اسامہ ریاض۔۔۔قومی ھیرو!!

(Sardar Khursheed Akhtar, Islamabad)

"تم سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے مفید ہے"
دوسروں کے لیے مفید کون ھیں؟ جو جان کی ، مال کی،اور اپنی پیاری چیز کو دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے قربان کر دیتے ہیں،وہ بھی مفید ھیں جو دوسروں کے لیے راستے بنائیں،کنوئیں بنائیں،اور درخت لگائیں ،وہ عظیم ھستیاں بھی ھیں جو غریب کا ،یتیم کا سہارا اور بیواؤں کی ڈھال بنتے ہیں،وہ استاد معمار ہیں، قوم کے جو علم کی روشنی پھیلاتے ہیں جو لیڈر اپنا آپ بھول کر قوم کے لیے قربانیاں دیں،جو سرحدوں پر کھڑے ہو کر آپ کو تحفظ دیں ،جو علم کی شمع روشن کرکے لوگوں کے قلب و باطن کو منور کریں سبھی تو ھیرو ھیں مگر ان کی ناقدری سے قوم رسوا اور یہ سزا کے طور پر اٹھا لیے جاتے ہیں۔ڈاکٹرز کو دنیا بھر میں مسیحا کا درجہ حاصل ھے بے لوث ھو کر انسانیت کے لیے لڑنا ان کا خیال رکھنا اور اپنی جان کی بازی لگا دینا یہی تو ڈاکٹر ہیں بدقسمتی سے مال و دولت کی محبت نے ڈاکٹرز کا یہ مقام چھین لیا ھے مگر اس کے باوجود وہ کسی قوم کے لیے بڑی نعمت سے کم نہیں جب جان لبوں پر ہو تو ڈاکٹر کی ضرورت اور علاج نعمت خداوندی ہے۔ آج 23 مارچ 2020ء کو اسا مہ ریاض نے ڈاکٹروں کو ایک ایسا مقام دلا دیا ہے جو صدیوں یاد رہے گا آج دنیا کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے دوچار ھے اس وقت ایٹمی ہتھیار بے بس عالمی طاقتیں مجبور، مگر ڈاکٹر ھروال دستہ ھیں اس جنگ کو انہوں نے چین میں جیتا ھے آج پاکستان کا ھیرو ڈاکٹر اسامہ ریاض تفتان سے آنے والے کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج وحفاظت کرتے کرتے اپنی جوانی قر بان کر بیٹھا یہ ھے وہ قومی ھیرو جسے پوری قوم سلام کرتی ہے وہ مٹی ھو گیا مگر ھمت نہیں ھارا سانسوں کی ڈوری تو ٹوٹ گئی مگر شہادت کا ،فخر قوم کا جام پی لیا۔اسامہ نے نہ دن دیکھا نہ رات وبا سے لڑا اور دوسروں کو لڑنے کا سبق دے گیا ،کتنی عظیم ھے وہ ماں جس نے اس عظیم سپوت کو۔ جنم دیا۔وہ گلگت کی پہاڑیوں سے نکلنے والا وہ خزانہ ھے جو کبھی ختم نہیں ہو گا وہ پھول ھے جس کی خوشبو جنت کے باغ سے ھو کر ملک کی فضاؤں کو معطر کرے گی۔اسامہ ریاض وہ صدائے خوش کن ہے جو کانوں میں صدیوں تک رس گھولتی رہے گی اس کا بستر حسین کے دامن میں ھو گا اور علی نے جھوم کر چوم لیا ھو گا۔تجھے جنت کی فضائیں سلام کہتی ہیں۔اے راہ حق کے شہید تجھے وطن کی فضائیں سلام کہتی ہیں تیری شروع کی گئی جنگ ھم جیت جائیںگے انشاللہ اے قوم کے ھیرو الوداع۔الوداع!!!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Khursheed Akhtar

Read More Articles by Sardar Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27936 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2020 Views: 180

Comments

آپ کی رائے