جمعہ نامہ : یار اندھیرا عجب مداری ہے،سانپ رسی کو ہے بنا ڈالا

(Dr Salim Khan, India)

جین مذہب کے بانی مہاویر کے حوالے سے یہ حکایت مشہور ہے کہ انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے کہا جاو اوپر کے کمرے چا درلے آو۔ شاگرد اوپر گیا تو دیکھا کہکمرے کے دروازے پر سانپ لیٹا ہواہے۔ وہ گھبرا کر واپس آگیا اور اپنی معذوری ظاہر کی ۔ مہاویر نے اسے کچھ منتر سکھائے اور کہا کہ وہاں جاکر اس کو پڑھو تو سانپ بھاگ جائے گا ۔ شاگرد نے اطاعت کی مگر سانپ ٹس سے مس نہیں ہوا۔وہ پھر سے لوٹ آیا۔ اس بار استاد نے اسے لاٹھی تھمادی کہ اس سے سانپ کو بھگاو اور چادر لے آو ۔ شاگرد نےیہ حربہ بھی آزمایا مگر ناکام رہا ۔ لاٹھی کی ضرب بھی سانپ پر اثر انداز نہ ہوسکی ۔ اس بار شاگر نے لوٹ کر گزارش کی کہ استاد محترم اب آپ اس چادر کے بغیر یونہی سوجائیں۔ مہاویر نے کہا اچھا ایسا کرو کہ یہ آخری ترکیب آزماو اور اسے چراغ تھما دیا۔ شاگرد پریشان تھا کہ جو سانپ منتر اور لاٹھی سے نہیں بھاگا وہ بھلا چراغ سے کیوں کر بھاگے گا؟ لیکن اطاعت گزاری میں بادلِ ناخواستہ چل پڑا۔ اوپر پہنچ کرجب اس نےچراغ کی روشنی میں کمرے کو دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازے کے پاس سانپ نہیں بلکہ ایک موٹی سی رسی پڑی ہوئی تھی جس کو وہ سانپ سمجھ کر ڈر رہا تھا ۔ اس طرح اس کا خوف کافور ہوگیا اور وہ چادر کے ساتھ لوٹ آیا ۔

اس حکایت میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مثلاًانسان جہالت کے اندھیرے میں رسی جیسی بے ضرر شئے کو بھی سانپ سمجھ کر خوفزدہ ہوجاتا ہے لیکن علم کی روشنی سے بہرہ مند ہونے پرت اس کے دل سےخوف نکل جاتا ہے۔ شیطان انسانوں کی بتوں کے خوف میں مبتلا کرکے ان کی عبادت میں مبتلا کردیتاہے۔ طاغوتی طاقتیں تعذیب و آزمائش سے ڈراکر اپنی اطاعت کرواتی ہیں ۔ سورج کی صفات بتا کر اس کو معبود کے درجہ پر فائز کردینا اور خود کو اس کی اولاد بتا کر اپنی اطاعت کروانا ایک گمراہی تھی ۔ اس اندھیرے نے فرعون کے لیے انا ربکم الاعلیٰ کا دعویٰ کرنا آسان کردیا تھا ۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت موسیٰ ؑ کو دو معجزات سے لیس کرکے روانہ کیا گیا ایک عصا اور دوسرا ید بیضاء ۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دعوت کے وقت معجزے کو طور پر عصا کو نہیں بلکہ اپنے چکتے ہوئے ہاتھ کو پیش کیا جس سے سوریہ ونشی فرعون کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ فرعون کے اقتدار کی بنیاد یہ تھا کہ وہ سورج دیوتا کی اولاد ہے ایسے میں یہ کیوں کر ممکن ہے کہ انا ربکم الاعلیٰ کا دعویٰ کرنے والے حکمراں کے بجائے اس کو رب کائنات کی اطاعت کرنے والے موسیٰ کا ہاتھ چمک رہا ہو۔ اس طرح فرعون کے اقتدار کی گویا بنیاد ہل گئی ۔

فکر و نظر یعنی عقیدے کا لاحق خوف و خطر جنتر منتر یا طاقت و قوت کے استعمال سے دور نہیں ہوتے بلکہ وحی الٰہی سے دفع ہوتے ہیں ۔ اس حکمت عملی کی ایک بہت بڑی مثال فرعون تھا ۔ وہ پہلے تو حضرت موسیٰ ؑ کے معجزے کو دیکھ کر ڈر گیا۔ اس کے بعد انہیں ڈرانے کے لیے جادوگروں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور انہیں انعام و اکرام کا لالچ دیا لیکن جب جادوگروں کے سانپوں کوعصائے موسیٰ نگل گیا تو ان کے سامنے حقیقت کھل کر آگئی اور وہ ایمان لے آئے۔ جادوگروں کی شہادت علی الناس نے فرعون کو اور بھی زیادہ خوفزدہ کردیا اور دھونس دھمکی پر اتر آیا۔ ارشادِ قرآنی ہے ’’میں(فرعون) تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا ‘‘۔ اس تعذیب کی دھمکی جادوگروں کاردعملاہل ایما ن کی بے خوفی پر شاہد ہے ’’انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا‘‘۔ کفرو جہالت کی تاریکی میں انسان یا تو رسی کو سانپ سمجھکرڈرجاتاہےیا سانپ کو رسی سمجھ کر کچل دیتاہے لیکن الہامی ہدایت کیروشنی اسے ہرخوف و خطر سے محفوظ و مامون رکھتی ہے ۔اس لیے؎
جینا ہے تو جینے کی پہلی سی ادا مانگو
فرعون سے ٹکراؤ ،موسیٰ سے عصا مانگو
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 460711 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2020 Views: 400

Comments

آپ کی رائے