دادا دادی۔۔۔۔محبت کا لازوال رشتہ

(Mehreen Fatima, )

دادا دادی -- بچپن کی کہانیاں یاد آنے پر وہ پہلا نام ہے جو ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ جن کو ہم اپنے والدین کے بارے میں شکایت سنانے کے لئے بھاگتے ہیں جب وہ ہماری بات نہیں مانتے تھے توجو تصویر ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ ہمارے پیارے دادا دادی کی ہے۔جب ٹیوشن سے جلدی چھٹی چاہیے ہو،جب چھٹی والے دن سائیکل پہ چکر لگانے ہو،جب رات کو مزےدار سا قصہ یا کہانی سننےکا دل ہو،آج بھی جب کسی اسکول کے باہرآئسکریم اسٹال دیکھتے ہیں،مکئی بیچنےوالے کی آواز گلی میں گونجتی ہے،عمروعیار کی، ٹارزن کی،جن،بونے ،شہزادے شہزادیوں کی کہانیاں کہیں دیکھتے تو جو پہلی یاد دل و دماغ میں آتی ہےوہ دادا دادی کی ہے۔ بچپن میں دادا دادی کی سنائی کہانیاں ہمیشہ ہمارےدماغ میں گھومتی رہتی ہیں وہ ہمیں اپنی زندگی کے تجربے کے ذریعہ بہترین مشورے دیتے ہیں جس سے ہمیں اچھی عادات سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دادا دادی علم ، تجربہ اور خوشی کی دولت ہیں بچے کے لئے دادا دادی واقعی اہم ہیں کہ وہ سکھاتے ہیں کہ تمام حالات میں کس طرح پر سکون اور متوازن رہنا ہے، وہ سکھاتے ہیں کہ سکون کے ساتھ چیزوں کو کس طرح سنبھال لیا جائے، وہ سکھاتے ہیں تکنیکی گیجٹ کے بغیر اچھی یادوں کو تخلیق اور محفوظ کرنے کےطریقے۔ دادا دادی سب سے خوبصورت میموری ہیں جو زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ایک محاورہ ہے کہ "دادا دادی کے بال چاندی کے اور دل سونے کا ہوتا ہے " اور اس سونے چاندی کی روشنی ہمارے بچپن کو ہماری زندگی کو روشن کر دیتی ہیں۔

ایک معاشرے میں ہماری طاقت اس رشتے میں ہے جو ہمارے خاندان کےافرادکے مابین موجود ہےانسان کو اپنے اہل خانہ سے جو محبت اور پیار ملتا ہے وہ خاندان کی ریڑھ کی ہڈی کی تشکیل کرتا ہے۔ خاندانی درخت ہمارے دادا دادی سے شروع ہوتا ہے جو ایک بڑے درخت کی جڑوں جیسا ہےاور کنبہ کو استحکام دیتا ہے جبکہ بچے وہ پھول ہیں جو اس خاندانی درخت پر کھلتے ہیں وہ خاندانی درخت کی جڑ سے پوری توانائی حاصل کرتے ہیں۔دادا دادی اپنے پوتیوں پوتوں کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے ساتھ وقت گزارنے میں مزہ آتا ہے وہ اپنی پوتیوں کے لئے پلے پارٹنرزہیں۔دادا دادی ایک ماڈل ، استاد، دوست اور بہت کچھ ہیں۔ بچے اپنے دادا دادی کے ساتھ پہلے بیرونی بندھن تیار کرتے ہیں یہ پہلا رشتہ ہے جو بچے اپنے والدین کے علاوہ ان کے ساتھ بناتے ہیں۔ اگرچہ بچے اپنی بقا اور روز مرہ کی ضروریات کے لئے اپنے والدین پر انحصار کرتے ہیں لیکن زیادہ تر بچے اپنے دادا دادی کے لئے زیادہ کھلی شخصیت ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ہر چیز کو ایمانداری سے بانٹتے ہیں۔ آج کی نسل ٹیکنالوجی کی نسل ہے جبکہ بیشتر دادا دادی اس ٹیکنالوجی سے ناواقف ہیں ، لہذا یہاں ہم بچے اپنے دادا دادی کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیںاُنھیں آلات کے استعمال کے بارے میں سکھاتے ہیں ان کے ساتھ سیلفیز لیتے ہیں ویڈیوز بناتے ہیں اور دادا دادی اپنی زندگی کے تجربات اور اپنے زمانے کی کہانیاں سناتے ہیں جس سے ہم لطف اٹھاتے ہیں۔ اس سے بچے اور دادا دادی کے مابین تعلقات کو تقویت ملتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں۔ اگرچہ نسل کا فرق ہوتاہے پھر بھی ایک دوسرے کی کمپنی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

بہت سارے مطالعے ہوئے ہیں جن کے دادا دادی- پوتیوں پوتوں کے تعلقات کی انوکھی نوعیت کے دلچسپ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دادا دادی جوپوتیوں اور پوتوں کے ساتھ باقاعدگی سے مشغول رہتے ہیں ، ان کے درمیان قریبی جذباتی تعلقات نے دونوں عمر کے گروپوں میں ڈپریشن کی علامات کو کم کیا ہے۔ہماری زندگی میں دادا دادی بہت اہم ہیں ہمارے دادا دادی ہماری جڑیں ہیں جو زیر زمین بنیاد پر ہماری مدد کرتے ہیں ان کے بغیر ہمارا وجود ناممکن ہے۔ چونکہ ماضی کے بغیر کوئی وجود نہیں ہوسکتا ہے ، اسی طرح ، نوجوان بھی بوڑھوں کے بغیر اپنا وجود نہیں رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ طاقت ہے جوہماری دنیا کو مستحکم رکھتی ہے۔جب کبھی ہمیں تکلیف محسوس ہوئی ہو۔جب کبھی ہم بیمار ہوئے ہیں، جب ہم نے کبھی تنہا محسوس کیا ہے ، تو ہم کو لازمی طور پر یاد رکھنا چاہئے جو تاریک اور مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔ یقینا ، وہ ہمارے والدین اور دادا دادی ہیں۔ ہمارے دادا دادی روشنی کی کرنوں کی طرح ہماری تاریک دنیا میں چمکتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے دادا دادی ہماری زندگی کا سب سے ناگزیر حصہ ہیں۔ وہ اس تاریک دنیا کی روشنی ہیں۔ ہمیں ان کی عزت کرنی چاہئے اور اپنی زندگی میں ان کی انمول محبت اور کردارسے محبت کرنا چاہئے۔ہمیں ان سے جس قسم کی غیر مشروط محبت ملتی ہے ، کوئی دوسرا شخص یا وجود ہمیں اس قسم کی محبت نہیں دے سکتا ہے۔ ہمیں اپنے خاندانوں میں دادا دادی کو سنبھالنا اور ان کی محبت اور حکمت کی روشنی میں رہنا چاہئے۔ ہمیں اپنے دادا دادی کی ضرورت ہے اور انہیں بھی ہماری ضرورت ہے۔جن کے دادا دادی ہیں وہ واقعتا خوش قسمت ہیں دادا دادی واحد روح ہیں جو اپنے پوتے پوتیوں کی محبت اور دیکھ بھال سے کبھی نہیں رکتی نہ تھکتی ہیں۔

ہم اس عید بہت سےاپنوں کو یاد کریں گے،ہم میں کئی ہیں جنھوں نے اس سال کسی اپنے کو کھویا ہوگا،اپنے دادا یا دادی کو کھویا ہوگا۔میں نے بھی اس سال اپنی دادی کو کھویا وہ چلی گئی۔۔ اور جب دادا دادی چلے جائیں تونہ صرف وہ کونا خالی ہوجاتا ہےجہا ںوہ بیٹھتے تھے وہ بیڈ خالی ہوجاتا ہے جہا ں ہم ان کے ساتھ جگہ بنا کےگھس کے بیٹھتے تھے ان کی محبت کی گرمائش محسوس کرتے تھےاُن کی باتیں سنتے تھے بلکے ہمارے دل بھی خالی ہوجاتے ہیں اور گھر بھی ۔۔ایک نورانی وجود اپنے ساتھ رونق لےجاتا ہے ہم بس اُنھیں یاد کرتے ہیں اُن کی باتیں کرتے ہیں ان کے قصے دہراتے ہیں پہلے نم آنکھوں سے پھر مسکراتے ہونٹوں سےوہ جاتے ہوئے بھی دُعائیں دے جاتے ہیں جو ہمیشہ مشکل میں ہمارے لیے آسانی کی شمع ِ راہ بن جاتی ہیں۔اُن کی دعائیں ہماری دعاؤں کی قبولیت کا باعث بن جاتی ہیں۔دادا دادی نظروں سے ہٹ جاتے ہیں لیکن کبھی بھی دل سے نہیں جاتےسال ہمیشہ گزرتے رہیں گےاور وقت ہمیشہ گزرتا رہے گا لیکن دادا دادی کی یاد یں ہمیشہ دل میں رہتی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehreen Fatima

Read More Articles by Mehreen Fatima: 6 Articles with 2224 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2020 Views: 407

Comments

آپ کی رائے