سو آج کس کی بادشاہت ہے؟

(Akbar Ali, )

 نئی دھائی کے آغازنے ہی دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ ایک طرف امریکہ کوریا اور ایران سے زور آزمائی کر رہا تھا کبھی جوہری پابندیا ں کبھی isolation کی دھمکیاں!!! دوسری طرف دو دھائیوں سے جنگ لڑنے کے بعد طالبان کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے اور امن معاہدہ کر کے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ سوپر پاور بننے کی رسہ کشی میں چائنا روس اور جاپان بھی کسی طثر پیچھے نا تھے۔ شام کے معاملے میں اقوام عالم ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا بھی دو حصوں میں بٹی نظر آئی ۔ کشمیر پر انڈیا نے کرفیو لگا کر اسے دنیا سے isolate کر رکھا تھا ۔ ادھر مشرق وسطی کی طاغوتی قوت اسرائیل فلسطین پر کسی وحشی درندے کی طرح پہرہ دئیے بیٹھا تھا۔

ایسے میں چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا نے پوری دنیا کو لاک ڈاون اور ہر ایک قوم کو isolate کر دیا۔ ایک نظر نا آنے والے مائکو آرگانزم نے دنیا کو اس کی اوقات یاد دلا دی ۔ بادشاہت اور عنانیت کے خمر میں مست بڑے بڑے شہنشاہوں کو خانہ قدرت کے ایک جراثیم نے خدا یاد دلا دیا۔ جیسے قیامت سے پہلے ہی قیامت کا عذاب شروع ہو گیا اور اس قادر مطلق نے پوچھ لیا ہو
لمن الملک الیوم؟؟؟
سو آج کس کی بادشاہت ہے؟؟؟

اٹلی ، فرانس ، امریکہ ، یورپ ، چائنا سب کی development اور technology دھری کی دھری رہ گئی ، دنیا بھر میں وبا نے دہشت پھیلا دی۔ اٹلی لاشیں گن گن کر تھک گیا اورآخر کار
we seek mercy from skies
کے الفاظ نے ان کی بے بسی عیاں کر دی ۔ فرانس نے ایفل ٹاور پر لفظ mercy (رحم) لکھ دیا بڑے بڑے ایتھسٹ آسمان کی طرف دیکھ دہے ہیں کہ خالق کائنات سے رحم کی اپیل کریں یا کوئی مسیحا آئے اور اس آفت سی نکالے۔

اٹلی میں سجدے کئے جارہے ہیں ہندوستان سے کلمہ کی صدائیں گونج رہی ہیں ۔ تمام مسلم۔ممالک آذانیں دے کر توبہ استغفار کر کے روٹھے رب کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ چرچوں میں اللہ کے نام پکارے جا رہے ہیں حتی کہ ٹرمپ جیسے بندے کو خدا یاد آ گیا ہے

۔ایسے میں پنجابی کا مشہور قصہ صحیح صادق آتا ہے ۔ ایک نافرمان لڑکا اپنی۔ماں کو بھت ستاتا تھا ایک دن کسی الزام۔میں تھانے میں بند کر دیا گیا ماں کو خبر ہوئی تو فورا ملنے چلی گئی وہاں دیکھا پولیس کے ہر چھتر پر وہ چیخ کر اپنی ماں کو پکارتا تھا اماں!!! اماں !!! اس پر اس کی ماں نے کہا قربان جاواں تیرے تے تھانے دارا جینے ایس بغیرت نو ماں یاد دلا دتی۔ یہی حال ہے آج دنیا کا جنہیں کرونا نے اللہ کی یاد دلا دی۔

بس بات یہ ہے کہ سب سدھر جائیں گے ، ہر کسی کو ہدایت آ جائے گی مگر کچھ بھی ہو جائے مسلمان سدھرنے کی، عقل استعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ یہ بیٹھ کر لوگوں پر رعب جمائیں گے کہ تم اب ہمارے رب کو پکار رہے ہو یا بیٹھ کر امام مہدی کا انتظار کریں گے مگر!!! سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے نہیں آئیں گے صرف جہالت کے میدان میں جھنڈے گاڑیں گے۔ مؤرخ لکھے گا جب کافر اس آفت سے نمٹنے کی لیے ماسک وکسین اور ہسپتال بنانے مپں مصروف تھے تو مؤمنین کی قوم قرآن سے بال نکالنے بچہ یہ کہہ کہ مر گیا چاندالٹانکل آیا حضور نے خواب میں یہ فرمایا جیسے من گھڑت اور توہم پرستی پر مبنی قصے گھڑ رہی تھی
یھدیکم اللہ
ارے ہمیں تو اسلاف کے نقش قدم۔پر چل کر دنیا کی امامت کرنا تھیں مگر آج غیروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہپں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر منتظر فروا ہیں ۔ کرونا تو آیا ہے چلا جائے گا مگر ہمیں انسانیت کون سکھائے گا؟؟؟؟ جو ملک تیس دنوں سے یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ اس نے ٹائیگر فورس بنانی ہے پا لوکل گورنمنٹ کو اختیار دینے ہیں؟ تفتان بارڈر بند کرنا ہے یا لوگوں کو یونہی مرنے کے لے چھوڑنا ہے؟ لاک ڈاون کرنا ہے یا نہیں؟؟؟؟ تو بس الامان وا لحفیظ#
تحریر حفصہ اکبر ساقی
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلامآباد ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akbar Ali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Apr, 2020 Views: 206

Comments

آپ کی رائے