‎ماہِ مئی میں مرنے والوں کا ماتم اور مارنے والوں کی مذمت

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

ہم نے چشم تصور سے دیکھا کہ فلائٹ پی کے 8303 نے لینڈنگ گیئر نا کھلنے کے باوجود ٹچ ڈاؤن کیا لفٹ آف نہیں کیا اور جہاز رن وے پر کچھ دور تک گھسٹنے کے بعد رک گیا اس کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور پچھلے حصے میں ایمرجنسی دروازہ کھل گیا اور آدھے سے زیادہ مسافر اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ خود جہاز کا فرسٹ پائلٹ اس غرق آتش کشتی کا ناخدا ، ظفر مسعود کی طرح اچھل کر اپنے کاک پٹ سے باہر جا گرا یا محمد زبیر کی طرح دس بارہ فیٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو گیا اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں سر پھوٹ گیا اب وہ زخموں سے چُور اسپتال کے بستر پر پڑا ہے اور وہ لوگ جو آج اس مرے ہوئے کو نہیں بخش رہے تو وہ اس زندہ کی جان کیسے چھوڑ دیتے؟ ان کا تو بس نہیں چل رہا کہ اس کی لاش کو قبر سے باہر نکال کر پھانسی چڑھا دیتے ۔ چونکہ اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کیوں نا کھلے تو اس کا سہرا پائلٹ کے سر کہ وہ لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا تھا ۔ شاید وہ روزے سے تھا روزے میں دماغ سکڑ جاتا ہے کارکردگی متاثر ہوتی ہے لہٰذا اس نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کے علاوہ کسی ایرر کی نشاندہی کے لئے ڈنگ ڈنگ والی آواز کے الرٹ کو بھی نظرانداز کیا کو پائلٹ نے بھی کوئی توجہ نہیں دی ۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ باقی کی جو ساری پروازیں صحیح سلامت اپنی منزل پر پہنچتی رہیں تو ان کے پائلٹ بےروزہ ہوتے تھے ۔ روزہ رکھ کر صرف ڈیڑھ دو گھنٹے کی ڈومیسٹک فلائٹ میں کسی حادثے کا قوی امکان موجود ہوتا ہے ۔
گذرے دوچار دنوں میں ہمیں بدقسمت تباہ شدہ طیارے کے بارے میں بہت سی وڈیوز دیکھنے ، آخری لمحات کی کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو سننے اور ہوابازی کے ماہرین و تجزیہ نگاروں کی رائے کو جاننے کا بھی موقع ملا ۔ رن وے سے پانچ میل کی اپروچ پر جب جہاز کی زمین سے بلندی چودہ یا پندرہ سو فیٹ ہونی چاہیئے تو وہ اس وقت تقریباً پینتیس ہزار فیٹ کی بلندی پر تھا یعنی دگنے سے بھی زیادہ ۔ کیوں تھا یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی اور بتانے کے لیے پائلٹ دنیا میں موجود نہیں ہے ۔ ہاں اتنا ضرور سمجھ میں آیا کہ جب اس نے لینڈ کر ہی لیا تھا تو اسے واپس اوپر نہیں اٹھانا چاہیئے تھا کیونکہ انجن رن وے سے رگڑ کھا کر ناکارہ ہو چکے تھے ۔ ساتھ ہی ہمیں ایک بات یاد آئی ، ہمیں قومی ایئر لائن کی ڈومیسٹک فلائٹس سے بھی سفر کا تجربہ رہا ہے ایک فرق محسوس ہؤا ہم نے نوٹ کیا کہ جب ہمارا جہاز لینڈ کرتا ہے تو بہت زیادہ زوردار ٹھک کے ساتھ ٹچ ڈاؤن کرتا ہے ۔ ایکبار تو واقعی ہمیں ایسا لگا تھا جیسے ہم اپنی سیٹ پر اچھل پڑے ہوں ۔ ابھی اسی بات کی یاد کے ساتھ ایک خیال بہت شدت کے ساتھ ذہن میں آیا ہے کہ جب جہاز نے وہیلز کے کھلے بغیر ٹچ ڈاؤن کیا تھا تو کتنا زوردار جھٹکا لگا ہو گا مسافروں پر کیا گذری ہو گی ننھے معصوم بچوں پر کیا بیتی ہو گی؟ پھر بالآخر جہاز دوسری بار کسی ٹھوس چٹان کی طرح زمین پر آن گرا آبادی کے بیچ ۔ ظفر مسعود اور محمد زبیر کا اس خوفناک حادثے میں نسبتاً معمولی سے زخموں اور چوٹوں کے ساتھ بچ جانا ہمارے خیال میں تو سال 2020 ء بلکہ اس صدی کا اب تک کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ اور ہمارا خیال ہے کہ صرف یہ دو ہستیاں اس والے تجربے سے گذریں ہی نہیں جس سے باقی کے 97 نفوس گذرے اور نتیجے میں اپنی جانوں سے گذر گئے ۔ جو کچھ اُن کے ساتھ ہؤا وہی اِن کے ساتھ ہوتا تو آج یہ بھی دنیا میں موجود نا ہوتے ۔ اللہ انہیں نئی زندگی مبارک کرے اور ہمیشہ سلامت رکھے ۔

اس المناک حادثے کے وقوع پذیر ہونے تک پورے سوشل میڈیا پر کرنل کی بیوی والا قضیہ زیر بحث تھا اور ابھی جاں بحق ہونے والے بدنصیب مسافروں کی قبر کی مٹی خشک بھی نا ہوئی تھی ان پر پڑے ہوئے پھول مرجھائے بھی نا تھے کہ وطن کے سوشل میڈیائی طول و عرض میں ٹھیکیدار کی بیٹی والا ناٹک سب کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اتنے عظیم سانحے کا سارا تاثر گویا کہ ٹاپ ٹرینڈنگ میں ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ۔ ایک امیر اور طاقتور عورت نے ایک غریب لڑکی کو گھر میں گھس کر مارا اپنے میاں کو نہیں مارا اور یہ دلدوز خبر ستانوے مر جانے والوں کے نوحے پر حاوی ہو گئی ۔ خیر اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں ہے اس کے لیے تو ایک الگ سے مضمون لکھنا پڑے گا ۔ اسی طرح ایلیٹ کلاس کی منہ زور اور دھانسو قسم کی عورتوں کی طرف سے ٹریفک کے قوانین و اصول کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھنے کی پہلی مثال ہماری نظر سے غالباً اس وڈیو کے ذریعے گذری تھی جس میں شیریں مزاری کسی چیک پوسٹ پر سارے سیکیورٹی حصار اور وہاں تعینات ٹریفک اہلکاروں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے ساری رکاوٹوں کو خود اپنے مبارک ہاتھوں سے تہس نہس کرتے ہوئے اپنی گاڑی وہاں سے نکلوا لے جاتی ہیں ۔ پھر وہ خاتون جس نے ٹریفک اہلکار کو دو ٹکے کا بڈھا کہہ کے اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھانے سے انکار کر دیا تھا اور اپنی گاڑی بھگا لے گئی تھی ۔ اللہ اللہ یہاں امریکہ میں ہم اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ پولیس آفیسر کے طلب کرنے پر اسے اپنا ڈرائیور لائسنس دکھانے سے انکار کر دیں ۔ اسی حوالے سے ہم نے سوشل میڈیا اور ہماری ویب پر بھی کمنٹس لکھا تھا کہ " یہ جاہل عورت اگر ایسی ہی بیہودگی یہاں کرتی کہ قانون کی خلاف ورزی کے بعد الٹا سینہ زوری اور بد زبانی کرتی تو پولیس والا اسے گھسیٹ کر گاڑی سے باہر نکالتا ایک لات رسید کر کے اسے اوندھے منہ نیچے زمین پر گرا دیتا اور اپنے گھٹنے تلے دبا کر اسے ہتھکڑی لگاتا ۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں قانون صرف غریبوں اور کمزوروں کے لئے ہے اس عورت کی جگہ کوئی بائیک والا یا غریب رکشے والا ہوتا اور ایسے ہی زبان چلاتا تو یہی ٹریفک وارڈن اسے مار مار کر اس کا کچومر بنا دیتا "

پھر کرنل کی بیوی کے ساتھ ساتھ ایسی ہی ایک اور موصوفہ کی سینہ زوری پر مبنی ایک پرانی وڈیو بھی وائرل ہوئی ایسے ناجانے اور بھی کتنے ہی واقعات ہوں گے جو منظر عام پر نہیں آ سکے ۔ نام نہاد اشرافیہ کی یہ کھڑوس بدمعاش عورتیں جو ہمیں تو اب کورونا کی بیوی معلوم پڑتی ہیں اگر اپنی اس داداگیری اور غنڈہ گردی کو اپنا حق سمجھتی ہیں تو ذرا یہ سب کچھ پاکستان سے باہر کر کے دکھائیں پھر انہیں خود اپنی اوقات کا پتہ چل جائے گا کہ یہ کس لائق ہیں ۔

دیسی سوشل میڈیا جو کہ اس وقت فتوے جھاڑنے کا گڑھ بن چکا ہے تو وہ بھلا بالکل فٹ نوے نکور اتنے مہنگے جہاز کے گھامڑ پائلٹ کو کیسے سستا چھوڑ دیتا؟ اس پر اپنے ساتھ ساتھ اٹھانوے مزید جانوں کی بھی بقا کا دارومدار تھا ۔ اگر جو چند ایک کے ساتھ وہ بھی بچ جاتا تو انہی مفتیوں نے طعنے دے دے کر ہی اسے مار دینا تھا کہ تُو کیسے بچ گیا تُو کیوں نہیں مرا؟ ہیرو تو وہ کسی صورت نا کہلاتا دو چار بھی مرتے تو ان کا قاتل وہی کہلاتا ۔ ججمنٹ کی غلطی اوور کانفیڈنس اور اے ٹی سی ہدایات سے روگردانی پر اس کے خلاف مقدمہ تو بنتا ہی اور پیشیاں بھگتتا ۔ اچھا ہؤا کہ مر گیا بیچارہ ...... اگر کہیں جو بچ جاتا تو ساری زندگی شرمندگی میں بسر کرتا اللہ تعالیٰ اسے اور دیگر تمام مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان و لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 149 Articles with 907406 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2020 Views: 1874

Comments

آپ کی رائے