!موت امید سے کس قدر قریب ہے

(Waleed Ahmad, Loralai)
پی آئی اے گزشتہ حادثہ اور ماضی میں ہونے والے حادثات. موت امید سے کتنی قریب ہے!

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی بنیاد 1946 میں اورینٹ ائیر ویز کے نام سے کراچی میں رکھی گئی۔1965 سے لے کر 2020 تک 8 بڑے واقعات پیش آئےجن میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔حالیہ حادثہ پی آئی اے کے طیاے ائیر بس A320 کے ساتھ پیش آیا،جس میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے جس میں سے صرف دو افراد معجزانہ طور پر حیات رہے جبکہ باقی تمام مسافر اس المناک حادثے میں جان کی بازی ہار بیٹھے۔پی آئی اے کا طیارہ لیںڈ کرنے سے صرف 40 سیکنڈ کے فاصلے پر تھا گو کہ زندگی اور موت کے درمیان سرف چند سیکنڈ کا فاصلہ تھا مگر زندگی سے پہلے موت نے اپنا کام دکھا دیا۔حضرت
"علیْ کا قول ہے کہ "موت امید سے کس قدر قریب ہے!!
Stay home,stay safe
انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ ہے جبکہ انسان وہاں محفوظ ہے جہاں اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھے۔آپ سب نے یہ بات ضرور سنی ہو گی کہ عمر بیت جاتی ہے ایک گھر بنانے میں۔ذرا سوچئے جن پانچ مکانات پر یہ طیارہ گر کر تباہ ہوا ان پر کیا گزر رہی ہو گی؟جس خاندان کے ایک سے زیادہ افراد اس جہاز پر سوار تھے،جس گھر سے ایک سے زیادہ جنازے نکلیں گے ان کے دلوں کا حال کون جانے؟جو ماں اپنے جوان لخت جگر کے لیے عید کا جوڑا بنا کر بیٹھی ہو گی اس کی راہ تکتی آنکھوں کا کیا؟گو کہ کتنے گھر ایک بار پھر سنسان ہوئے۔ذمہ دار کون؟

جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ 1965 سے لے کر اب تک 8 بڑے حادثے پی آئی اے کے ساتھ پیش آئے جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ حادثے کسی اور ائیر لائن کی تاریخ میں نظر نہیں آتے۔آخر اس سب کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟غور سے سنئے اس آواز میں کتنا درد ہے "Sir,we have lost the engine" اور وہ آخری دل دہلا دینے والی بات "Sir,Mayday mayday mayday"۔ہر فلائٹ سے پہلے انجینئر کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ جہاز کا معائنہ کرے اسکے بعد ہی اس جہاز کو اڑان بھرنے کی اجازت ہوتی ہے مگر نہ جانے ہم کس اندھیر نگری میں رہ رہے ہیں۔آخری دفعہ اس طیارے کا تفصیلی معائنہ یکم نومبر 2019 کو کیا گیا تھا۔جبکہ 28 اپریل کو چیف انجینئر نے علیحدہ سرٹفکیٹ سائن کیا جس میں تحریر ہے کہ جہاز ہر حوالے سے بالکل ٹھیک ہے۔اب خدا جانے کہ کس حوالے سے اسے بالکل ٹھیک قرار دے دیا گیا۔ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ جہاز 2004 سے لیکر 2014 تک چائنہ ایسٹرن ائیرلاینز(CEA) کے زیرِ استعمال رہا۔آفرین ہے! جس طیارے کو چائنہ نے دس سال چلا کر چھوڑ دیا وہ چھ سال سے پاکستان میں چل رہا تھا اور کافی عرصے سے تفصیلی معائنے کے بغیر۔کیا اس سب کا ذمہ دار وہ انجینئر نہیں جس نے اس طیارے کو اڑنے کی اجازت دے دی؟کیا اس سب کا ذمہ دار پی ائی اے کا سی ای او نہیں؟کیا صرف پریس کانفرنس میں واقعے کی مذمت کر دینا ان تمام لوگوں کا نعم البدل ہو سکتا ہے جو اس واقعے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟پریس کانفرنس میں یہ کہہ دینا کہ انکوائری ہو گی کافی ہے؟ ارے جب پاکستان کے طاقتور ترین ضیاءالحق کے طیارے کے تباہ ہونے کی انکوائری رپورٹ آج تک سامنے نہ آئی تو یہ تو پھر عوام الناس تھے!
کرسی ہے,تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اُتر کیوں نہیں جاتے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waleed Ahmad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 May, 2020 Views: 451

Comments

آپ کی رائے