پاکستان کرکٹ بورڈ میں میرٹ کا رجحان کب ہوگا؟

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل سے اُبھرنے والے کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ میں جگہ دے کر یہ بات تو ثابت کر دی ہے کہ پی سی بی میں موجود چند اعلیٰ دماغ ہمارے اُن کھلاڑیوں کے ساتھ بھر پور زیادتی کرنے میں پیش پیش ہیں جو کہ عرصہ دراز سے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی عمدہ کارکردگی دکھا رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے اہل ہیں۔مگر کچھ نامعلوم وجوہات کی بناء پر وہ سب کرکٹرز جن کی روزی روٹی ہی کرکٹ ہے اور جو اپنی زندگی ہی اس کھیل کو دے رہے ہیں اُن کو اپنے ملک کی نمائندگی کرنے سے روک دیا جائے گا۔ ماضی میں بھی یہ حال دیکھنے کو ملتا رہا ہے اور اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اس کی مثال کچھ یوں دیکھ لیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں گذشتہ پانچ سالوں میں ہر سال کتنے ٹاپ کے دس بلے باز اور بولرز کو قومی ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا ہے ، یہ نہیں کہ جن پر آپ کی نظر ہو اور وہ اچھا کھیل کر ٹیم میں جگہ بنا لیں تو آپ دیگر کھلاڑیوں کو ایک طرف کر دیں۔یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ کرکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کافی سالوں سے جاری ہے اس حوالے سے کبھی تو کھلاڑیوں کو فکسنگ میں ملوث کرایا جاتا ہے یا پھر اُن کو تنازعات یا پھر اپنے چہیتے نہ ہونے کی بناء پر قومی ٹیم میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

آپ فواد عالم کے ریکارڈز کو دیکھیں، وہ آپ کو قومی سطح پر مواقع ملنے پر ٹی 20 میں بھی نچلے نمبروں پر اسکور کرتا جہاں نظر آتا ہے وہیں مڈل آرڈر میں بھی اُس نے کافی اسکور کئے ہوئے ہیں اور ون ڈے میں بھی کسی سے کم تر نہیں ہے، کم سے کم افتخار احمد اورحارث سہیل کی نسبت اچھی تکینک سے کھیلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔اب جب حارث سہیل نے دور ہ انگلینڈ پر جانے سے نجی وجوہات کی بناء پر انکار کر دیا ہے تو فواد عالم کو ہر صورت میں کھیلنے کا موقع دے کر اُس کے ساتھ برسوں سے کی جانے والی زیادتی کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔اب یہ کون بتائے گاکہ ُاس نوجوان کرکٹرکو جس نے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری بنا دی تھی اُسے بعد میں کیوں ضائع کیا گیا ہے اُ سے کم تر صلاحیتوں کے کرکٹرز کو بے شمار مواقع دیئے گئے۔ہمارے ہاں کرکٹ سے سب لوگ ہی بہت محبت رکھتے ہیں مگر اگر کسی اچھے کھیلنے والے کو محض اس وجہ سے کہ وہ کسی کا رشتے دار یا اُس کی تعلق داری والے شخص سے کسی کا کوئی ذاتی عناد ہے تو پھر وہ ٹیم سے اکثر دوری پر ہی رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو لاہور اور کراچی کے نام پر کھلاڑیوں کو قومی سطح پر اُبھرنے کا موقع ہی کم دیا جاتا ہے۔

ابھی تک کا آپ ریکارڈ دیکھیں کہ اکثر کھلاڑی اپنی قسمت کے بل بوتے پر ٹیم پر آئے اور کافی سال کھیل گئے۔مگر کچھ اپنی دال روٹی محض ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کر ہی پوری کرتے رہے کہ اُن کی کوئی سفارش نہ تھی کہ قومی سطح پر کھیلتے۔ ، قومی ٹیم میں محض نوجوان کھلاڑیوں کو ہی نہیں بلکہ اس کھیل کو زندگی دینے والے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کھیل سے دل موہ لینے والوں کو بھی مواقع دینے چاہیں، اب وہ چاہے فکسنگ میں پکڑے گئے ہوں مگر آپ نے خود کھیلنے کا موقعہ دیا ہے تو پھر آپ کو قومی سطح پر بھی کوئی قدغن نہیں لگانی چاہیے، یہاں تابش خان اور صدف حسین کو محض عمر کی وجہ سے نہیں کھلایا جاتا ہے تو وہیں فواد عالم کو کم عمری میں محض چند مواقع فراہم کرنے کے بعد کئی بار ڈومیسٹک میں بہترین کھلاڑیوں میں سہ فہرست ہو کر بھی ٹیم میں شامل نہ ہوئے اور ہوئے تو کھلایا نہیں گیا ہے اور اب یہ بھی کہاجا سکتا ہے کہ وہ عمررسیدہ ہو چکا ہے مگر کیا ماضی میں چند کھلاڑی کافی عمررسیدہ ہو کر بھی نہیں کھیلے ہیں کیا عمر کھیلنے سے روکتی ہے۔اگر کوئی مواقع ملنے پر خود کو نہیں منوا سکتا ہے تو پھر اُسے دوبارہ موقعہ نہ دیں مگر عابد علی جیسے کھلاڑیوں کو وقت پر نہ کھلانا کس کا قصور ہے ۔وہاں فواد عالم کو کارکردگی دکھا کر بھی ٹیم میں شامل نہ کرنا یا شامل کرکے نہ کھیلنے دینا کیا میرٹ کی بدترین خلاف ورزی نہیں ہے۔

یہ المیہ ہے کہ محض ٹی 20 پی ایس ایل کے ایک سیزن کے بعد کرکٹرز قومی سطح پر کھیلنے کے اہل ہو جاتے ہیں جبکہ برسوں اچھی کارکردگی دکھانے والے ملک کی نمائندگی کا خواب لیے کھیل کے میدان سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ہمارے کرکٹ بورڈ کو محض ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والوں کو کنٹریکٹ دے کر ہی نہیں تڑخانا چاہیے بلکہ ایک قانون بنا دیں کہ جو کھلاڑی جس فارمیٹ میں ٹاپ پانچ کھلاڑیوں میں شامل ہوگا وہ اُس فارمیٹ میں تقریباََ کم سے کم دو سیریز جس میں کم سے کم تین میچز لازمی کھیلنے کا موقع دینا ہوگا تاکہ اسکی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر جانچنے کا موقع مل سکے، یہ نہیں کوئی اچھا کھیلے بھی تو بھی اُسکو مزید اچھا کھیلنے کا درس دینے کا بولا جائے اور وہ عمر رسیدہ ہو جائے تو عمر کو وجہ بنا کرکسی اور سفارشی کھلاڑی کو مواقع دیئے جائیں ۔ اس حوالے سے نئے کھلاڑیوں کو متبادل رکھ کر بھی ایک یا دو میچوں میں مواقع بھی دے کر آزمایا جا سکتا ہے تاکہ وہ بوقت ضرورت کھیل سکیں۔اسی طرح سے ہی ملک میں کرکٹ کو فروغ دیا جا سکے گا جب میرٹ پر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ ملے گا ۔ ڈومیسٹک اور قومی سطح پر اچھا کھیل کر بھی محض عناد کی وجہ سے ٹیم سے دوری کرنا کھیل کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس حوالے سے مربوط قانون سازی کی جائے کہ میرٹ پر مواقع دیں جائیں اور ملک کے نام کو خراب کرنے والے کسی بھی سطح پر کبھی بھی پھر نہ کھیل سکیں اسی سے ہی کھیل اور کھلاڑی ترقی کر سکیں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 323 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 290 Articles with 238302 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: