اگر ویسٹ انڈین بیٹنگ میں بھی ایک سٹوکس ہوتا

(Sami Chahdury, Karachi)
 
جب موقع اہم ہو، وقت مشکل ہو اور امکانات زیادہ ہوں تو حالات کے بھنور سے اچانک ہیرو امڈ آتے ہیں۔
 
پچھلے میچ کے بعد بین سٹوکس مصر تھے کہ براڈ کو نہ کھلانے پر انھیں کوئی پچھتاوا نہیں تھا مگر اب اولڈ ٹریفرڈ کی اس بِپتا کے بعد یہ ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خود براڈ کو پچھلا میچ نہ کھیلنے کا افسوس بھی تھا اور کہیں نہ کہیں غصہ بھی۔
 
فاسٹ بولرز غصے کے بہت ’برے‘ ہوتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ فاسٹ بولرز میں صبر نہیں ہوتا۔
 
فاسٹ بولرز کا غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر رخ صحیح سمت میں نہ ہو تو اپنی ہی ٹیم کی لُٹیا ڈبو دیتا ہے۔ ہمیں شعیب اختر کا ’غصہ‘ بھی یاد ہے جو کامران اکمل سے دو متواتر کیچ ڈراپ ہونے پر امڈ آیا تھا اور پھر ان کے آخری سپیل میں وہی غصہ اپنی ٹیم کو لے ڈوبا۔
 
مگر سٹورٹ براڈ کا غصہ عین صحیح وقت پر عین صحیح سمت میں نکلا۔ کل شام کے سیشن تک یہ میچ ڈرا کی جانب جا رہا تھا تھا کہ انگلینڈ کو دوسرا نیا گیند ملا اور براڈ کا غصہ اپنی سمت میں گامزن ہوا۔
 
سٹورٹ براڈ کے وہ تین اوور اس میچ کا طے شدہ رخ بدل گئے۔ نئے گیند کے ساتھ جب ’پرانے‘ سٹورٹ براڈ واپس آئے تو یکبارگی لوگوں کو وہ نوجوان سا سیمر یاد آ گیا جو پلک جھپکتے میں گیند کو یوں اندر لاتا تھا کہ بڑے سے بڑا کھلاڑی بھی ایک بار تو چُوک ہی جائے۔
 
انگلینڈ کے لیے یہاں ڈرا کا اصل معنی شکست تھا، وہ بھی صرف اس میچ میں نہیں، سیریز کی ٹرافی اٹھانے میں بھی شکست ہی متصور ہوتی۔ ٹیسٹ چیمپیئین شپ کے تناظر میں تو ویسے بھی ہر میچ اور ہر نتیجہ اہم ہے۔
 
براڈ کے اس سپیل نے میچ کا توازن ایسا درست کر ڈالا کہ چار سیشنز بارش میں بہہ جانے کے باوجود گھنٹہ بھر پہلے ہی نتیجہ نکل آیا اور اگر میچ اسی رفتار سے چلتا رہتا جس پر سٹوکس پہلی اننگز میں کھیلے تو سیریز کا فاتح آج ہی طے ہو چکا ہوتا۔
 
مگر یہ دوسری اننگز میں پھر سٹوکس ہی تھے کہ جن کی ٹی ٹوئنٹیانہ اننگز نے انگلش بولرز کو اتنا مارجن دیا کہ اگر ویسٹ انڈین بلے باز میچ کو گھسیٹ کر آخری پندرہ منٹ میں لے بھی جاتے تو سٹورٹ براڈ کے ہمراہ دوسرے نئے گیند کی یلغار کا پورا پورا امکان موجود رہتا۔
 
 
انگلینڈ کی اس فتح میں ویسے تو سبھی کا پورا پورا حصہ ہے مگر سٹوکس کی دو اننگز اور براڈ کے دو سپیل وہ واضح فرق ہیں جو ہمیں دونوں ٹیموں میں نظر آئے۔ اگر ویسٹ انڈین بیٹنگ میں بھی ایک سٹوکس ہوتا تو ویسٹ انڈیز یہ سیریز جیت چکا ہوتا۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سمیع چوہدری

Read More Articles by سمیع چوہدری: 10 Articles with 5630 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2020 Views: 215

Comments

آپ کی رائے