گاؤں کے بدلتے اقدار: چند تلخ حقائق

(محمد ساجدرضا مصباحی, اتردیناج پور بنگال انڈیا)
اب گاؤں کے وہ سارے اقدار وروایات قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں ، صاف وشفاف دل اب کدورتوں سے بھر چکے ہیں، گاؤں کی سادگی و سادہ دلی اب عیاری اور مکاری میں بد ل چکی ہے ، بلکہ وہ اس معاملے اہل شہر کو کئی قدم پیچھے چھوڑ چکے ہیں ،بغض وحسد یہاں مکمل عروج پرہے، ناچاقی اور نا اتفاقی کا بول بالا ہے، بات بات پر لڑنا جھگڑنا اور خون خرابہ کر نا ان کا شیوہ بن گیا ہے، اب گاؤں میں صلح کرانے والے لوگ کم اور آگ لگانے والے زیادہ ہیں ،

کوڈ- 19 کی تباہیوں کے سبب نظام زندگی مفلوج ہے ،تقریبا چار مہینے سے معمولات ِ شب و روز درہم برہم ہیں ،پوری دنیااور زندگی کے تمام شعبے اس وبا سے متاثر ہیں ،منبر ومحراب سے صداے حق لگانے پر پابندی ہے،شاہراہیں بھی سونی ہیں ،مساجد کی رونقین کئی مہینے گزر نے کے بعد بھی بحال نہیں ہو سکی ہیں ،مدارس اسلامیہ تعطل کے شکار ہیں ، نیا تعلیمی سال بھی شروع نہیں ہو سکا ہے،حال اور مستقبل دونوں تاریک ہیں ،ہر سال بے پناہ مسرتوں کا پیغام لے کر آنے والارمضان کا مقدس مہینہ بھی بڑے کرب واضطراب میں گزرا،حکومتی گائڈلائن کی وجہ سے تراویح اور دیگرنمازوں کا اہتما م اس شان وشوکت اور جوش وولولےکے ساتھ نہیں ہو سکا جس طرح ہر سال ہوا کرتا تھا،عید الفطر کا تہوار بھی دل پر پتھر رکھ کر منایا گیا ۔ چند مہینوں کے اندر دنیا اس قدر بدل جائے گی ،حالات اس قد ر غیر یقینی ہو جائیں گے ،انسانی زندگی میں اس طرح انقلاب برپا ہوجائےگا، جینے کے طریقے اس طرح بدل جائیں گے ،لوگوں کے فکر ونظر کا زوایہ اس طرح تبدیل ہو جائے گا ، شاید کسی کے وہم وخیال میں بھی نہیں تھا۔در اصل یہ قدرت کے مظاہر ہیں ، جو ہمیں انسان کی بے بسی اور قادر مطلق کی لازوال اور بے مثال قدرت کا نمونہ دکھا تے ہیں ، اور اس بات سے باخبر کرتے ہیں کہ انسان چاہے جس قدر تر قی کر لے ،تسخیر کائنات کے جتنے بھی دعوے کر لے ،ہواؤں کی دوش پر جتنا چاہےپرواز کر لے ،قدرت کی ایک ادنیٰ سی مار جھیلنے کی اس کے اندر سکت نہیں ہے، قدرت کی بے آواز لاٹھی کا ایک ہلکا سا ضرب بھی انہیں تہ وبالا کر نے کے لیے کافی ہے ۔یہ حالات اہل دانش کے لیے غور وفکر کا موضوع اور عبرت حاصل کر نے والوں کے لیے عبرت کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔

آج ہم لاک ڈاؤن کے کے کچھ محسوسات اور اپنے سماج ومعاشرے کے گہرے مطالعہ کے چند نکات آپ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ، جس میں نہ تو کوئی ملمع سازی ہے اور نہ الفاظ و بیان کی جادو گری ، بس گرد وپیش کے حالات کا ایک نا مکمل جائزہ ہے، جو شاید ہمیں بہت کچھ سوچنے اور سمجھنےپر مجبور کرتا ہے۔

کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر مرکزی حکومت کی جانب سےپورے ملک میں ۲۵؍ مار چ ۲۰۲۰ء سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، جو بدلتی شکلوں کے ساتھ اب بھی نافذ ہے ،لاک ڈاؤن کی گائڈ لائن کے مطابق بے وجہ باہر نکلنے کی سخت ممانعت تھی ، اکثر لوگوں نے اپنے گھر اور محلوں میں ہی لاک ڈاؤن کے ایام گزارے ،ہم نے بھی لاک ڈاؤن کے ڈھائی مہینے اپنے آبائی وطن میں گزار نے کی سعادت حاصل کی ،ایک طویل عرصے کے بعد مدرسے کی زندگی سے دوروطن عزیز میں اتنی طویل مدت گزار نے اور سماج ومعاشرے کو گہرائی سے دیکھنےاور پرکھنے کا موقع ملا، بڑے اہم اور عبرت آموز تجربات ہو ئے اور بے انتہا حیرت بھی ہوئی کہ ادھردودہائی کے اندر ہمارا سماج اس قدر کیسے بدل گیا، سماج کے وہ اقدار وروایات کہاں چلے گئے ، جن کو سماج کا لازمی حصہ سمجھاجاتا تھا ، جن کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، گاؤں کی وہ سادگی کہاں چلی گئی جس کو اس کا طرۂ امتیاز سمجھا جاتا تھا، بڑوں کا وہ ادب واحترام کہاں چلا گیا جو اس سماج میں پلنے بڑھنے والے ہر جوان کے اندر بدرجۂ اتم موجود ہوتا تھا، بڑوں کی وہ شفقتیں کہاں دفن ہو گئیں جو ہر چھوٹے پر پوری سخاوت وفیاضی کے ساتھ برستی تھیں،گاؤں کے وہ چوپال کب فساد خانوں میں تبدیل ہو گئے جہاں ایک دوسرے کی غیبت نہیں بلکہ بڑے بزرگ چھوٹوں کو سبق آموز قصے اور کہانیاں سنا یا کرتے تھے، دلوں کی وہ ہمدردیاں کہاں چلی گئیں جو دُکھ سکھ میں ایک دوسرے کا غم باٹنے اورایک دوسرے کی مسرتیں دوبالا کر نے میں اہم کردار داکرتی تھیں۔۔۔۔۔۔

ہم نے اپنے بچپن کے ایام جس سماج میں گزارے ،آج اس کے تانے بانے مکمل طور بکھر چکے ہیں ، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت ہمارے سماج کی ایک بڑی خوبی تھی ، گاؤں کے چھوٹے چھوٹے بچے جو کھیل میں مصروف ہو تے ،جب اپنے کسی بڑے کوگزرتے دیکھتے تو بے ساختہ ایک ساتھ بآواز بلند السلام علیکم کی صدائیں بلند کرتے ، سماج کے نوجوان کسی اجتماعی کام سے قبل اپنے بڑوں کی اجازت حاصل کرنا ضروری سمجھتے ، خاندان کے عمر دراز افراد خاندان کے مکھیا اور سرپرست سمجھے جاتے ، کسی بھی کام سے پہلے ان سے مشاورت لازم ہوتی،ان کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی کام مشکل ہوتا ،سماج کے ہر فرد کےدل میں سماجی اصول وقوانین کا خوف ہو تا ،کسی بھی غیر اخلاقی کام سے پہلے انہیں سماجی دباؤ کا ضرور خیال آتا ، سماج کے سر بر آوردہ افراد بڑے بڑے مسائل مل بیٹھ کر حل کر لیتے ، بڑی بڑی نا چاقیاں گاؤں کی میٹنگوں میں ختم کر لی جاتیں ، خاندانی جھگڑے بھی یہیں نمٹا لیے جاتے ، لین دین کے قضیے بھی یہیں حل کر لیے جاتے ، تھانہ پولیس تک معاملہ پہنچنا پورے گاؤں کے لیے باعث عار سمجھا جاتا ،اور اگر کوئی حماقت کر کے تھا نہ پہنچ بھی جاتا تو تھانے سے اسے سماج میں بھیج دیاجاتا، سماج میں مسئلہ حل نہ ہوپانے کی صورت میں مقدمہ درج ہو تا،یعنی سماج حاوی تھا اورسماجی بائیکاٹ کا قانون پوری طرح موثر تھا۔

لیکن اب گاؤں کے وہ سارے اقدار وروایات قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں ، صاف وشفاف دل اب کدورتوں سے بھر چکے ہیں، گاؤں کی سادگی و سادہ دلی اب عیاری اور مکاری میں بد ل چکی ہے ، بلکہ وہ اس معاملے اہل شہر کو کئی قدم پیچھے چھوڑ چکے ہیں ،بغض وحسد یہاں مکمل عروج پرہے، ناچاقی اور نا اتفاقی کا بول بالا ہے، بات بات پر لڑنا جھگڑنا اور خون خرابہ کر نا ان کا شیوہ بن گیا ہے، اب گاؤں میں صلح کرانے والے لوگ کم اور آگ لگانے والے زیادہ ہیں ، چھوٹوں نےبڑوں کو دقیانوس اور فرسودہ خیالات کا حامل سمجھ کر ان کی باتوں پر عمل کر نا چھوڑ دیا ہے ،سماجی دباؤ کا پوری طرح خاتمہ ہو چکا ہے ،اب ہر شخص اپنے آپ کو آزادسمجھتا ہے ، حالاں کہ ان کے اندر نہ دین کا شعور ہے اور نہ دنیا سے آگاہی ،سماج کے بکھر نے کا سب سے بڑا اور بُرا اثر یہ ہواہے کہ تھانہ ، پولیس کے معاملات ومقدمات میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات جو گھریلو سطح پر نمٹائے جا سکتے تھے وہ اب پولیس اسٹیشن پہنچنے لگے ہیں ،پولیس کے دونوں ہاتھ میں لڈو ہے ،مدعی اور مدعیٰ علیہ دونوں سے خاصی رشوت اینٹھی جاتی ہے ، اس طرح دونوں خاندان تباہی کا شکار ہوتے ہیں۔

ماحول اس قدر مکدر ہے کہ اس میں شریف لوگوں کے لیےاپنی عزت وآبرو کی حفاظت مشکل ہے ، اچھے اچھوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں ،عزت و آبرو سرعام نیلام ہو رہی ہے ، پہلے لوگ شہروں کی ناہموار فضا سے عاجز ہو کر دیہات کی خوش گوار زندگی کو یاد کیا کرتے تھے ، لیکن اب دیہات کی مکدر فضاسے بچنے کے لیے شہروں کا رُ خ کر نے پر مجبور ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کا ’’ کمال‘‘ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی سے زیادہ دوسروں کی زندگی میں دل چسپی لیتے ہیں ، ان سے اپنے گھر کے مسائل حل نہیں ہوتے ، لیکن پڑوسی کے مسائل پر روزانہ’’ اظہار خیال ‘‘ ضرور فرماتے ہیں ،ان سے اپنے بچے نہیں سنبھلتے لیکن پڑوسی کے بچوں کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں، وہ محنت ومشقت کر کے اپنے مکان کی مرمت نہیں کرسکتے لیکن وہ پڑوسی کی عالی شان بلڈنگ کے رنگ وروغن پر ہو نے والے اخراجات اور ان کے ذرائع آمدپر ضرور سر کھپا تےہیں ،بلفظ دیگر انہیں اپنے مصائب سے زیادہ دوسروں کی خوشیوں سے تکلیف ہے ، گاؤں کا کوئی جوان پڑھ لکھ کر کسی اچھے عہدے پر فائز ہو جائے یا محنت ومشقت کر کے اچھا مکان بنالے تو گاؤں کے حاسدین انکم ٹیکس آفیسراوراکاؤنٹینٹ کے فرائض انجام دینے لگتے ہیں،اور اس کے آمدات واخراجات کا ایسا حساب رکھتے ہیں کہ انکم ٹیکس کا محکمہ بھی انگشت بدنداں رہ جائے ، بعض بے غیرت اس کو رسوا کر نے کے لیے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑجاتے ہیں،بسا اوقات تو ان کی جان کے بھی لالے پڑجاتے ہیں، کسی کی بچی کا عمدہ رشتہ آجائے تو حسد کے مارے کچھ سر پھرے کئی پشتوں کا شجرۂ نسب اورخامیوں کی پوٹلی لے کر لڑ کے والے کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور جب تک رشتہ ٹوٹ نہیں جاتا، چین سے نہیں بیٹھتے ،کسی سے جھگڑا ہو گیا تو عورتیں فُل ساونڈ میں دن بھر پورے خاندان کو ایسی مغلظات بکتی ہیں کہ اللہ کی پناہ ، بکھان شروع ہوتا ہے تو مکمل تسلسل کے ساتھ کئی پشتوں کے’’ کار نامے ‘‘ پوری روانی اور مہارت کے ساتھ بیان کر جاتی ہیں ۔ خر بوزے کو دیکھ کر خر بوزہ رنگ پکڑ نے کا محاورہ گاؤں کے جھگڑوں پر پوری طرح صادق آتا ہے،ایک چھوٹی سی بات پر دولوگوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ جھگڑا خاندان ، قبیلہ اور پھر محلہ کا جھگڑا بن جاتا ہے ، بے کار بیٹھے لوگ بھی اس میں شریک ہو کر اپنا ’’ٹائم پاس‘‘ کرتے ہیں،بھیڑ جمع ہوتی ہے اور پھر جلتی پر گھی ڈالنے کا کام شروع ہوتاہے،تماش بیں مکمل طور پر لطف اندوز ہو تے ہیں ، بے چارے شریف اور بے قصور لوگ بھی اس میں گھسیٹ لیے جاتے ہیں ،دونوں طرف کی ٹیمیں پوری چستی کے ساتھ میدان میں اتر جاتی ہیں اور پھر منظر قابل دید ہو تا ہے ۔۔۔۔۔ہاں ! یہ مناظر میں نے لاک ڈاؤن میں دیکھے ہیں۔

ان ساری چیزوں کو موضوع بحث بنانے مقصدیہ ہے کہ آخر گاؤں کی خوش گوار فضائیں اس مکدر کیوں ہو گئی ہیں، جہاں کی سادگی می مثالیں پیش کی جاتی تھیں ،جہاں مکروفریب کا دور دور تک گزر نہیں تھا، جہاں کا چین وسکون، جہاں کی شادابی وہر یالی اہل شہر کے لیے باعث رشک ہو تی تھی،وہ آج کیوں تکدر کا باعث بنی ہوئی ہیں ، ضروری ہے کہ اس کے اسباب وعلاج پر غور کیا جائے اور اصلاح وموعظت کے ذریعہ گاؤں کی عظمت رفتہ کی بحالی کی کوشش کی جائے ۔

اس تبدیلی کے متعدد اسباب وعوامل ہو سکتے ہیں ، ہم یہاں اختصار کے پیش نظر چند باتیں ذکر کرتے ہیں ۔

تعلیم کا فقدان:
ایک عمدہ اور پُر امن معاشرے کی تشکیل کے لیے سماج کے افراد کا تعلیم یافتہ ہو نا ضروری ہے ، کیوں کہ جہالت ایک ایسی بیماری ہے جس کے کوکھ سے بے شمارایسے جراثیم جنم لیتے ہیں ،جو سماج ومعاشرے کی تباہی وبربادی کا سبب ہوتے ہیں ، مسلم طبقے میں تعلیم کی کمی ہر جگہ ہے ، خواہ وہ شہری علاقہ ہو یا دیہی علاقہ ، لیکن شہری علاقوں میں اس سلسلے میں پہلے کے مقابلے میں کافی بیداری آئی ہے ، شہر والوں کو اس بات کا بہت حد تک احساس ہو چکا ہے کہ تعلیم کے بغیر ہمارے بچے آگے نہیں بڑھ سکتے ،بلکہ سماج میں باعزت زندگی گزار نے کے لیے تعلیم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے ،لیکن یہ شعور دیہی علاقوں میں اب بھی پروان نہیں چڑھ سکا ہے، ایک زمانے تک تو والدین اپنے بچوں کو اسکول یا مدرسہ بھیجنا ضروری ہی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ کسی طرح انہیں پال پوس کر کھیتی کے کاموں میں لگا دینے کو ہی کام یابی سمجھتے تھے، اب دیہی علاقوں میں کچھ حد تک حالات بد لے ہیں ، لیکن بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جو فکر مندی والدین اور سر پرستوں کے اندر ہونی چاہیے وہ اکثر کے یہاں مفقود ہے ، بچے اسکول اور مدرسہ جاتے ہیں اور واپس آجاتے ہیں ، کیا پڑھا ، کیا لکھا ، کیا ہوم ورک ملا، اس سے والدین کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہو تا ، بچوں کی کار کردگی کا جائزہ لینا وہ اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے ، نہ ہی ان کے پاس اس کام کے لیے وقت ہو تا ہے،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دس بارہ سال تک اسکول کالج جانے کے بعد بھی جہالت نہیں جاتی اور نہ ہی پڑھے لکھے انسانوں والے اوصاف اس کے اندر پیدا ہوپاتے ہیں۔

یہ دیہات کے ان جوانوں کا حال ہےجنھوں نے خواہی نخواہی اسکول کا منھ دیکھا اوراسکول آنے جانے میں اپنی زندگی کا ایک قیمتی حصہ صرف کیا ، ہمارے سماج میں ایسے جوانوں کی تعدا دس بارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہے،باقی نوے فیصد نوجوان وہ ہیں جنہیں اسکول اور مدرسے تک جانا نصیب ہی نہیں ہو تا ، وہ جہالت کے اندھیرے میں مکمل طور بھٹک رہے ہوتے ہیں ، ان کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے ، ان کی سوچ بہت محدود ہوتی ہے،ان کے اندر انسانی اوصاف کم پائے جاتے ہیں ، وحشی پن زیادہ ہو تا ہے،جوانوں کا یہ طبقہ خاص طور سے پورے سماج کی زندگی جہنم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، نہ وہ خود چین سے رہتے ہیں اور نہ دوسروں کو باعزت اور باوقارزندگی گزارنے دیتے ہیں ، ایسے ہی لوگ سماج کے لیے ناسور اور معاشرے کے پُر امن فضا کو مکدر کر نے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی اور تعلیم کا معیار بلند نہیں ہوگا ، دیہات میں بسنے والے لوگوں کو ان مسائل سے نجات نہیں ملے گی ۔

بے کاری و بے روزگاری:
دیہی علاقوں میں زندگی گزار نے والوں کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ روزگار کا ہے ، یہاں روزگار کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں ،اسی لیے بے کاری اور بے روزگاری عام ہے، ہمارے علاقے میں خاص طور سے روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں ، پورے اتر دیناج پور میں کوئی بڑی فیکٹری یا کوئی بڑی منڈی نہیں ہے، جہاں مزدوروں کی وافر مقدار میں کھپت ہو، اکثر لوگوں کا ذریعہ ٔمعاش کھیتی باڑی ہے ، جن کے پاس کھیتی نہیں ہے وہ ان کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں ، سرکاری ملازمتوں میں یہاں کے لوگوں کی حصے داری ۲؍ فیصد بھی نہیں ہے، ایسے میں ان لوگوں کا بیکار بیٹھنا اور معاشی تنگی کا شکاررہنا لازمی امر ہے ، جوانوں کا ایک طبقہ ملک کے مختلف گوشوں میں محنت ومزدوری کرکے اپنے اور اپنے بال بچوں کی روزی روٹی کا انتظام کرتا ہے ، لیکن اس طبقے میں بھی مستقل مزاجی نہیں ہے ، دوتین مہینہ کہیں پر کام کر کے دس بیس ہزار کما لیا تو گھر کی یاد ستانے لگتی ہے ، اور گھر آکر جب تک پوری پونجی ختم نہیں کر لیتے دوبارہ کام پر جانے کے لیے کسی طور پر تیار نہیں ہوتے ، ظاہر ہے ایسے جوانوں کا شمار بھی بے کار لوگوں کی فہرست ہی میں ہوگا، اب ان بیکار لوگوں کی بھیڑ دیہاتوں میں اکٹھی ہو تی ہے ، جگہ جگہ ان کی نشستیں ہوتی ہیں ، ان نشستوں میں فضول باتیں ، نازیبا تبصرے ، ہنسی مذاق ، ٹھٹھا اور مسخرہ کا دور چلتا ہے ، پھر یہیں جھگڑوں کے بیج بوئے جاتے ہیں ، پودا اگتا ہے اور ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر نے کے بعد اس میں آگ لگائی جاتی ہے ، جس کی تپش پورے گاؤں اور محلے کے چین وسکون کو خاکستر کر نے کے لیے کافی ہو تی ہے۔ ظاہر ہے جن کے پاس کر نے کا کوئی کام نہیں ،ان کے دماغ میں خرافاتی پلان ہی آئیں گے ، وہ دوسروں کی مصروف اور باوقار زندگی کو دیکھ کر حسد اور بغض کا شکار ہوں گے ، وہ کام یاب لوگوں کی کام یابی کو اپنے لیے نمونہ ٔ عمل بناکر کام یا بی کے راستے پر چلنے کی بجائے ان راستوں میں کانٹے بچھانے کی کوشش شروع کر دیں گے ، ایک تو تعلیم کی کمی اورجہالت کی فراوانی ، اس پر بُری صحبتیں، یعنی تباہی وبربادی کے سارے سامان مہیا ہیں ، ایسے ماحول میں ان سے خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔

بے کاری اور بے روزگاری کے سلسلے میں سارا قصور حکومت کے سر ڈالنے کی بجائے ہمیں بھی کچھ اپنی سطح پر سوچنا چاہیے، ہم نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دیکھا ہے کہ بہت سے جوانوں نے نہایت نامساعد حالات میں چھوٹے موٹے کام شروع کیے ، پھر ان چھوٹے موٹے کاموں نے بڑے کار وبار کی شکل اختیار کرلی ، آج وہ نوجوان اطمینان بخش اور خوش گوار زندگی گزاررہے ہیں، ہمارے علاقے کے نوجوان چھوٹے کار وبار سے شر ماتے ہیں ، شروع سے وہ بڑاتاجر بننا چاہتے ہیں ،چھوٹی موٹی تجارت کو وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ، ایسے لوگ زندگی کے کسی مر حلے میں کام یاب نہیں ہو سکتے ، ہر کام کے کئی مرحلے ہوتے ہیں، جو مرحلہ وار ہی انجام کو پہنچتے ہیں،چند دنوں میں کوئی تاجر بڑا سرمایہ کار نہیں بن جاتا ، اس کے لیے کئی مشقت آمیز مر حلوں سے گزرنے ہوتے ہیں ،بغیر محنت ومشقت کے ترقی کا خواب کبھی شر مندۂ تعبیر نہیں ہو تا ۔لہذا ہمیں اپنے نوجوانوں کو بے کاری سے بچانے کے لیے بھی ذہن سازی کرنی ہوگی ، انہیں تجارت اور رزق حلال کے فوائد سے آگاہ کر ناہوگا، نماز روزہ ، حج ، زکات کی تلقین کے ساتھ انہیں ایک بہتر سماجی ومعاشرتی انسان بنانے کے لیے بھی کوششیں کرنی ہوں گی ،جبھی ہم صحیح معنوں میں رہنما کہے جانے کے مستحق ہوں گے۔

اخلاقی بحران:
اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے۔ امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کمزورپڑتی جارہی ہیں۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے مزاج میں داخل ہوچکے ہیں، یہ بیماری ہرشہر ہر گاؤں اور ہر خطے کے لوگوں میں پائی جاتی ہے ، دیہی علاقوں میں خاص طور سے اخلاقی بحران عروج پر ہے، حق تلفی اور ظلم وجبر کا دور دورہ ہے ، جس کی لاٹھی اسی کی بھینس ہے،جس خاندان میں ہٹے ہٹے کٹے کئی جوان ہیں ، ان سے کوئی منھ نہیں لگا سکتا، لیکن آپ کو ان کا ہر ظلم سہنا ہے ، ان کی ہر زیادتی برداشت کرنی ہے ، ان کے جانور آپ کی کھیتی چر لیں تو آپ اُف بھی نہیں کہہ سکتے ، ورنہ آپ کی ا چھی طرح ’’خاطر داری ‘‘ہو سکتی ہے ، گاؤں کے لوگوں کی امانت ودیانت کسی زمانے میں بہت مشہور تھی ، لیکن اب آپ اس زمانے کو بھول جائیں ، اب بڑی بڑی رقمیں بہت آسانی کے ساتھ ہضم کر جانے والے سورما کثیر تعداد میں آپ کو گاؤں دیہات میں بھی مل جائیں گے ، ز مین دبانے اور زمین کے حدود اربعہ میں توسیع فرمانے والے مرد جری بھی دستیاب ہو جائیں گے ،سچ اور جھوٹ کی ملمع سازی کے ماہرین بھی ان علاقوں میں خاصی تعداد میں مل جائیں گے ۔

گاؤں دیہات میں بغض وحسد کے جراثیم دن بہ دن پھیلتے جارہے ہیں ، جس کے نیتجے میں آئے دن بڑے بڑے حاد ثات رونما ہورہے ہیں ، گولیاں چلتی ہیں ، مرڈر ہوتا ہے، جان لیوا حملے ہو تے ہیں ۔ گاؤں کا سماجی ومعاشرتی ڈھانچہ کچھ ایسا ہو تا ہے کہ ہر فر د دوسرے کے تمام ایکٹیویٹیز [[Activitiesسے آگاہ ہو تا ہے ، یہاں خفیہ طور پر بننے والے منصوبے بھی عام لوگوں کی نگاہ سے نہیں بچ پاتے ، گاؤں میں اگر کسی کے گھر معمولی سی کہا سنی ہو گئی ، بھائیوں میں معمولی سی ناچاقی ہو گئی تو یہ اس دن کے لیے پورے گاؤں کا موضوع بحث بن جاتا ہے ، دشمنوں کو دشمنی نکالنے اور حاسدین کو حسد نکالنے کا بھر پور موقع فراہم ہو جاتا ہے ، یعنی گاؤں کی زندگی میں کسی کی پرائیویسی [Privacy] پرائیویسی نہیں رہ جاتی ، کوئی کسی کی بھی ذاتی زندگی میں بہت آسانی سے جھانک لیتا ہے ، آپ کے آرام وآسائش اور آپ کے آلام ومصائب کسی سے چھپ نہیں سکتے ، سامان عیش وعشرت اور اسباب آرام وآسائش کو دیکھ کر حسد کا عنصر مزید بڑھ جاتا ہے ، جب کہ پریشانیوں کو دیکھ کر آپ کا مذاق اڑانا، آپ کے معاندین کے لیے آسان ہو جاتا ہے ، غرض کہ آپ کسی طرح ان کی مضرتوں سے محفوظ نہیں ہیں ۔

در اصل یہاں تعلیم کا زبردست فقدان ہے ، تر بیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، لہذا اخلاقی سطح پر بد حال ہو نا لازمی امرہے ، ان علاقوں میں کام کر نے اور ان حالات سے نجات پانے کے لیے ہمیں پہلے تعلیمی حالات درست کر نے ہوں گے ،اولاد کی اسلامی تربیت کے طریقوں سے والدین کو آگاہ کرناہوگا، پھر اسلام کی اخلاقی تعلیمات اور سرکار دوعالم کے اخلاق حسنہ کے نمونے پیش کر نے ہوں گے ، یہ سارے کام زمینی سطح پر کر نے کے ہیں ، اور انقلاب برپا کر نے کے لیے بر سہا برس کی ضرورت ہے، فوری طور پر ایک بگڑی ہوئی قوم کے مزاج کو بدل دینا ممکن نہیں ہے ۔

خواتین میں تعلیم وتربیت کی کمی:
گاؤں کی زندگی سے چین وسکون غارت کر نے میں سماج کی بے لگام اور بے پر دہ جاہل خواتین کا اہم کردار ہے ، اکثر مسائل یہیں سے شروع ہوتے ہیں ، رائی کو پہاڑ بناکر اپنے گھر کے مردوں کی غیرت وحمیت کو جوش دلانے میں انہیں مہارت ہوتی ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں کو عالمی مسائل کی شکل میں پیش کر کے جھگڑوں کو ہوادینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، ایسی خواتین اگر ہفتے میں ایک دو جھگڑا نہ کر لیں تو انہیں زندگی اجیرن اور بے مقصد محسوس ہو نے لگتی ہے ، وہ کسی نہ کسی بہانے اپنے ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کر ہی لیتی ہیں ، خود جھگڑا آر گنائز نہیں کر پاتیں تو دوسروں کے جھگڑوں میں بھی شامل ہو نے میں عار محسوس نہیں کرتیں ، شمولیت کے لیے خاص وجہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ، دور کا بھی کوئی تعلق مل جائے تو پورے آن بان شان کے ساتھ کمان سنبھال لیتی ہیں ، حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ دن بھر تسلسل کے ساتھ چیخنے چلانے کے بعد بھی ذرا سی تکان محسوس نہیں کرتیں ، بسا اوقات موسم ساتھ نہ دے تو دوسرے دن پھنسی ہو ئی آواز کے ساتھ جھگڑے کی دوسری قسط وہیں سے شروع کرتی ہیں جہاں کل ختم کیا تھا ، میں نےکئی قسط وار جھگڑے بھی دیکھے ہیں ، صرف دوعورتیں جھگڑرہی ہوں تو انہیں جھگڑا کام یاب محسوس نہیں ہوتا ، لہذاچند منٹوں میں بڑی مہارت کے ساتھ کئی کئی خواتین کو اپنے ساتھ کر لیتی ہیں ، ان جھگڑوں سے نہ صرف ایک خاندان بے چین ہو تا ہے بلکہ پورے محلے والوں کی زندگی جہنم بن جاتی ہے ۔

بہتر سماج ومعاشرے کی تشکیل میں خواتین کا جو اہم کر دار ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ،حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے ماں ہو یابہن،بیوی ہو یا بیٹی ہر روپ میں وہ قدرت کا انمول تحفہ ہے جس کے بغیر کائناتِ انسانی کی ہرشے بے رونق ہے،عورت اپنی ذات میں ایک تناوردرخت کی ما نند ہے جو ہر قسم کے سردوگرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے ، لیکن یہ ان عورتوں کے اوصاف ہیں جنہوں نے علم کی روشنی حاصل کی ، عمدہ تر بیت کے زیور سے آراستہ ہو ئی ، اپنے علم کی روشنی میں اپنا دائزہ ٔ کار سمجھا ، زندگی گزار نے کے اسلامی طریقوں سے آشنا ہو ئی ، اپنے اہل خانہ کے حقوق وآدب سے واقفیت حاصل کی ،لیکن افسوس یہ ہے ہمارے علاقے کی عورتوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیم وتر بیت سے دور ہے ، ہمارے سماج میں کبھی بھی ان کی خاطر خواہ تعلیم کے لیے سنجیدگی نہیں دکھائی گئی ، نہ ہی ان کی اسلامی تر بیت پر خصوصی توجہ دی گئی ، بچیوں کی تھوڑی تعداد اسکول کالج جاتی بھی ہے تو اس کے اندر وہ شعور نہیں پیدا ہو پاتا جو ایک تعلیم یا فتہ خاتون کے اندر ہو نا چاہیے ، مدارس میں اب تک ان کی تعلیم کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا ، اب مختلف علاقوں میں ان کی تعلیم کے لیے بھی ادارے کھل رہے ہیں ، ان اداروں میں اگر ان کی تعلیم وتر بیت پر خصوصی توجہ دی گئی تو حالات کسی قدر بد ل سکتے ہیں ور نہ اگر یہ ادارے بھی انہیں اسکولوں یا عام مدرسوں کی طرز پر چل پڑے تو کوئی خاص نتیجہ بر آمد نہیں ہو گا۔

گاؤں کے بدلتے اقدار وروایات کے حوالے سے میری اس گفتگو میں جو بھی حالات بیان کیے گئے ہیں وہ عام حالات ہیں ،ورنہ یہاں بہت سارے افراد اور خاندان ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان نامساعد حالات میں بھی اپنی سادگی و وضع داری ، اخلاص ونیک نیتی، ہمدردی وروادی اور اپنا عظمت ووقار محفوظ رکھا ہے ، اور آج بھی ان کے یہاں وہی پرانی روش اور روایتیں باقی ہیں جو کبھی دیہات کے عام لوگوں کی شان سمجھی جاتی تھیں ۔

میں اپنی بات ’’دی کاؤنسل فار پروٹیکشن آف رورل انگلینڈ‘‘ کی اس رپورٹ پر ختم کرتا ہوں کہ:
’’گاؤں کا کردار چھن جانا بہت بڑا المیہ ہے کیوں کہ یہی کردار شناخت تھا اور یہی شناخت سرمایہ تھی۔ یہ سماج کا ایسا نقصان ہے جس کی سنگینی کو ناپا تولا نہیں جاسکتا ،دیہی عوام کو شہروں سے اُنسیت تھی جو کوئی گناہ نہیں تھا، وہاں روزگار کے مواقع دیکھے تھے، یہ بھی کوئی جرم نہیں تھا، وہاں کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں کشش محسوس کی تھی اور یہ بھی کوئی نقص نہیں تھا۔ خطا صرف یہ ہوئی کہ دیہی عوام نے گاؤں، اس کے کلچر اور کردار کو محفوظ نہیں رکھا جو اُن کی ذمہ داری تھی۔‘‘[رونامہ انقلاب، فیچرس، ۱۲؍ مئی ۲۰۱۹ء]

•••


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد ساجدرضا مصباحی

Read More Articles by محمد ساجدرضا مصباحی: 39 Articles with 21948 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2020 Views: 150

Comments

آپ کی رائے