پابندیوں کا موسم

(Muhammad Humayun Shahid, Bahawalnagar)
پب جی کی بندش کے متعلق کئی بڑے گیمرز حضرات کی رائے یہ تھی کہ کسی بھی چیز کو یوں بین کردینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا. بلکہ ایسا کرنا ٹیکنالوجی کے میدان میں سبکی کا باعث بنتا ہے. یہاں ایک رائے اور بھی موصول ہوئی وہ یہ کہ اگر آپ نے دو یا تین بچوں کی خودکشی کے ڈر سے یہ فیصلہ کیا ہے تو یہ بہت کمزور فیصلہ ہے . کیونکہ یوں تو طالب علم یونیورسٹی کی وجہ سے بھی خودکشی کرتے ہیں. کیا آپ تمام یونیورسٹیاں بند کردیں گے؟ اس رائے میں جان محسوس ہوتی ہے کہ واقعی اگر کسی نظام میں کچھ خرابی آگئی ہے تو ہم اس میں خرابی کو دور کریں گے نہ کہ اس نظام کو ہی لپیٹ دیں گے.

جب سے جولائی آیا ہے موسم نے عجب کروٹ لی ہے.جولائی سے پہلے سورج کی تپش اپنے پورے جوبن پر تھی. گرمی ایسی تھی کہ ہر شخص پریشان تھا. لیکن پھر جولائی کے آجانے سے موسم نے کروٹ لی اور یوں بارشوں کا نزول ہوا. جس نے کھیتوں اور باغیچوں کے ساتھ ساتھ ہر ذی روح کو مستفید کیا اور یوں موسم ٹھنڈا اور قابل برداشت ہوگیا.

فطرت کے لئے تو موسم کا بدلنا سود مند ثابت ہوا ہے. لیکن اگر ہم ٹیکنالوجی کے حوالے سے موسم کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جولائی کے آجانے سے ٹیکنالوجی کو ہر قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے.

پابندیوں کا یہ سلسلہ یوں تو یکم جولائی سے ہی شروع ہوگیا تھا. جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے پب جی گیم کو بین کیا گیا. اس پر ( پی ٹی اے) کے ترجمان نے بتایا کہ لوگوں کی شکایات اور متعدد خودکشی کے واقعات کے پیش نظر ہم نے پب جی گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی ہے. اس پر پب جی کے کھیلنے والے سیخ پا ہیں کہ ایسے ایک گیم کو چند لوگوں کی شکایات پر کیوں کر بند کیا جاسکتا ہے. ٹویٹر جو کہ سماجی رابطے کی ایپ ہے اس پر پب جی کے کھیلنے والوں نے پب جی کی بندش کے خلاف ٹرینڈ چلایا جو کہ بہت کم وقت میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا.

مزید برآں عدالتوں تک یہ بات بھی پہنچ گئی اور یوں لاہور ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس متعلق کیس کی سماعت کے دوران ( پی ٹی اے) انتظامیہ کی سرزنش کی ہے اور ان سے قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا ہے.

پب جی کی بندش کے متعلق کئی بڑے گیمرز حضرات کی رائے یہ تھی کہ کسی بھی چیز کو یوں بین کردینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا. بلکہ ایسا کرنا ٹیکنالوجی کے میدان میں سبکی کا باعث بنتا ہے. یہاں ایک رائے اور بھی موصول ہوئی وہ یہ کہ اگر آپ نے دو یا تین بچوں کی خودکشی کے ڈر سے یہ فیصلہ کیا ہے تو یہ بہت کمزور فیصلہ ہے . کیونکہ یوں تو طالب علم یونیورسٹی کی وجہ سے بھی خودکشی کرتے ہیں. کیا آپ تمام یونیورسٹیاں بند کردیں گے؟ اس رائے میں جان محسوس ہوتی ہے کہ واقعی اگر کسی نظام میں کچھ خرابی آگئی ہے تو ہم اس میں خرابی کو دور کریں گے نہ کہ اس نظام کو ہی لپیٹ دیں گے. اگر یہ ہی کلیہ پب جی کے متعلق اپنایا جائے تو بہتر ہوتا ہے کہ ہم اس کے زائد الوقت کھیلنے پر پابندی لگاتے یا پھر کوئی حد مقرر کرتے اور قواعد و ضوابط کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالتے، لیکن پوری گیم کو بند کر دینا یہ ( پی ٹی اے) انتظامیہ کی تنگ نظری کی عکاسی کرتا ہے.

بنیادی طور پر اگر ہم اس گیم یعنی پب جی کے پس منظر پر روشنی ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بنانے والے برینڈن گرین نے ناول (دا ہنگر گیمز) سے ہی اس گیم کا بنیادی خیال اخذ کیا تھا. ناول 2008 کو شائع ہوا تھا. جس پر بعد میں (بیٹل فیڈ) کے نام سے فلم بھی بنائی گئی. جیسے کہ کہانی کے مطابق کچھ لوگوں کو مخصوص جگہوں پر چھوڑا جاتا تھا. یوں ان لوگوں نے اپنی زندگی کا دفاع کرنا ہوتا تھا. ان کو اپنے ہتھیار اور دشمن خود تلاش کرنے ہوتے تھے. اور جو بھی اس دوران بچ جاتا تھا. اس کو انعام کے طور پر کھانا اور کچھ پیسے دیے جاتے تھے. اس لئے پب جی میں بھی فاتحین کو چکن ڈنر دیا جاتا ہے. بنیادی طور پر یہ ناول غربت پر تھا. لیکن اس کو بہترین انداز میں تبدیل کر کے ایک گیم کی شکل دینا یقیناً ایک قابل ذکر چیز ہے.

یوں جب سے یہ گیم آئی ہے یعنی 2017 سے اب تک اس گیم کو چھ سو ملین سے زائد لوگوں نے ڈاون لوڈ کیا ہے. اس گیم کا ایک اور بڑا ریکارڈ یہ بھی ہے کہ اب تک ایک وقت میں آن لائن سب سے زیادہ لوگوں کے مابین کھیلے جانے والی بھی یہی گیم ہے.

یعنی اتنی مقبول ترین گیم کو محض چند واقعات اور شکایات کی پیش نظر بند کردینا ناقابل قبول عمل ہے. کیونکہ اس سے لوگ پیسا کما رہے ہیں، اور اب تک تو اس کے کئی مقابلے بھی منعقد ہوچکے ہیں. لہذا ایک ایسی گیم جو کہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہے اور جس کی بدولت لوگ اور خاص طور پر نوجوان نسل پیسا کما رہی ہے. اس کا یوں بند کردینا نوجوانوں کو بے روزگار اور بہت متاثر کرے گا.

ایسی ہی چند مزید ایپز اور بھی ہیں جیسے کہ بی گو لائیو اور ٹک ٹاک جس کی مدد سے لوگ پیسا کما رہے ہیں . پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے آج کے روز مورخہ 21 جولائی کو بی گو لائیو کو بھی فحش مواد کی اشاعت کے پیش نظر بند کردیا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ فحش مواد کی اشاعت پر نظرثانی کریں اور قابو میں لائیں نہیں تو بند کردیا جائے گا. در حقیقت بی گو لائیو یا پھر ٹک ٹاک فحش گوئی کا مرکز بن گیا ہے. لیکن کیا اس کا یہی حل باقی رہ گیا ہے کہ اسے بھی بند کر دیا جائے. ہرگز ہرگز یہ کوئی حل نہیں ہے. پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ فحش مواد کی روک تھام کے لئے پالیسی لائیں اور اس پر سختی سے عمل کروائیں. وقت کی حدود اور ڈیٹا فلٹر اینڈ چیک کا نظام لائیں اور قواعد و ضوابط کی پابندی استعمال میں لا کر فحش مواد کی تشہیر کو روکا جائے. کیونکہ بندشیں، کدگنیں اور پابندیاں کسی بھی چیز کا مکمل حل نہیں ہوتی ہیں.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Humayun Shahid

Read More Articles by Muhammad Humayun Shahid: 34 Articles with 9851 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2020 Views: 212

Comments

آپ کی رائے