دریا ثقافت اور زندگی کی علامت

(Zubair Bashir, Beijing China)
دریائے زرد چین میں دریاؤں کی ماں کہلاتا ہے ۔ اسے چینی تہذیب کا پنگھوڑا بھی سمجھا جاتا ہے یعنی چینی تہذیب نے اس دریاکے کناروں پر جنم لیا ہے اور یہیں اس تہذیب کی پرورش ہوئی۔ یہ دریا چین میں سینکڑوں میل کے علاقے میں پھیلے ہزاروں سے کروڑوں جانداروں میں زندگی بانٹتا ہے۔چین کے لوگ اس قدرتی دولت اور اپنے ثقافتی ورثے پر فخر کرتے ہیں۔

پانی انسانی حیات اور زرعی معیشت کے لئے ناگزیر ہے

چین کے صدر مملکت شی جن نے ہمیشہ قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ قدرتی وسائل کی اہمیت کو اجاگر کرنے لئے انہوں نے"صاف دریا چاندی کے دریا اور سرسبز پہاڑ سونے کے پہاڑ" کا تصور پیش کیا۔وہ ہمیشہ قدرتی وسائل کی حفاظت اور ترقی پر زور دیتے ہیں۔ پیر کے روزدریائے زرد کے آبی وسائل کے انتہائی اور مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے زرد کے طاس میں ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قدرتی قوانین کا احترام کرنا اور مقامی حالات کے مطابق اہداف طے کرکے اقدامات اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ دریائے زرد کے ماحول کو بہتر بنائیں، آبی وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار کو بہتر بنائیں ، پورے طاس کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو یقنی بنائیں ، لوگوں کی زندگیاں بہتر بنائیں اور دریائے زرد ثقافتی ترقی کو فروغ دیں۔

دریائے زرد کا طاس چین کی معاشی اور معاشرتی ترقی اور ماحولیاتی سلامتی میں بہت اہم مقام رکھتا ہے۔

دریائے زرد
5464 کلومیٹر طویل چین کا دوسرا بڑا دریا ہے یہ 9 صوبوں اور خطوں کو سیراب کرتا ہے۔ دریائے زرد کے طاس کی آبادی سال 2018 کے اختتام تک 420 ملین تھی جو چین کی کل آبادی کا 30.3 فیصد بنتا ہے۔ اس خطے کا جی ڈی پی 23.9 ٹریلین یوآن ہے جو ملکی جی ڈی پی کا 26.5 فیصد بنتا ہے۔دریائے زرد اور اس کے طاس کا علاقہ چین میں قدرتی ماحول کے تحفظ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ اس کا طاس چین کا اہم اقتصادی علاقہ ہے۔ غربت کے خلاف جنگ جیتنے میں اس علاقے کا مرکزی کردار ہے۔

آبی وسائل کا درست تحفظ اور انتظام انسانی حیات اور زرعی معیشت کے لئے ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک دنیا کی دو تہائی آبادی پانی کی کمی کا شکار ہو گی، سال 2030 تک پانی کی کمی کے باعث 70 کروڑ افراد ہجرت پر مجبور ہو جائیں گے۔ نوے فیصد قدرتی آفات کا تعلق پانی سے ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں 80 فیصد بیماریاں پانی سے متعلق ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں 50 فیصد پانی زمین میں سرایت کر کے ضائع ہو جاتا ہے۔

چینی حکومت اور قائدین کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ قدرتی وسائل کسی بھی قوم کی ترقی کی قوت حیات ہیں لہذا قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے، چینی کمیونسٹ پارٹی اور ملک نے دریائے زرد کے انتظام اور ترقی کو بہت اہمیت دی اور اس کو قومی ایجنڈے میں ایک اہم موضوع کے طور پر شامل کیا۔ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی مضبوط قیادت میں ، دریائے ذرد کے کناروں کے تحفظ کے لئے فوج سمیت ملک کے تمام اداروں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس راہ میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد سے ، پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کی مجموعی صورتحال پر توجہ مرکوز کی اور پانی کی بچت کو ترجیح دی۔ دریائے زرد کے طاس کے علاقے کی معاشی اور معاشرتی ترقی سے لوگوں کی زندگیوں میں مختلف قسم کی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔

تاہم چینی حکومت کو اس بات کا ادراک بھی ہے کہ دریائے زرد کی طاقت سیلابوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔ لہذا چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے دریائے زرد کے طاس کے تحفظ کے لئے پانچ نکاتی رہنمائی فراہم کی جس کے مطابق پہلا کام دریارئے زرد کے ماحول اور ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے۔ دوسرا ، دریائے زرد کے طویل مدتی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ تیسرا ، آبی وسائل کے تحفظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیا جائے، چوتھا ، دریائے زرد کے طاس کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیا جائے اور پانچواں دریائے زرد کی ثقافت کی حفاظت کی جائے اور اس ورثے کی آیندہ نسلوں تک منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

اس وقت دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی، خشک سالی، بنجر پن، اچانک بارشوں،نباتاتی تنوع میں کمی اور بعض جانداروں کی نسل کے خاتمے جیسے سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل کے حل کے لئے پوری انسانیت کا باہم متحدہ ہونا ضروری ہے۔ قدرتی وسائل بنی نوع انسانی کو ورثے میں ملنے والی مشترکہ دولت ہیں۔ ان کی قدر کرنے ، ان میں مزید اضافہ کرنے اور ان کو باحفاظت آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے ہمیں اپنی پوری طاقت سے کام کرنا ہوگا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zubair Bashir

Read More Articles by Zubair Bashir: 33 Articles with 9022 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Sep, 2020 Views: 207

Comments

آپ کی رائے