محرم کے دو عظیم شہید فاروق ؓ وحسینؓ

(Mufti Tanveer Ahmed, )

 جب بھی محرم کا مہینہ آتا ہے تو ہمیں خلیفہ دوم ،داماد علیؓ ،خسر نبیﷺ،مرادِ پیغمبرﷺ شہید مصلٰی رسولﷺحضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ اور نواسہ رسولﷺ،جگر گوشہ بتولؓ،جنت کے پھول حضرت سیدناامام حسین رضی اﷲ عنہا کی درد ناک و المناک اور انتہانی مظلومانہ اور مجاہدانہ شہادت کی یاد تازہ ہو ناشروع ہوجاتی ہے کہ کس طرح ان شہسوارانِ اسلام نے اپنا خون دے کر اسلام کی فصل کی آبیاری کی ہے ۔ ان کی رگوں سے نچڑا ہوا خون آج بھی اس چمن اور نئی نسل کی آبیاری کر رہا ہے ،یہ لوگ مر کر بھی نہیں مرے ،اور ان کو مارنے والے حکومتیں اور سلطنتیں لے کر مرگئے، مٹ گئے ،اوران کے اور ان کی قبر کے نام و نشان بھی ختم ہوگئے ،اور ان کے برعکس شہید محراب حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اﷲ عنہ ، شہیدِ کربلا حضرت سیدنا حسین بن علی رضی اﷲ عنہ اور ان کے ساتھ نبوت کاعالیشان گھرانہ( آل ِرسول ﷺ )بشمول بہتر پاکیزہ نفوس کے آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے یہ تو ابھی چودہ سو سال گزرے ہیں چودہ کروڑ سال بھی گزر جائیں بلکہ قیامت تک اور قیامت کے بعد بھی امت یونہی ان ہستیوں کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتی رہے گی جنہوں نے کرب وبلا کی وادی میں ، وفا کا جام پی کر، باطل کو للکار کر ،سینہ سپر ہو کر،سنت کے احیاء ،بدعت اور باطل نظام کے خاتمے کے لئے، حق کی راہ میں اپنے سر اور تن کوکٹاکر،معصوم عبداﷲ جیسے بچوں کو ذبح کروا کر،قاسم،ابوبکر،عمرجیسے (حضرت سیدناحسینؓ کے) بھتیجوں اورابوبکر،عثمان ،محمد،جعفر،عباس جیسے (حضرت حسین ؓکے)بھائیوں اور علی اکبر،عون ،محمد جیسے صاحبزادوں،مسلم ،حبیب ،عمر،سعید،زہیراورحروغیرہ جیسے بہادرجوانوں نے قربانیاں دے کر، حضرت زینب ،بی بی سکینہ اور فاطمہ صغرٰی جیسی صابرہ اورپاکباز بیٹیوں نے قیدہو کر، قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ
گردنیں کٹوا کریہ بتلا گئے کربلا والے کبھی باطل کے سامنے جھک نہیں سکتے خدا والے
قتلِ حسینؓ اصل میں مرگ ِیزید ہے اسلام زند ہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ایک پل کی تھی نہیں حکومت یزید کی صدیاں حسین ؓکی ہیں، زمانہ حسین ؓکا

یکم محرم الحرام کو حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ کی شہادت ہوئی ۔یہ وہ ہستی ہیں جن کو حضور سرور کونین ﷺ نے کعبہ کے پاس جا کر اسلام کی عزت اور شان وشوکت کے لئے نام لے کر اﷲ سے مانگا۔ کیا عجب سماں ہو گا ایک وقت تھاجب اسی کعبہ کے پاس ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام نے آپ ﷺ کو اﷲ سے مانگااور آج اﷲ کے نبی ﷺ یہاں عمر کو مانگ رہے ہیں۔جس کو خلیل علیہ السلام نے مانگا وہ ہزاروں سال بعد آئے اور جس کو میرے آقا ﷺنے مانگا وہ اگلے دن آپﷺ کے قدموں میں آگئے اور اس پر آپ ﷺ اتنے خوش ہوئے کہ آپ ﷺ نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔ گویااس وقت اسلام کو عمر کی ضرورت تھی۔اسلام لانے کے بعد سب سے پہلے کعبہ کا دروازہ کھلوایا۔ سب سے پہلے کھلم کھلا ہجرت کی۔۲۲لاکھ مربع میل پر اسلای جھنڈے کو لہرایا۔قیصر وکسرٰ ی کو نیست ونابود کیا۔ بیت المقدس کو فتح کیا۔چار عناصر آگ ، مٹی، ہوا،پانی کو تسخیر کیا۔ آگ نے ان کی چادر کو دیکھ کر واپسی کا رخ لیا، زلزلے والی زمین(مٹی) ان کے درہ مارنے کی وجہ ساکن ہوگئی،دریائے نیل (پانی) نے خشک ہوجانے کے بعدان کے خط ڈالنے کی وجہ سے ایسی روانی اختیار کی کہ آج تک دوبارہ خشک نہیں ہوا۔ہوا نے ان کا پیغام کوبغیر وائر لیس اور فون کے میلوں دور امیر لشکر حضرت ساریہؓ کے کانوں تک پہنچایا۔جن کی سادگی ایسی کہ لباس میں کئی کئی جگہ پر پیوند لگے ہوتے تھے ،عاجزی ایسی کہ غلام سوار اور امیر المومنین پیدل بیت المقدس میں داخل ہو رہے ہیں،خدمت ایسی کہ غریبوں ،بیواؤں،یتیموں کی لسٹ بناکر ان کے کھانے کے سامان خود کندھوں پہ اٹھا کر ان کے گھر پہنچا دیتے ہیں۔رائے ایسی کہ قرآن میں22مقامات میں آیات ان کی رائے کے مطابق اتریں۔ خلافت وعدالت ایسی کہ فرمان جاری ہو اکہ دریا کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسامرے گا تو ’’عمر‘‘ سے کل قیامت کے دن اس کی پوچھ ہوگی۔جس کی عدالت وانصاف کا جدید یورپ غیر مسلم بھی آج تک معترف ہو۔اہل بیت رسولﷺ سے محبت ایسی کہ اپنے بیٹے کو 500درھم اور حسنین کریمینؓ کو 3000درہم دے رہے ہیں ۔ نیکیان اتنی کہ جتنے آسمان کے ستارے ہوں۔صلاحیت اور استعداد اتنی کہ فرمان رسول ﷺ جاری ہوا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا‘‘رعب ودبدبہ ایسا کہ جس گلی اور استے سے عمر گزر جائے شیطان وہ راستہ چھوڑ دیتا ہے الغرض سیدنا عمر فاروق ؓ کی ہر شان نرالی ہے اسی لئے کسی انگریز مصنف نے کہا تھا کہ اگر عمر چند سال اور زندہ رہ جاتے تو دنیا سے کفر کا بیج ہی ختم ہوجاتا ۔ساری دنیا میں محمد ﷺکا اسلام پھیل جاتا۔

اسی طرح ۱۰محرام الحرام کو نواسہ رسول ﷺ حضرت سیدنا امام حسین ؓ نے ۷۲ جانثاروں کے ساتھ جنت کے نوجوانوں کی سرداری کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی جان ومال اور پاکیزہ گھرانہ راہ خدا میں قربان کر ڈالا۔یہ وہ ہستی ہیں جن کو خود آقا علیہ السلام نے گھٹی دی ۔اپنی لب اور زبان چسوائی،اپنے کمر ،کندھوں اور بازوؤں پر سوار کیا،اپنے ہاتھوں سے دودھ دوہ کر پلایا،ان شہزادوں کو دیکھ کر ان کو اٹھانے کے لئے جمعے کا خطبہ عارضی طورپرچھوڑا،نمازمیں ان کے کمر پر سوار ہونے کی حالت میں سجدے لمبے کر دیے،ان کی شہادت کی خبر پربذریعہ وحی مطلع ہو کر آنکھوں سے آنسو برسائے۔ان کوصرف جنت نہیں ،جنت کے نوجوانوں کی سرداری کے مژدے سنائے،ان کو چادر میں لے کرآیت تطہیر کی اہل بیت کی فضیلت میں شامل فرمایا،اﷲ تعالی ان مبارک ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Tanveer Ahmed

Read More Articles by Mufti Tanveer Ahmed: 17 Articles with 5620 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2020 Views: 133

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ