کورونا میں بھی مسلمانوں کا جبری استحصال

(Muhammad Humayun Shahid, Bahawalnagar)
کورونا جیسی موذی وباء کے پیشِ نظر  مسلمانوں کا استحصال بطور مسلمان تو دل جلاتا ہے بلکہ بطور انسان بھی یہ  مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے. اس سب صورتحال میں ان نام نہاد دنیاوی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس ظلم سے باز آجائیں اور مزید تباہی کا باعث نہ بنیں . کیونکہ مظلوم کی آہ عرش تک کو ہلا دیتی ہے. اور مولا علی کے قول کے مطابق" کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں" کے مصداق کہیں اپنے اس نظام سے ہاتھ ہی نہ دھو بیٹھیں . کیونکہ اصل نظام کا مالک تو ﷲ ہے. اور وہ جسے چاہے ترقی دیتا ہے اور جسے چاہے برباد کر دے. لہٰذا ہمیں یہ دعا اور توبہ کرنی چاہیے کہ ﷲ ہم سے راضی ہوجائے. ورنہ کہیں یہ نہ ہو کہ قیامت سے پہلے اس نظام کو سمیٹ دیا جائے.

کورونا جو کہ بذات خود ایک ایسی تباہی ہے جو کہ تمام انسانیت کا استحصال کررہی ہے اس سب صورتحال میں بھی دنیاوی قوتیں مسلمانوں کا جبری طور پر استحصال کرنے سے باز نہیں آرہی ہیں اور جب کہ کورونا نے ان سب طاقتوں کو بےبسی کا باعث بنا دیا یے مگر نہیں بنایا تو بے حسی کا پر یہ کمی ان نام نہاد طاقتوں نے خود پوری کرلی ہے. آپ سب ورطہ حیرت میں ہوں گے کہ اس بے بسی کے عالم میں جہاں ساری انسانیت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے وہاں کچھ نام نہاد دنیاوی طاقتیں کیسے بےحسی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کا استحصال کرنے سے باز نہیں آرہی ہیں. یہ سب طاقتیں اس درد ناک گھڑی میں بھی اپنی سفاکیت دکھانے سے باز نہیں آرہی ہیں. یہاں میں بنیادی طور پر تین دنیاوی قوتوں کی سفاکیت کا ذکر کروں گا. سب سے پہلے میری اس لسٹ میں جس دنیاوی قوت کا نام آتا ہے وہ ہے ہمارا دوست چین جو کہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کام آتا ہے اور جس کی دوستی ہر عہد میں وفا ہوتی آئی ہے. جی ہاں یہی چین جوکہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بھی ہے. اس چین میں اول نمبر پر مسلمانوں کا استحصال نظر آتا ہے. بطور پاکستانی اگر میں چین کی تعریف کروں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے. ہاں پر بطور مسلمان میں اگر چین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی بات نہ کروں تو یہ میری خود غرضی ہوگی . جس خود غرضی میں اکثر پاکستانی اور دوسرے ممالک کے مسلمان شامل ہیں. جو کہ جان بوجھ کر محض ملکی مفاد اور معاشی لالچ کا شکار ہو کر اس ہونے والے بہیمانہ ظلم کو نظرانداز کر دیتے ہیں. یہ بھولتے ہوئے کہ کل روز قیامت انھوں نے اپنی اس چپ کا جواب بھی دینا ہے. مگر میں یہاں آج چین کی اس سفاکیت کا پردہ چاک کروں گا اور اس تصویر کی حقیقت کو ظاہر کروں گا جس میں چین ظالم کی حیثیت سے نمایاں ہورہا ہے. یہ بات تو مشہور ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں منتقل کیا جارہا ہے. اور وہاں ان کو دین سے دوری کا سبق پڑھایا جارہا ہے. مگر جیسے ہی کورونا نے چین کو اپنی آغوش میں لیا تو چین نے اس کا متحد ہو کر مردانہ وار مقابلہ کیا. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج چین تیزی سے اس متعدی وباء پر قابو پا رہا ہے. مگر اس سب صورتحال کے پس پردہ ایک تفتیشی رپورٹر سی جی وارلا مین نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ چین اپنے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کہ پیش نظر حراستی کیمپوں میں قید مسلمانوں کے اعضاء کی غیر قانونی کٹائی کررہا ہے. یہ پہلا موقع نہیں ہے جب یہ الزام لگایا گیا ہے. گذشتہ ستمبر میں یہ اطلاع ملی تھی کہ ہوسکتا ہے کہ بھیانک عمل میں سینکڑوں ہزاروں ایغور مسلمان ہلاک ہوئے ہوں. ایک اور صحافی بٹر وینٹر جو کہ چین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بےنقاب کرنے میں مشہور ہے لکھتا ہے کہ "اگرچہ دنیا بھر میں ایک مناسب ڈونر سے کسی ایک پھیپھڑے کے حصول میں انتظار کا وقت سال ہوسکتا ہے. پر چین نے اس سارے عمل کو دو سے تین دن میں کرکے شکوک و شبہات میں ڈال دیا ہے". جس کو مزید پکا کرتے ہوئے ایک حالیہ انٹرویو میں، ایک چینی خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایغور مسلمانوں کو" مطالبہ پر ذبح کیا جارہا ہے ". اگرچہ الزام لگایا جاتا ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں صنعتی پیمانے پر جبری طور جبری اعضاء کی کٹائی کا پروگرام قائم کیا ہے. ان سب الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیجنگ بار بار دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے قیدیوں سے اعضاء کو زبردستی نہیں ہٹایا ہے بلکہ اس نے تو پانچ سال قبل پھانسی پانے والے قیدیوں سے اعضاء کا استعمال بھی بند کردیا تھا. بہرحال جو بھی ہو اس سب معاملے میں چین چپ ہو کر پس پردہ مسلمانوں کا استحصال کررہا ہے. اور بحیثیت انسان ہر کوئی چین سے اس معاملے میں تحفظات کا اظہار کرتا ہے. اور چین ہر بار اس الزام کو مسترد کر دیتا ہے. خیر یہ تو وہ سفاکیت ہے جو چھپ کر کی جارہی ہے. مگر یہاں کچھ قوتیں برملا اپنی سفاکیت کا اظہار کرتی ہیں. جن میں بھارت کا شمار اول نمبر پر ہوتا ہے. کورونا جیسی متعدی وباء میں جہاں ساری دنیا کو لوک ڈاون کا سامنا ہے وہاں بھارت اپنی سفاکیت سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور کشمیر سے کرفیو کے نفاذ کو ختم نہیں کررہا ہے. کیونکہ کشمیر میں بھی کورونا کے مریضوں کا انکشاف ہوا ہے پر بھارت اپنی ضد پر بضد ہے اور اس موقع پر بھی کرفیو نہیں ہٹا رہا ہے جبکہ بھارت خود بھی لوک ڈاون کا ذائقہ چھک رہا ہے. میرے نزدیک بلکہ انسانیت کے نزدیک بھی کورونا میں بھی مسلمانوں کا جبری طور پر استحصال انسانی استحصال کی بدترین مثال ہے. یہ استحصال کشمیر کے علاوہ بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی نظر آتا ہے جس کی تازہ ترین مثال دہلی میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم ہیں. یہ سب جو میں ذکر کرچکا ہوں سفاکیت کی بدترین مثالیں ہیں . لیکن کیونکہ میں مسلمانوں کے استحصال کی تصویر کھینچ رہا ہوں اور اگر میں اس موقع پر امریکا کی ایران پر لگائے جانے والی پابندیوں کا ذکر نہ کروں تو مسلمانوں کے استحصال کی تصویر مکمل نہیں ہوگی. ایران جو کہ اٹلی اور چین کے بعد کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اموات کی شرح بھی وہاں دن بہ دن بڑھ رہی ہیں. ان سب حالات میں امریکہ کی ایران پر مزید پابندیاں مسلمانوں کے استحصال کی ایک اور واضح مثال ہے.جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقع پر امریکہ وقتی طور پر پابندیاں ختم کرتا اور تمام انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایران کی مدد کی اجازت دیتا. اور وہاں پر موجود وینٹیلیٹرز کی کمی کو پورا کرنے میں اور ادوایات کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد کرتا. تاکہ ایران بھی دوسرے ممالک کی طرح کورونا جیسے متعدی مرض سے لڑسکتا. اس کے برعکس امریکہ بہادر ایرانی حکومت کو مالیاتی فنڈ سے ہنگامی طور پر پانچ بلین ڈالر کے قرض کی درخواست کرنے پر مجبور کر رہا ہے. اس وجہ سے ہی ایرانی صدر نے متعدد عالمی رہنماؤں کو خط لکھا ہے کہ ہمیں امریکی پابندیوں سے کچھ رعایت دلوائی جائے تاکہ ہم وائرس کے خلاف لڑائی کو جیت سکیں. اس موقع پر تہران نے امریکی حکومت پر طبی دہشتگردی کا الزام بھی عائد کیا ہے. جو کہ وقت کی مناسبت سے بالکل صحیح ہے. کورونا جیسی موذی وباء کے پیشِ نظر مسلمانوں کا استحصال بطور مسلمان تو دل جلاتا ہے بلکہ بطور انسان بھی یہ مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے. اس سب صورتحال میں ان نام نہاد دنیاوی قوتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس ظلم سے باز آجائیں اور مزید تباہی کا باعث نہ بنیں . کیونکہ مظلوم کی آہ عرش تک کو ہلا دیتی ہے. اور مولا علی کے قول کے مطابق" کفر کا نظام تو چل سکتا ہے پر ظلم کا نہیں" کے مصداق کہیں اپنے اس نظام سے ہاتھ ہی نہ دھو بیٹھیں . کیونکہ اصل نظام کا مالک تو ﷲ ہے. اور وہ جسے چاہے ترقی دیتا ہے اور جسے چاہے برباد کر دے. لہٰذا ہمیں یہ دعا اور توبہ کرنی چاہیے کہ ﷲ ہم سے راضی ہوجائے. ورنہ کہیں یہ نہ ہو کہ قیامت سے پہلے اس نظام کو سمیٹ دیا جائے. نیز یہ کہ بحیثیت انسان بھی ہمیں ہر قسم کے ظلم کی مخالفت کرنی چاہیے اور اپنے اچھے انسان ہونے کا ثبوت دیا جائے. شاعر نے بھی اس سفاکیت کو اپنے شعر سے روشن کیا ہے اور وہ بھی عالمی برادری سے اس ظلمت کے بارے انصاف کا طلب گار ہے؛
مِٹ‌ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں‌ نہیں‌ دیتے
تحریر : ہمایوں شاہد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Humayun Shahid

Read More Articles by Muhammad Humayun Shahid: 34 Articles with 9854 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2020 Views: 196

Comments

آپ کی رائے