔دیگرممالک میں اقلیت پربھی کوئی مشکل آئے توپھرپوری قوم ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔مگرہمارے ہاں یہ رواج نہیں۔یہاں اکثریت بھی اگرکسی مشکل سے دوچارہوتوپھربھی ہربندہ بندربن کرلوٹ مارکے طریقے دیکھتااورڈھونڈتاپھرتاہے۔یہی وجہ ہے کہ کروناوائرس کے پیش نظر باہرکے ممالک میں شہریوں کوماسک فراہم کئے جارہے ہیں مگریہاں پہلے سے موجودلاکھوں اورکروڑوں ماسک بھی مارکیٹ سے غائب کرنے کاکام بڑی ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیاجاتا ہے ۔کروناجیسے وائرس اوروباء سے اﷲ ہی بچانے والاہے اوروہی رب ہی ہمیں اس آفت اورمصیبت سے بچائے گا۔ورنہ مارنے اوربچانے والی بات اگرہمارے ان بڑے بڑے مگرمچھوں کے ہاتھ یابس میں ہوئی توہمیں نہیں یقین کہ پھرہم ایک منٹ کے لئے بھی کہیں زندہ رہ سکیں گے ۔کیونکہ ہمارے ان مگرمچھوں کوانسانوں سے زیادہ مال وزرسے پیارہے۔ان کابس چلے تویہ چندٹکوں کی خاطر پوری قوم کوبھی کروناپربیچ ڈالے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 113 Articles with 34253 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Mar, 2020 Views: 197

Comments

آپ کی رائے