نصاب تعلیم اور این جی اوز کا ایجنڈہ

(Umer Farooq, )

حکومت نصاب تعلیم درست کرنے میں مصروف ہے اﷲ کرے کہ اس سے خیربرآمدہوورنہ موجودہ حکومت نے جس چیزمیں بھی ہاتھ ڈالاہے اس کانتیجہ الٹ ہی نکلاہے ،نصاب تعلیم کی درستگی کانعرہ صرف موجودہ حکومت کاایجنڈہ نہیں بلکہ ڈالرخوراین جی اوزبھی اس،، کارخیر،،میں وقتافوقتااپناحصہ ڈالتی رہتی ہیں، اب دیکھنایہ ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کی آڑمیں ہمارے نصاب کے ساتھ کیاکھلواڑہوتاہے حکومت نصاب کی اصلاح کرتی ہے یامزیدفسادبرپاہوتاہے پردہ اٹھنے کی منتظرہے نگاہ ۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے جہاں ایک طرف پوری دنیامیں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کی وہاں نظریاتی اورفکری یلغارکے لیے سینکڑوں این جی اوزکوبھی میدان میں اتاراجنھوں نے مختلف محاذوں پرکام کیا ان کانشانہ زیادہ ترہمارا نصاب تعلیم تھا ان این جی اوزنے گزشتہ چندسالوں میں ہمارے نصاب تعلیم کوجس طرح ہدف بنایاہے اس کااندازہ ان کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس سے ہوسکتاہے اوراس کانتیجہ یہ ہے کہ ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ راے منظور ناصر چیخ چیخ کربتارہے ہیں کہ آپ کے نصابی کتب میں کیاکیادراندازی کی گئی ہے مگرکوئی ٹس سے مس نہیں ہورہاالٹارائے منظورکوراتوں رات عہدے سے ہٹادیاجاتاہے مگرکوئی ان کے حق میں آوازنہیں اٹھاتا۔

ان ہی این جی اوزؒمیں پیس اینڈایجوکیشن نامی تنظیم بھی تھی جس نے کمال مہارت سے ہمارے نچلے لیول کے چندعلماء اورنام نہادسکالرزکورام کیا اور تعلیم وامن کے حوالے سے اپنی رپورٹس تیارکیں اس این جی اونے پاکستان میں اردومیں جوسفارشات سامنے لائیں ان میں ہ مذہبی ہم آہنگی ،مفاہمت ،تحمل ،برداشت جیسے خوبصورت پیرائے میں قوم کورام کرنے کی کوشش کی مگرامریکہ میں جاکرانگریزی زبان میں ؒجورپورٹس حکومت کوبھیجیں تواس میں انہوں نے ہمارے نصاب تعلیم کو ایک خوفناک شکل بناکرپیش کیاہے اوراس نصاب تعلیم کوبدلنے کی نہایت بھیانک تجاویزبھی دی ہیں ،اس تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹراظہرحسین نے ملک میں لادینیت اورالحادپھیلانے کی مذموم کوشش کی ،ہمارے نصاب تعلیم پرایک ایساڈرون حملہ کیا کہ درسی کتابوں کاحلیہ ہی بگاڑدیاگیا ۔

ڈاکٹراظہرحسین فسادبرپاکرکے واپس امریکہ چلے گئے ہیں تاکہ وہاں وہ مسلمانوں اورپاکستان کے خلاف نیاایجنڈہ مرتب کرسکیں البتہ پیس اینڈایجوکیشن نے نصاب تعلیم کے حوالے سے جومذموم شروع کی تھی موجودہ حکومت اسی کوآگے بڑھارہی ہے اورجن شخصیات نے اس تنظیم کے ساتھ مل کرکام کیا انہیں بھی نوازاجارہاہے جولوگ اس تنظیم کی رپورٹس پرآنکھیں بندکرکے مہرتصدیق ثبت کرتے رہے ان میں سے چارلوگوں کواس صلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کاممبربنایاگیا ایک شخصیت کو موجودہ حکومت میں وزارت مل گئی ایک ایم این اے اورایک قومی اقلیتی کمیشن کے ممبربننے میں کامیاب ہوئے باقی چندلوگوں کوامریکہ کی سیراورچندچھوٹے چھوٹے پروجیکٹ عطاکردیئے گئے ،کچھ سوشل میڈیاپراسلام ،مسلمانوں اورپاکستان کے خلاف نفرت انگیزمہم چلاکرابھی بھی نمک حلالی میں مصروف ہیں ۔

اسی طرح کی ایک اورتنظیم قومی کمیشن برائے امن وانصاف بھی ہمارے نصاب تعلیم کے حوالے سے پریشان رہتی ہیں ان دونوں تنظیموں کی 2015/16کی رپورٹس اورایم ڈی پنچاب ٹیکسٹ بورڈ رائے منظورکاایک انٹرویومیرے سامنے ہے جس میں وہ بتارہے ہیں کہ کس طرح جان بوجھ کرہمارے نصاب تعلیم کونشانہ بنایاگیاہے ۔این جی اوزکی ان بے ہودہ سفارشات پرعمل کرتے ہوئے ہمارے پبلشرزنے جانتے بوجھتے ہوئے خوفناک تبدیلیاں کیں جوکہ ہمارے نظریات پرحملہ تھا آپ اندازہ لگائیں کہ صرف پنجاب کے سکولوں میں تقریبا 10ہزار کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جن کو شائع کرنے والے 31 پبلشرز ہیں جن میں آکسفورڈ اور کیمریج بھی شامل ہیں. یہ پبلشرز باقاعدہ حکومت سے NOC لے کر کتب پبلش کرتے ہیں،پنچاب ٹیکسٹ بورڈ نے ان دس ہزارمیں سے صرف پانچ سوکتابوں کوچیک کیا توایم ڈی بورڈ سوکتابوں کوبین کرنے پرمجبورہوگئے ابھی9500 کتابیں چیک ہونا باقی ہیں، لطف کی بات یہ کہ کسی نے بھی ایم ڈی کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جبکہ 100 میں سے 14 کتابیں صرف آکسفورڈ کی ہیں۔

ان کتابوں میں جوکچھ کیاگیااس کی صرف ایک جھلک دیکھنے سے ہی اندازہوتاہے کہ کتنی بھیانک واردات کی گئی ہے ، توہین ناموس رسالت، توہین صحابہ، قائد اعظم، علامہ محمد اقبال، سرسید احمد خان کے بارے غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ پاکستان کے صوبوں کی تعداد پانچ آزادکشمیر کو نقشے میں انڈیا کا حصہ اور آخری پاکستان کی مردم شماری کو 1998 بتایا گیا ہے جبکہ آخری مردم شماری 2017 میں ہوئی۔ .پاکستان کاغلط نقشہ چھاپاگیاتھا۔

قرآنی آیات کوغلط لکھا گیا تھا، سورہ الفاتحہ کا ترجمہ غلط، سورہ القریش کا ایک آیت کا ترجمہ ہے اگلی آیت کوچھوڑکراس سے اگلی آیت کاترجمہ ؒتحریرکیاگیاتھا،صحابہ کو لوٹنے والا ،عہدے کے لالچ میں اسلام قبول کرنے والا بتایا گیا ہے،احادیث مبارکہ کو غلط لکھا گیا ،اپنی طرف سے بنائی گئی حدیثوں کو شامل کیا گیا سیرت طیبہ کے 24 اسباق جن میں سے ایک خاتم النبیین والا سبق بھی سرے سے شامل ہی نہیں کیاگیا انبیا ء کے نام کے ساتھ حضرت اور علیہ السلام اور صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہ جیسے القابات کو بھی حذف کیا گیا تھا انگریزی کی ایک کتاب میں جو میٹرک کے طالب علموں اور طالبات کو پڑھائی جاتی تھی اس میں ایک سبق ہاسٹل کی زندگی کے متعلق ہے جس میں لڑکیوں کا رات کو بے لباس ہو کر دودو کا ایک بستر میں سونا اور 10 منٹ بعد لائیٹ کا بند ہونے کا ذکر کیا گیاتھا۔

قومی سلامتی کے خلاف مواد شامل تھا.قابل اعتراض غیر اخلاقی فحش مواد شامل تھا چھوٹے بچوں کو تعداد سکھانے کے لیے 1+2= 3 سور(خنزیر) کی تصویر دکھائی گئی ہے. مہینوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کرسمس ،نیو ائیرنائٹ ،ہیلووین ،اپریل فول جیسے تہواروں کے ساتھ واضح کیاگیاہے ،یہ خلاصہ ہے ان غلطیوں کاجوان کتابوں میں کی گئی ہیں آپ اندازہ لگائیں کہ ان کتابوں کو پڑھ کر کیسی نسل تیار ہوگی؟.یہی این جی اوزکامقصدہے کہ نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں کہ ایسے افرادتیارکیے جائیں جنھیں اسلام ،اسلاف اورپاکستان کے متعلق درست معلومات ہی نہ ہوں تاکہ وہ اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرسکیں ۔

ؒیہ تمام قابل اعتراض ا ن این جی اوزکی کارستانی ہے کہ جنھوں نے نظریہ پاکستان اوراسلام کے خلاف سفارشات تیارکرکے ان پبلشرزکوبھی بھیجیں بلکہ انہیں اس قسم کی لغویات درسی کتب میں شامل کرنے پرلالچ بھی دی ،ہمارانصاب اورنظام تعلیم پرائیویٹ اداروں اوران غیرسرکاری تنظیموں کے رحم وکرم پرہے اس سے پہلے بھی تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی ہے نظام تعلیم ممنوعہ شجر رہا ہے، کسی حکومت نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی، پرائمری سے لے کر اعلی تعلیم تک کا جنازہ نکل گیا ہے، ڈگریوں کی بے توقیری ہوچکی، امتحانات کی شفافیت نے دم توڑ دیا، کرپشن کے ناسور نے نظام تعلیم کو بھی نہیں بخشا،
ؒ
غیرملکی مافیاانتہائی طاقت ورہے این جی اوزکے ذریعے ہرحکومت کواپنے شکنجے میں پھنسالیتاہے ہرحکومت ایک نئے نعرے کے ساتھ پیس اینڈایجوکیشن نامی تنظیموں کے ایجنڈے کوآگے بڑھارہی ہوتی ہیں ،مدارس ان این جی اوزکاخصوصی ہدف ہیں دیکھنایہ ہے کہ موجودہ حکومت میں مدارس اپنی حریت کتنی حدتک برقرارکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں ؟موجودہ حکومت کی طرف سے یکساں قومی نصاب سے قبل اساتذہ کی تربیت کے لیے انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ کراچی (آغا خان یونیورسٹی)کا انتخاب کیا گیا ہے، اور دسمبر سے پہلے ملک بھر کے اساتذہ کی ٹریننگ کا عمل شروع ہو جائے گا۔اس سے بھی واضح ہورہاہے کہ حکومت کایہ اقدام کس کاایجنڈہ ہے ؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 89 Articles with 19288 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 90

Comments

آپ کی رائے