فقہ حنفی اور دیگرمذاہب میں اذان و اقامت کے کلمات, دلائل و شواہد کی روشنی میں

(Mohammad Arif Husain Misbahi Barkati, Bahraich Up India)
دور حاضر میں مروجہ اذان و اقامت کی شرعی حیثیت کیا ہے دلائل و شواہد کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں

اقامت صف بندی سے قبل نماز کے لیے موجود افراد کو بلانے کو کہتے ہیں۔ اذان و اقامت ہر دو کا اصطلاحی مفہوم بلانے یا پکار نےکے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اذان نماز کے وقت ہونے پر دی جاتی ہے تاکہ مسجد آنے اور نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کر لیں۔ اور اقامت صف بندی سے قبل مسجد میں موجود حاضرین اور نماز کے لیے تیار افراد کو متوجہ کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔[1الاختيار 1 / 42، وابن عابدين 1 / 256 ] حنفیہ کے نزدیک اذان کی طرح اقامت کے کلمات بھی دو دو مرتبہ ہیں۔ مالکیہ کے نزدیک اقامت میں تمام کلمات صرف ایک مرتبہ کہے جائیں گے۔ شافعی اور حنبلی کے نزدیک تمام کلمات ایک ایک مرتبہ صرف قد قامت الصلاۃ دو مرتبہ کہا جائے گا۔[ "اتجاهات الفقهاء في ألفاظ الأذان والإقامة:"] فقہ جعفریہ میں اللہ اکبر دو بار، قد قامت الصلاۃ دو بار اور لا اله الا الله ایک بار کہا جاتا ہے۔(تفاوت اذان و اقامه در چیست؟)

, احناف کے یہاں تعدادِ کلمات کے اعتبار سے اذان اور اقامت میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی اذان میں جتنے کلمات ہیں اقامت میں بھی اتنے ہی ہیں؛ البتہ ”اقامت“ میں ”حی علی الفلاح“ کے بعد دو مرتبہ ”قدقامت الصلاة“ کا اضافہ کیا جائے گا، یہ اضافہ اذان میں نہیں ہے۔ اس اختلاف کاثمرہ منظرعام پر آنےکی وجہ یہ ہے کہ سن١/ھجری جب مدینہ طیبہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد بنائی گئی تو ضرورت محسوس ہوئی کہ لوگوں کو جماعت کا وقت قریب ہونے کی اطلاع دینے کا کوئی خاص طریقہ اختیار کیا جائے۔ رسو ل اللہ علیہ السلام نے اس بارے میں صحابہ کرام سے مشاورت کی تو مندرجہ ذیل چار تجاویز سامنے آئیں :
نماز کے وقت بطور علامت کوئی خاص جھنڈا بلند کیا جائے۔
کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جائی۔
یہودیوں کی طرح سینگ بجایا جائے۔
مسیحیوں کی طرح ناقوس بجایا جائے۔
مذکورہ بالا سبھی تجاویز آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے غیر مسلم اقوام سے تشبیہ کے باعث پسند نہ فرمایا۔ اس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت اور صحابہ کرام بھی متفکر تھے کہ اسی رات ایک انصاری صحابی حضرت عبداللہ بن زید نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے انہیں اذان اور اقامت کے کلمات سکھائے ہیں۔ انھوں نے صبح سویرے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب بیان کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اسے پسند فرمایا اور اس خواب کو اللہ تعالٰی کی جانب سے سچا خواب قرار دیا. جیساکہ سنن الترمذی [ ص: 358 ] أبواب الأذان باب ما جاء في بدء الأذان
حدیث نمبر189 عن محمد بن عبد الله بن زيد عن أبيه قال لما أصبحنا أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته بالرؤيا فقال إن هذه لرؤيا حق فقم مع بلال فإنه أندى وأمد صوتا منك فألق عليه ما قيل لك وليناد بذلك قال فلما سمع عمر بن الخطاب نداء بلال بالصلاة خرج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يجر إزاره وهو يقول يا رسول الله والذي بعثك بالحق لقد رأيت مثل الذي قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فلله الحمد فذلك أثبت قال وفي الباب عن ابن عمر قال أبو عيسى حديث عبد الله بن زيد حديث حسن صحيح. حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت عبداللہ بن زید سے فرمایا کہ تم حضرت بلال کو اذان کے کلمات کی تلقین کر دو، ان کی آواز بلند ہے اس لیے وہ ہر نماز کے لیے اسی طرح اذان دیا کریں گے۔ چنانچہ اسی دن سے اذان کا یہ نظام قائم ہے اور اس طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے موذن قرار پائے۔ اسی طرح سنن بیہقی اور مصنف بن ابی شیبہ میں یہ روایت ہے عن عبد الرحمن بن أبي لیلی، قال: حدثنا أصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم أن عبد اللہ بن زید الأنصاري جاء إلی النبي -صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ رأیت في المنام کأن رجلا قام وعلیہ بردان أخضران،فقام علی حائط فأذن مثنی مثنی وأقام مثنی مثنی, حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہ رسالت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خواب میں اذان کا طریقہ دیکھا ہے کہ ایک مردکھڑاہے اس پردوسبز چادر پڑی ہے وہ دیوار پر کھڑا ہوا ہےاس نے اذان اوراقامت کے کلمات دودوبار کہےہیں, (إعلاء السنن: ۲/ ۱۱۰، ط: کراچی)
تو ایک جانب حضرت عبداللہ بن زید انصاری جنہون نے بحکم رسول پاک علیہ التحیۃ و الثناحضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کی تعلیم دی وہ خود فرماتے ہیں
"كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفْعًا شَفْعًا فِي الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذان اور اقامت دو دو مرتبہ تھی۔
ترمذي، السنن، كتاب أبواب الصلاة، باب ما جاء أن الإقامة مثنى مثنى، 1: 371، رقم: 194، بيروت: دار إحياء التراث العربي
دار قطني، السنن، باب ذكر سعد القرظ، كتاب الصلاة، 1: 241، رقم: 30، بيروت: دار المعرفة
اسی طرح ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ الکوفی نے صحیح سند کے ساتھ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْفَعُ الْأَذَانَ وَالْإِقَامَةَ.
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے موذن تھے وہ اذان اور اقامت کے الفاظ دہرے دہرے ادا کرتے تھے۔ ابن أبي شيبة، المصنف، كتاب الأذان والإقامة، من كان يشفع الإقامة ويرى أن يثنيها، 1: 187، رقم: 2139، الرياض: مكتبة الرشد. تعجب ہے اتنی صریح روایت کے باوجود ان کے بارے میں کہنا کہ اذان و اقامت میں وہ تفریق کرتے تھے یہ تو احادیث سے لا علمی اورکہیں امت میں افتراق کا پیش خیمہ تو نہیں ہے؟ جبکہ دوسری جانب صحابی رسول حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ جوکہتےہیں کہ انہوں نے بذات خود آقا علیہ الصلاۃ والسلام سے اذان و اقامت کے کلمات سیکھیں ہیں اور اور اس میں ترجیع کا ذکر ہے ان سےمختلف روایات ہیں ذیل میں ملاحظہ کریں. عن ابي محذورة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" الاذان تسع عشرة كلمة، والإقامة سبع عشرة كلمة". ثم عدها ابو محذورة تسع عشرة كلمة وسبع عشرة.
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان کے انیس کلمے ہیں، اور اقامت کے سترہ کلمے“، پھر ابومحذورۃ رضی اللہ عنہ نے انیس اور سترہ کلموں کو گن کر بتایا ۱؎۔ (واضح رہے کہ سترہ کلمات اقامت میں جبھی ممکن ہے جب مروجہ طریقہ پر اقامت دی جائے اور اذان میں انیس جبھی ممکن ہے جب ترجیع کے ساتھ ہوتفصیل آگے آرہی ہے )
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، سنن ابی داود/ الصلاة 28 (502، 504)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (192)، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (709)، (تحفة الأشراف: 12169)، (صحیح)» عن ابي محذورة، قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم الاذان، فقال:" الله اكبر الله اكبر، الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، ثم يعود، فيقول: اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر الله اكبر، لا إله إلا الله".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان سکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» “ پھر آپ لوٹتے اور کہتے: «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ» ۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 631 (حسن صحیح)»
قال: حدثني عبد العزيز بن عبد الملك بن ابي محذورة، ان عبد الله بن محيريز اخبره وكان يتيما في حجر ابي محذورة حتى جهزه إلى الشام، قال: قلت لابي محذورة إني خارج إلى الشام واخشى ان اسال عن تاذينك، فاخبرني ان ابا محذورة، قال له: خرجت في نفر فكنا ببعض طريق حنين مقفل رسول الله صلى الله عليه وسلم من حنين، فلقينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض الطريق، فاذن مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسمعنا صوت المؤذن ونحن عنه متنكبون فظللنا نحكيه ونهزا به، فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصوت فارسل إلينا حتى وقفنا بين يديه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ايكم الذي سمعت صوته قد ارتفع؟" فاشار القوم إلي وصدقوا، فارسلهم كلهم وحبسني، فقال:" قم فاذن بالصلاة"، فقمت، فالقى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم التاذين هو بنفسه، قال:" قل: الله اكبر الله اكبر، الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، ثم قال: ارجع فامدد صوتك، ثم قال: قل: اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله اكبر الله اكبر، لا إله إلا الله"، ثم دعاني حين قضيت التاذين، فاعطاني صرة فيها شيء من فضة، فقلت: يا رسول الله، مرني بالتاذين بمكة، فقال: امرتك به، فقدمت على عتاب بن اسيد عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فاذنت معه بالصلاة عن امر رسول الله صلى الله عليه وسلم. عبداللہ بن محیریز جوابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے (اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو)، تو آپ نے کہا میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ہی) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں نے (ابھی) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟“ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: ”اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر» «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ اپنی آواز کھینچو (بلند کرو)“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا“، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 630 (حسن صحیح)»
عن ابي محذورة، قال: لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من حنين، خرجت عاشر عشرة من اهل مكة نطلبهم، فسمعناهم يؤذنون بالصلاة، فقمنا نؤذن نستهزئ بهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" قد سمعت في هؤلاء تاذين إنسان حسن الصوت"، فارسل إلينا، فاذنا رجل رجل وكنت آخرهم، فقال حين اذنت:" تعال،"، فاجلسني بين يديه فمسح على ناصيتي وبرك علي ثلاث مرات، ثم قال:" اذهب فاذن عند البيت الحرام"، قلت: كيف يا رسول الله؟ فعلمني كما تؤذنون الآن بها" الله اكبر الله اكبر، الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم في الاولى من الصبح، قال: وعلمني الإقامة مرتين: الله اكبر الله اكبر، الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان لا إله إلا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله، حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، الله اكبر الله اكبر، لا إله إلا الله". قال ابن جريج: اخبرني عثمان هذا الخبر كله، عن ابيه، وعن ام عبد الملك بن ابي محذورة، انهما سمعا ذلك من ابي محذورة.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے نکلے تو میں (بھی) نکلا، میں اہل مکہ کا دسواں شخص تھا، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے تو ہم نے انہیں نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم بھی اذان دینے (اور) ان کا مذاق اڑانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں میں سے ایک اچھی آواز والے شخص کی اذان میں نے سنی ہے“ چنانچہ آپ نے ہمیں بلا بھیجا تو یکے بعد دیگرے سبھی لوگوں نے اذان دی، اور میں ان میں سب سے آخری شخص تھا جب میں اذان دے چکا (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”ادھر آؤ!“ چنانچہ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا، اور میری پیشانی پر (شفقت کا) ہاتھ پھیرا، اور تین بار برکت کی دعائیں دیں، پھر فرمایا: ”جاؤ اور خانہ کعبہ کے پاس اذان دو“ (تو) میں نے کہا: کیسے اللہ کے رسول؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے تم اس وقت اذان دے رہے ہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» (پھر دوبارہ) «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، اور فجر میں «الصلاة خير من النوم»، «الصلاة خير من النوم» ”نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“ کہا، (اور) کہا: مجھے آپ نے اقامت دہری سکھائی: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «قد قامت الصلاة»، «قد قامت الصلاة»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ» ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ یہ پوری حدیث مجھے عثمان نے بتائی، وہ اسے اپنے والد اور عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہ کی ماں دونوں کے واسطہ سے روایت کر رہے تھے کہ ان دونوں نے اسے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 631 (صحیح)»
(مندرجہ بالاتمام احادیث میں کلمات تکبیرچارمرتبہ ہیں البتہ موخرالذکر حدیث میں کلمات اقامت دودوبار مذکور ہے. جس
سے احناف کا نظریہ اقامت کے سلسلہ میں مضبوط ہوتا ہے. عن ابي محذورة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقعده فالقى عليه الاذان حرفا حرفا، قال إبراهيم: هو مثل اذاننا هذا، قلت له: اعد علي، قال:" الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا إله إلا الله مرتين، اشهد ان محمدا رسول الله مرتين، ثم قال: بصوت دون ذلك الصوت يسمع من حوله: اشهد ان لا إله إلا الله مرتين، اشهد ان محمدا رسول الله مرتين، حي على الصلاة مرتين، حي على الفلاح مرتين، الله اكبر الله اكبر، لا إله إلا الله".
ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھایا، اور حرفاً حرفاً اذان سکھائی (راوی) ابراہیم کہتے ہیں: وہ ہمارے اس اذان کی طرح تھی، بشر بن معاذ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے (ابراہیم سے) کہا کہ میرے اوپر دہراؤ، تو انہوں نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر» ۲؎ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو مرتبہ، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو مرتبہ، پھر اس آواز سے دھیمی آواز میں کہا: وہ اپنے اردگرد والوں کو سنا رہے تھے، «أشهد أن لا إله إلا اللہ» دو بار، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» دو بار، «حى على الصلاة» دو بار، «حى على الفلاح» دو بار، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «‏‏‏‏لا إله إلا اللہ» “۔
تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الصلاة 28 (500، 501، 503، 505)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (191) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (708)، مسند احمد 2/ 408، 409، سنن الدارمی/الصلاة 7 (1232)، (تحفة الأشراف: 12169)،
مندرجہ بالا ابومحذورہ سے مروی تمام احادیث میں خصوصا "ترجیع "کا ذکر ہے ترجیع شہادتین کے کلمات کو پہلے دو بار آہستہ کہنے، پھر انہیں دو بار بلند آواز سے پکار کر کہنے کو ترجیع کہتے"ترجیع" کے لغوی معنی ہیں لوٹانا، دہرانا۔ یہاں ترجیع سے مراد شہادتین کے بعددونوں کلمے :أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ ,أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ٱللَّٰهِ
پہلے دو دفعہ آہستہ اور پھر دو دفعہ بلند آواز سے کہنا ہے آوزاکو پست کرنے کاحکم ہےجس سے ظاہر ہے کہ ابو محذورہ کو اذان میں کیسے الفاظ ادکرنا ہے اس بات کی تعلیم انہیں دی جارہی تھی جیسا کہ ماقبل کی روایات میں اس کی تصریح آئی ہے، لیکن موخرالذکر باب کی حدیث اس کے برعکس ظاہر ہے، الاّ یہ کہ «دون ذلک» کی تاویل «سوی ذالک» سے کی جائے۔ جو حدیث کی منشا کے خلاف ہےکیون کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر کلمات کی طرح تکبیر بھی دو ہی بار ہے لیکن ماقبل میں بیان کی گئی احادیث میں اذان کے کلمات ضبط کئے گئے ہیں، اس میں تربیع یعنی تکبیر چار بار ہے نیز ان کی روایات میں ترجیع کی تصریح آئی ہے، اور بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں ترجیع کا ذکر نہیں ہے،آحادیث سےتومظہرہے کہ ترجیع کے ساتھ بھی اذان کہی جا سکتی ہے اور بغیر ترجیع کے بھی لیکن احناف نے بغیر ترجیع کے اختیار کیا اس کی وجہ ماقبل میں عبداللہ بن زید کی وہ صحیح احادیث ہیں,
اسی لئے اذان میں احناف کے نزدیک ترجیع نہیں۔ امام شافعی ترجیع کے قائل ہیں اور ان کی دلیل ماقبل میں گزری کہ صحابی رسول ابو محذورہ کو ترجیع کی تعلیم حضور علیہ السلام. نےدیا تھا۔ اس کے جواب میں احناف کی جانب سے امام طحاوی و ابن جوزی فرماتے ہیں کہ اس وقت سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود اذان کی تعلیم دینا تھا جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث سے ظاہر ہے اور تعلیم میں ایک بات کو بار بار دہرانے کی نوبت اکثر آتی ہے۔ ابو محذورہ یہ سمجھے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ حکم دائمی ہے علاوہ ازیں معجم طبرانی میں ابو محذورہ کی روایت میں ترجیع نہیں ہے پس دونوں روایتیں متعارض ہونے کی وجہ سے ساقط ہوئیں اور عبداللہ بن زید اور ابن عمر( جن کی روایت میں اذان کے کلمات دودوبار اور اقامت کے کلمات ایک ایک بارلیکن ترجیع کا کوئی ذکر نہیں )وغیرہ رضی اللہ عنھماکی روایتیں بغیر ترجیع کے قابلِ حجت رہیں جن میں ترجیع مذکور نہیں ہے۔ اور پھر جوکلمات اذان واقامت میں تفریق کے قائل ہیں کہ اگر اذان دوہرے کلمات سے دی جائے تو اقامت اکہرے کلمات سے دی جائے ایسے لوگ عبد اللہ بن زید کی احادیث کا کیا جواب دیں گے؟ جن کے نزدیک اذان و اقامت دونوں میں ہی دوہرے دوہرے کلمات سے ادا کئے جانے کابیان ہے ؟ اور ماقبل میں مذکور ابو محذورہ کی روایت میں خود موجود ہے کہ اقامت میں سترہ کلمات ہیں اور مجھے رسول اللہ نے اقامت کے کلمات دودوبار سکھائے ؟اور یہ جبھی ممکن ہے جب مروجہ اقامت کے کلمات ادا کئے جائیں, ایسےلوگ جو احادیث پر عمل کے دعوے دار ہیں ان کے نزدیک ابو محذورہ اور عبد اللہ بن زید کی روایت میں تطبیق کیسے ممکن ہوسکتی ؟ ؟ اس لئے ہم عبداللہ بن زید کی صحیح احادیث جن میں اذان واقامت میں دوہرے دوہرے کلمات بیان کرنے کا ذکر ہے اس کی روشنی میں یہ کہنے کے مجاز ہیں کہ الحمد للہ پوری دنیا میں مروجہ اذان واقامت j کے مطابق درست ہے ,اللہ ہمیں صحیح علم و عمل اورفہم دین عطافرمائےآمین بجاہ نبیہ الامین .
سابق کنوینر تنظیم ابنائے اشرفیہ شاخ ہوڑہ مغربی بنگال ومقیم حال دارالعلوم اشرفیہ حشمت الرضا قصبہ مہراج گنج مہسی بہرائچ یوپی الھند
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Arif Husain Misbahi Barkati

Read More Articles by Mohammad Arif Husain Misbahi Barkati: 32 Articles with 26988 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2020 Views: 108

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ