جمعہ نامہ : شریعت کی پابندی رحمت یا زحمت؟

(Dr Salim Khan, India)

انسانی آزادی کے ملحد علمبردارشریعت کو بوجھ سمجھتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ٹرافک کے قانون کو زحمت نہیں کہتا۔ دنیا کے ہر خطے میں ٹرافک کے اصول و ضابطے پائے جاتے ہیں اور لوگ چاہے نہ چاہے ان پر کاربند ہوتے ہیں ۔ وہ اس کی پابندی پر اعتراض نہیں کرتے اس لیے کہ انہیں پتہ ہے اگر دیگر گاڑی چلانے والے اس کی خلاف ورزی کرنے لگیں گے تو اس سے دونوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور حادثات رونما ہونے لگیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس پابندی کو زحمت کے بجائے رحمت سمجھا جاتا ہے۔ ہرکوئی یہ جانتا ہے کہ اس نظم و ضبط کا اصل فائدہ اس کو وضع کرنے والے یا نافذ کرنے کو نہیں بلکہ اس کی اپنی ذات کو پہنچتا ہے۔ ٹرافک کے قوانین کی افادیت ا ٓسان مثالوں کی مدد سے سمجھ میں آجاتی ہے ۔

مثلاً ایک قانون یہ ہے کہ گاڑی چلاتے وقت فون کو ہاتھ میں لے کر استعمال نہ کیا جائے۔ ایک ڈرائیور یہ سوچ سکتا ہے کہ گاڑی اس کی ہے۔ فون اس کا ہے اور بات کرنے کے لیے خرچ بھی وہی کرتا ہے اس لیے کسی اور کویہ بتانے کا حق کیوں ہوکہ وہ اسے کب اور کیسے استعمال کرے ؟ یعنی کب ایر فون لگائے اور کب نہ لگائے؟ اس فیصلے کا مکمل اختیار اسی کو ہونا چاہیے؟ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فون ہاتھ میں لے کر گاڑی چلاتے وقت بات کرنے سے ڈرائیور کی توجہ سڑک پرکم ہوجاتی ہے بلکہ پوری طرح ہٹ بھی جاتی ہے ۔ ایسے میں اگر وہ کسی اور گاڑی سے ٹکرا جائے تو اس دوسری گاڑی کو نقصان پہنچانے کا حق اس کو حاصل نہیں ہے۔ حادثے کے نتیجے میں سب سے پہلے تو دونوں وقت ضائع ہوگا مگر اسی کے ساتھ مالی نقصان بھی ہوتا ہے ۔ انسان کا اپنے وقت اور مال پر اختیار تو ہے لیکن دنیا کا کوئی قانون اس کو دوسروں کا وقت یا مال ضائع کرنے کا حق نہیں دیتا۔

حادثے کی صورت میں جسمانی نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ انسان اپنی پسند سے کسی اور کوتو دور خود کو زخمی کرنے کا حقدار نہیں ہے۔ وہ اگر خود زخمی ہوجائےتو اس کا خمیازہ اس کے اہل خانہ کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کا سرمایہ اور وقت اس کے علاج پر صرف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بیچارے نہ صرف نفسیاتی اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اضافی فکرمندی بھی انہیں لاحق ہوجاتی ہے۔ ہر کوئی پریشان ہوجاتا کیونکہ اس کی خیریت و عافیت گھر والوں کی بھی ضرورت ہے۔ وہ اس کو عزیز رکھتے ہیں ا ور زندہ و سلامت دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اس کی معذوری ان پر گراں گزرتی ہے۔ اس لیے کوئی کہے کہ میں سیٹ بیلٹ لگاوں یا نہ لگاوں میری مرضی تو یہ مناسب رویہ نہیں ہے ۔ کوئی بولےمیں رفتار کی پرواہ کروں یا کروں کوئی اور مجھے کیوں ٹوکے اور جرمانہ کیوں لگائے؟ یہ اس کی گمراہی و ہٹ دھرمی ہے کیونکہ سڑک کی حالت اور اس پرگاڑیوں کی تعداد کے پیش نظر حادثات کو روکنے کی خاطر یہ پابندی لگائی جاتی ہے ۔ اس لیے جو ان قوانین کو پامال کرتا ہے وہ اپنی خو دسری کے باعث خود اپنے اور دوسروں کے لیے مہلک خطرہ بن جاتا ہے۔

قانون شریعت کی پابندی کا بھی یہی معاملہ ہے انسان ایسا کرتے ہوئے خود اپنی ذات اور دیگرحضرات کے لیے مشکلات کھڑی کردیتا ہے۔ٹرافک کے قانون کی مانند شریعت الٰہی پر عمل کرکے انسان رب کائنات پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کا سامان کرتا ہے ۔ پابندِ شریعت اہل ایمان رضائے الٰہی کی خاطر بغیر کسی دباو کے بصد شوق حقوق العباد کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کابدلہ انسانوں سے نہیں اللہ سے چاہتے ہیں ۔اس طرح معاشرےکے ہر فرد کو بغیر کسی کشمکش کے بلااحسان اس کا حق مل جاتا ہے ۔اس کے برعکس جب شریعت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے تو حقوق کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ یہ لڑائی عدالت سے لے کر سڑک تک لڑی جاتی ہے اور اس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا بول بالہ ہوتا ہے۔ سڑک پر تو یہ اصول علی الاعلان کارفرما ہوتاہے لیکن عدالت میں بھی دولت کی مدد سے بڑے بڑے وکلاء کی خدمات حاصل ہوجاتی ہیں نیز جج صاحبان کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔ اس لیےیہ بات ہمیشہ مستحضر رہنی چاہیے کہ قانون شریعت کی پاسداری زحمت نہیں بلکہ سراپا رحمت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 377022 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 120

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ