تقریر گزیدہ

(Yasir Farooq, Karachi)

ایک عرصے سے اسکولوں اور کالجوں میں سالانہ تقریب میں تقریری مقابلوں کی روایت چلی آ رہی ہے_عموما اساتذہ کرام کو شریکِ مقابلہ طلباء و طالبات کو تقریر کے گر سکھانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے...ان دنوں کافی جوش و خروش کا سماں ہوتا ہے...گلا پھاڑتی اور کانوں کو چیرتی آوازیں, فضا میں لہراتے ہاتھ...ڈائس کی مرمت کرتے مکے...یہ مناظر بارہا دیکھنے کو ملتے ہیں...مگر آج کے یہ نوآموز مقرر کل کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں...اِس پر ہماری نظر شاذ و نادر ہی جاتی ہے...اساتذہ کے اِس جذبۂ خلوص و تربیت سے کیسے کیسے نمونے پیدا ہو سکتے ہیں...کم ہی ذہن اِس طرف جاتے ہیں...زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں... یہیں ذرا وادئ سیاست پر نظر دوڑائیں تو بہت کچھ طشت از بام ہو جاتا ہے...جی ہاں پر خلوص تربیت کی گود میں پرورش پانے والے آج کے کئ نوجوان کل مکار و عیار اور موقع پرست سیاست دانوں کا روپ دھار لیتے ہیں...اور ایسا صرف ہمارے وطن میں ہی نہیں ہوتا بلکہ ساری دنیا ہی ان کا شکار ہے...ان کےشکنجے میں پھنسی سسکتی تڑپتی...مزے کی بات یہ ہے کہ بیشتر عوام خود ہی انہیں ووٹ دیتے ہیں اور خود ہی اپنے آپ کو ڈسائےجاتے ہیں... شاید لذتِ خود آزاری اِسی کو کہتے ہیں_

تقریر کی افادیت سے انکار نہیں لیکن آجکل اِسے برتا ہی کچھ یوں جا رہا ہے کہ دل خود بخود کہہ اٹھتا ہے...وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے...اِس طنز آمیز مصرعے پر اگر کوئ پورا اترتا ہے تو وہ سیاستدانوں کا ہی طبقہ ہے اور تقریر جن کا طریقۂ واردات...جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ شکار پر ان کی گرفت کمزور ہو رہی ہے تو وہ ایک اور تقریر کر ڈالتے ہیں...اِسی لئے تو ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ کبھی اِس شہر کبھی اس شہر جلسے کی تیاری ہو رہی ہے...گھر گھر رابطہ مہم چل رہی ہے...پنڈال سجائے جا رہے ہیں...میڈیا براہِ راست نشر کر رہا ہے...اور نیوز چینلز پر جھلکیوں سے عوام الناس کو زیرِ دام لانے کی کوشش کی جا رہی ہے...اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے_

آخر تقریر میں ایسا کیا ہے کہ ایک زمانہ متاثر نظر آتا ہے...دراصل سیاست دان تقریر سے سامعین کی نفسیات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں جسے ہم ایک طرح کا ہپناٹزم کہہ سکتے ہیں... اِس کے لئے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں جیسے سراسر جھوٹ بولنا, جھوٹے وعدے کرنا, سہانے خواب دکھانا, مبالغہ آرائ کرنا, لوگوں کی پسند کی بات کرنا, چٹکلے چھوڑنا, کردار کشی کرنا, خامیاں نکالنا, نام بگاڑنا, بازاری زبان استعمال کرنا وغیرہ....یہ تو الفاظ کی فتنہ گری ہوئ...اِس کے علاوہ حرکات و سکنات سے بھی کام نکالنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے...بلند بلکہ ڈھارتی آواز نکالنا ,لگاتار مخصوص لے میں بولنا, ڈائس پر مکے مارنا, مائک کو زور زور سے ہلانا, گانا گانا, ورزش کر کے دکھانا, رقص کرنا, کسی بڑی شخصیت کے انداز کی نقل کرنا, آگے پیچھے جگہ بدلنا, ہاتھ ہلانا, ہاتھ لہرانا, مکا دکھانا, اچانک خاموش ہو جانا, (لطائف اور )مسخرہ پن کا سہارا لینا, گنتی گننا, نعرے لگوانا, آنسو بہانا, رندھی ہوئ آواز نکالنا, ڈرامائ انداز اختیار کرنا وغیرہ- مذکور بالا کئ حربے بظاہر نارمل معلوم ہوتے ہیں لیکن جب یہ کھوٹی نیت سے منسوب ہو جائیں تو انہیں بے ساختگی اور گر کا نام دینا تجاہلِ عارفانہ کم سے نہیں_

کیا ستم ہے کہ جوان تو جوان اچھے خاصے عقلمند اور عمر رسیدہ افراد بھی تقریر کے فریب میں آ جاتے ہیں...اب انہیں کون سمجھائے کہ بےوقوف بننے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے_
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 147 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 11 Articles with 2781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: