اگرآج نہیں بولیں گے تو کل بھکتیں گے!!!

(Amna yousaf, Lahore)
ایسی کوئی بھی سوشل میڈیا کی ایپلیکیشن جسکا استعمال ہمارے معاشرے میں منفی اثرات مرتب کرے اسے بین کردینا ہی معاشرے کی اصلاح ہے ۔

ٹک ٹاک پر ایسے ہی اک دن کچھ ویڈیوز میری نظروں سے گزریں جنہیں دیکھ کر میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوگئی ۔۔۔

مجھے وہ ویڈیوز دیکھ کر بہت حیرت ہوئی اور افسوس کے ساتھ شرمندگی بھی کہ ہم کیسے مسلمان ہیں؟

آپ سب بھی ٹک ٹاک ویڈیوز سے باخوبی واقف ہونگےجہاں ایک مرد کی دوسرے مرد سے عشق معشوقی سرِ عام دکھائی جارہی ہے اور لائکس اور فولورز کے چکروں میں ہر اس بندے کے پاس ٹک ٹاک چل رہی ہے جسکے پاس نہ بات کرنے کو مواد ہے نہ عوام کو کچھ سکھانے کو ہے اور نہ ہی معاشرے میں مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے کوئی نولج ہے اگر کچھ ہے تو بس معاشرے میں بے حیائی ، بے غیرتی اور کبیرہ گناہ کو پھیلانے کی ترغیب ہے ۔۔۔

مردوں کا مردوں سے عشق معشوقی کے چکروں میں پبلک پلیس پر چپک کر محبت کا اظہار کرنا نابالغ بچوں میں ذہنی بیماریاں اور نفسانی خواہشات کو غلط رمزے میں اجاگرکرنےمیں بہت بڑاکردار ادا کر رہا ہے ۔

ان ٹک ٹاک ویڈیوز میں کہیں پیار و محبت والے گانوں پر اپنے محبوب (جو کہ ایک مرد کا دوسرا مرد ہے )کو چہرے کے مختلف نقوش پربھوسہ دینا کہیں بستر پر لیٹے ایک دوسرے کے ساتھ گندےحرام ناجائز تعلق کو فلماکر لوگوں کی نظر کرناکہیں ایک لڑکے کی اپنے محبوب (لڑکے)کی جدائی کے غم میں ادھ موئے سی ایکٹنگ کرنا اور معشوق کو محبت پر یقین دلوانے کی پوری کوشش کرنا ایک ایسے معاشرے کو جنم دینا ہے جہاں زنا اور ریپ جیسی بیماریاں آسانی سے نزلہ و زکام جیسے پھیل رہی ہوں ۔۔

ایک ایسا معاشرہ جو مرد سے مرد کی مباشرت کا حق رکھتا ہو اور اسے کسی بھی انسان کا ذاتی معاملہ سمجھ کر چپ کر جایا جائے مگر یہ ذاتی معاملات کسی کی ذات کی حد تک ہوں تو تب چپ سادھنا اچھا بھی لگے جب ایسی حرکتیں پوری دنیا کے سامنے سرِ عام دیدہ دلیری سے کی جارہی ہوں اور اسکی وجہ سے لوگ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کریں اور دوجوں کو گناہ پر اکسائیں تو ذاتی معاملہ بلکل ذاتی نہیں رہتا ۔۔۔۔

ٹک ٹاک پربنی ویڈیوز جن میں (لڑکا) اپنے محبوب(لڑکے) کے چکروں میں خودکشی کا سین فلمارہا ہےتو کہیں عورت نما مرد آدھا ڈھکا چھپا جسم دکھا کر چھوٹے عمر کے (بچوں) لڑکوں کے ساتھ نا زیبہ حرکتیں کر کے فن و مستی میں اس ویڈیو کو لوگوں کی نظر کر رہا ہے یقین جانیں ایسی ویڈیوزآنے والی نسل کے لئے بہت بڑی تباہی کا سامان تیار کر رہی ہیں جہاں ایک لڑکا باقی لڑکوں سے ڈائیریکٹ کھلے عام فحاش الفاظ میں رو پٹ کر محبت کا دعوہ کرتے دکھائی دیتاہے تو کہیں کوئی لڑکا چیخ چیخ کر باقی لڑکوں کو چیلیج کرتا ہے کہ اسکے جیسا جسم ،فگر اور کشش کسی مرد میں ہے تو سامنے آئے جو دوسرے مردوں کو اپنی طرف راغب کرے ممکن ہو اگر وہ اتنا پر کشش ہے تو اس پر دل آنے کے بعد اسے اغوا ہی کر لیاجائے۔۔۔۔

الغرض ان تمام تر ویڈیوز کا تعلق کسی بھی طبقے کے افراد سے ہو افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے ہی ہم وطنی مسلمان ہیں جو "ہوموسییکشویلٹی homosexuality" پر ویڈیوز بنا کر چند ایک لائکس اور فینز کے چکروں میں اسکو پروموٹ بھی کررہے ہیں اور اللہ کی سخت ناراضگی کو دعوت بھی دے رہے ہیں اور افسوس تو اس بات پر زیادہ ہوا کہ ویڈیوز کو وائرل کرنے کے چکروں میں اپنی گندی ویڈیوز کے نیچے ہیش ٹیگ بھی اللہ اور اسلام وغیرہ کا دیتے ہیں جسپر لوگوں کی نظر زیادہ پڑے۔۔۔۔

ٹک ٹاک پر اس طرح کی نازیبہ ویڈیوزجس میں مردوں کی مردوں سے محبت کا اظہار ،لواطت اور قربت نظر آتی ہے یہ مجھے حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر اللہ کے عذاب کے آنےکو یاد دلاتا ہے جسے قرآن واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے اوراللہ تعالٰی نے تو بہت ہی احسن انداز میں اپنی حدود کو ایک ایمان والے تک کھول کر بیان کر دیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیاکہ اللہ اور اسکے رسول اللہ کی حدود کو جو پار کریگا وہ اس رب العالمین کے عذاب کا مرتکب ہو کر رہیگا اور تاریخ میں ایسا سنگین کبیرہ گناہ جسکی وجہ سے ایک پیغمبر کی قوم تباہ کر دی گئی رسول اللہ کی امت کرتے دکھائی دیگی تو اسکا انجام کیا ہوگا؟

کیا ہم لوگ اپنے ضمیر کو اپنی مستیوں کے چکروں میں بیچ چکے ہیں یا پھر بس دنیاوی محبت تک محدود ہو گئے ہیں اور ہراس کام کو پروموٹ کر رہے ہیں جسکا انجام تاریخ میں سخت عذاب کی صورت لایا گیا تھا یا پھر شائد چند ایک لائکس جو سستی شہرت اور سستی شخصیت کے کرداد کو اجاگر کریں اسکے پجاری بن چکے ہیں۔۔۔

افسوس۔۔۔!!!کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا بیڑا غرق کر دیا اور قصوروار ٹہرایا کبھی آس پڑوس والے کو یا پھر حکومت کو۔۔۔۔۔

ابھی تو صرف ایک چھوٹے سے وائرس کو کچھ مہینوں سے رو رہے ہیں اگر ہمارا یہی حال رہا تو کوئی شک نہیں ہم آسمان سے کسی صورت رب کا عذاب بھی اترتا دیکھیں گے۔۔۔۔۔

میں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے حکمران صاحب کو جو مدینہ کی ریاست کے دعویدار ہیں اپیل کرتی ہوں کہ ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز کو ملک بھر میں بین کیا جائے ہمارے ملک میں ایسے لوگ جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں دین کا نام غلط جگہوں پر استعمال کر رہے ہیں اور غلط مواد لوگوں کی نظر کرنے میں لگے ہوئے ہیں انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔۔ایسے لوگ جو اپنی بے حیا کرتوت صرف ویڈیو کو وائرل کرنے کے چکروں میں چھوٹے بچوں یا نابالغ کم عقل بچوں کے ساتھ نازیبہ سرگرمیوں کو فلما تے دکھائی دیں انہیں اجتماعی سزا دے کر دنیا والوں کے سامنے عبرت کا نشان بناجائے تاکہ آنے والے دنوں میں کوئی کم از کم نابالغ چھوٹے بچوں کے ساتھ ایسی حرکتیں کرنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچے ۔۔میں حکمران صاحب سے اپیل کرتی ہوں کہ ایسی سرگرمیاں جن میں "ہوموسیکشویلیٹی"جیسے سنگین اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر کے ویڈیو فلمائی جائے اور باقی معاشرے کی نظر کی جائے ایسے لوگوں کو اسلام کے مطابق سزا دے کر معاشرے میں اسلامی سزاؤں کا نفاز کیا جائے تاکہ سہی معنوں میں اسلامی شریعت کے نفوذ کا حق ادا بھی ہو اور لوگوں کو اس قسم کے گندے دھندھوں سے دور رہنے کا درس بھی ساتھ ہی ساتھ ملتا رہے ۔۔۔

اگر ہم لوگوں نے ، آپ نے اور میں نے ان امور پر ، لوگوں کی ان حرکات و سکنات پر جن میں ہمارا آنے والا مستقبل ، ہماری جنیریشن شامل ہے پر کوئی اظہارِ خیال نہ کیا یا جمہوریت کا حق رکھتے ہو ایک آذار شہری،پاکستانی اور مسلمان ہونے کی بنیاد ان حرام امور کی روک تھام میں اپنا چھوٹے سے چھوٹا کرداد بھی ادا نہ کیا تو کوئی بعید نہیں کہ ہمارا آنے والا کل ہماری جنیریشن بھی ان ہوموسیکشویلیٹی کے دعویداروں اور پروموٹ کرنے والوں میں سے ایک ہوں۔۔۔
اس لئے آپ آزاد ہیں اور اپنی رائے کا حق رکھتے ہیں
بولیں کہ آپکا صحیح بولنا آپکے معاشرے کی اصلاح کا منتظر ہے کیونکہ اگر آپ آج نہیں بولیں گے تو کل بھکتیں گے ۔۔۔۔
اللہ آپکا اور میرا حامی و ناصر ہے ۔۔۔
طالبِ دعا
آمنہ یوسف
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 81 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna yousaf

Read More Articles by Amna yousaf: 16 Articles with 9187 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: