ضمیر فروشی

(MUHAMMAD TANZEEL UR REHMAN, Hyderabad)
معشرے میں گرتی اخلاقی قدریں اور انسانیت کا فقدان۔

اب تو اس معاشرے میں اخلاقی برائی اپنے عروج پر ہے۔ اخلاقی قدروں کو ہم کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ مادہ پرستی کو ہم بطورِ معاشرہ اس قدر خود پر حاوی کرچکے ہیں کہ اپنے ضمیر, اخلاقیات اور انسانیت کو چند روپیوں کے عوض بآسانی بِنا کسی ہچکچاہٹ کے بیچ دیتے ہیں۔کچھ دن پہلے یہ ریسرچ نظروں سے گزری کہ Dexamethasone نامی ایک دوائی جان لیوا مرض(Covid-19 )میں مبتلا مریضوں کو تشویشناک حالت سے نکالنے میں مؤثر ثابت ہو گی, اور یہ دوائی دنیا بھر میں بآسانی مناسب قیمت میں دستیاب ہوتی ہے, نہ جانے کیوں یہ خوشخبری سنتے ہی خوف محسوس ہوا کہ کہیں اس دوا کے ساتھ بھی ہمارے ملک میں وہی سلوک نہ کیا جائے جو تمام باآسانی ملنے والی چیزوں کے ساتھ مشکل اور ضرورت کے وقت کیا جاتا ہے اور کل کچھ اخبارات کی ورق گردانی کے دوران خوف کو سچ ہوتا ہوا پایا اور اس معاشرے میں کہ جس کا میں بھی حصہ ہوں کہ اخلاقیات پر ان للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا ۔
اللہ ہمیں انسانیت لوٹا دے (آمین)۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 218 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD TANZEEL UR REHMAN
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: