ایمان کی کمزوری

(AMNA KHAN, KARACHI)

محبوب آپ کے قدموں میں، کاروبار میں کامیابی ،اولاد کی خوشی ،پسند کی شادی ،بیماریوں سے نجات کے لیے ہم سے رابطہ کریں ۔اس طرح کے اشتہار ہمیں شہر کی ہر دوسری دیوار پر آویزاں نظر آتے ہیں اور یہ ہی ان بنیادی عوامل میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی توجہ ان جعلی عاملوں اور پیروں کی جانب مبذول ہوتی ہے جو چند پیسوں کی خاطر لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے ایمان کو کمزور بناتے ہیں ۔

یہ جعلساز لٹیرے سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنی جان ،عزت ، اپنا مال اور ایمان گواہ بیٹھتے ہیں ۔آئے دن ان جعلی پیروں اور عاملوں کی وجہ سے لوگ اور ان کے ایمان متاثر ہوتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ اس توہم پرستی سے باز نہیں آتے ۔

ویسے ہی ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں سے گھیرا ہوا ہے ایسے میں ان جعلی عاملوں اور پیروں کی تعداد میں اضافہ یقیناً ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ کا باعث ہے اور ساتھ ہی ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرے کا سبب ہے ۔ہمارے معاشرے سے صحیح اور غلط کی تمیز تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔لوگ اس بات کو بھول بیٹھے ہیں کہ ہمارا دین اسلام کس بات کی اجازت دیتا ہے اور کس بات کی ممانعت فرماتا ہے ۔یہ مذہب فروش اپنے مفاد کے خاطر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔شہری علاقوں کی بہ نسبت دیہی علاقوں میں یہ مافیا زیادہ سرگرم دکھائی دیتا ہے ۔

دینے والی ذات صرف اور صرف میرے خدا کی ہے بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔وہ کن کہتا ہے اور تقدیریں بدل جاتی ہیں ۔جو بھی مانگنا ہے اللہ تعالی سے سچی نیت اور خلوص سے مانگیں ۔رو کر گڑگڑا کر اور بڑے لاڈ کے ساتھ مانگیں پھر دیکھیں وہ خدا کیسے وسیلہ بناتا ہے ۔

میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ان جعلی عاملوں اور پیروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور ساتھ ہی میری عوام سے بھی التجا ہے کہ خدارا ان ضمیر فروشوں ایک چکروں میں پڑھ کر اپنے ایمان کو خطرے میں نہ ڈالیں ۔اللہ تعالی ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AMNA KHAN

Read More Articles by AMNA KHAN: 5 Articles with 1250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2020 Views: 165

Comments

آپ کی رائے