الفاظ کے ردوبدل نے ، رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا

(Dua Waqar, )

الفاظ کے ردوبدل نے ، رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا۔
'میرا جسم میری مرضی' جیسے الفاظ کے چاہے کتنے ہی بےشمار معنی کیوں نہ ہو ،عورت کے منہ سے نکلے گئے اس جملے نے حیاء کے اس حصے کو داغدار کیا جو ایک مسلم عورت کا فخر اور کُل سرمایہ تھا۔
اسلام نے زمانہ جاہلیت میں زندہ دفنا دینے والی عورت کو ان حقوق اور عزت سے دوچار کیا جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتی۔ دین اسلام نے عورت کو سایہ نور کی چادر سے چھپاکر امت مسلمہ کی پہچان بنایا۔
آج عورت مغرب کی اندھی تقلید کرنے میں مصروف ہے۔ اپنی زینت کی مجموعی طور پر تعریف ان الفاظ سے کررہی ہے کہ 'میرا جسم میری مرضی'!! گویا معلوم یہ ہورہا ہے کہ عورت انجان ہے کہ اس کا جسم اللّٰہ کی دیں ہے محض یہی نہیں بلکہ یہ اس کے رب کی امانت ہے۔
بلاشبہ 'میرا جسم میری مرضی' کہنےوالی عورت اس بات سے بھی انجان بن رہی ہے کہ زینت کا تعلق بےحیائ سے نہیں بلکہ حیاء سے ہے ۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"بے حیائ جس چیز میں ہو،اسکو عیبدار بنادیتی ہے اور حیاء جس کام میں ہو اسکو خوبصورت بنادیتی ہے"

8مارچ کو مناۓ جانے والے 'آزادی عورت مارچ' میں اگر عورتیں ان حقوق کے لیے اپنے گھروں سے نکل باہر آتیں جو ان کے لیے قرآن وحدیث میں واضح بیان ہیں۔ تو ان کے ہمراہ تمام مسلم گھرانے کی عورتیں شامل ہوتیں ۔ لیکن ہاتھوں میں بے حیائ کا سامان لےکر، اپنے گھروں سے نکل باہر، اپنی عزتوں کا تحفظ ناچ ناچ کر مانگنا محض عورت کا اپنا مقصد حیات بھول جانے کی مانند ہے۔آجکی عورت گھروں سے باہر نکل کے اپنے شوہر سے ان کاموں کے کرنے کا مطالبہ کرتی ہے کہ جو اللّٰہ نے عورت کے ذمے دیا ہے اور اسی کو دونوں کے درمیان محبت کا واضح ذریعہ بنایا ہے۔ 'میرا جسم میری مرضی' کرنے والی عورت بھول جانا چاہتی ہے کہ اللّٰہ نے شوہر کو بیوی کے لیے حاکم مقرر کیا محض وہی اس کے تحفظ کا ذریعہ ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عورت کو اصل معنوں میں ان کے حقوق بتائے ہیں۔ اگر پھر بھی مسلم معاشرے میں رہنے والی وہ لبرل عورتیں جو نہیں جانتی کہ قرآن کریم میں عورت کے حقوق کے لیے سورۃ نساء اتاری گئی اور عورت ہی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ مریم اور سورۃ نور میں خود گواہی دی۔ تو ان کا ٹھکانہ 'لا الہ الااللہ' کے ملک میں نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ میں ہے۔ 'لا الہ الااللہ' کا ملک کسی باپ کی جاگیر نہیں ہے بلکہ یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی جاگیر ہے۔ یہاں 'میرا جسم میری مرضی' نہیں چلے گا بلکہ 'میرا جسم میرے رب کی امانت' ، 'میرا جسم میرے رب کی عبادت' چلے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dua Waqar

Read More Articles by Dua Waqar: 2 Articles with 237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2020 Views: 119

Comments

آپ کی رائے