جس ماحول میں رہو گے ویسے بنو گے

(Ahmed Ali, karachi)
i am ahmed ali student from Bs political science at federal university

ایک بادشاہ اپنے بیٹی کے ساتھ صبح سویرے سیر کیلئے ندی کے کنارے ٹہل رہا ہوتا ہے اور باپ بیٹی ٹہلتے ٹہلتے دور نکل جاتے ہیں

اور وہاں پر ایک عجیب منظر دیکھتے ہیں کہ بھیڑیں چرانے والا جہاں سے بھیڑیں پانی پی رہی ہوتی ہیں وہیں سے خود بھی وہ میلا پانی پی رہا ہوتا ہے

بیٹی کہتی ہے ابا جان کیا اسے اتنا بھی نہیں پتا کہ یہ گندہ پانی ہے پینے کے قابل نہیں ہے پھر بھی وہ پی رہا ہے ایسا کیوں؟

تو باپ نے کہا بیٹی یہ سب ماحول کا اثر ہے بیٹی نہیں مانی نہیں بابا کوئی اور وجہ ہے خیر بادشاہ نے کہابیٹی ہم اس کا ماحول اگر بدل دیں تو اس کا زندگی گزارنے کا انداز بھی بدل جائے گا-

بادشاہ اُسے شخص کو اپنے گھر لے گیا اُسے اپنے محل میں رکھا اپنے ساتھ کھانا کھلایا اپنے طرح جینے کا سارا ماحول دیا-

کچھ عرصے بعد اُس شخص کا زندگی گزارنے کا انداز بدل گیا ایک دن صبح کو ناشتے کی ٹیبل پر بادشاہ نے چپکے سے اُس کے گلاس میں مٹی کا ایک چھوٹا سا ڈھیلا ڈال دیا جس سے پانی گدلا ہو گیا

؎اُس شخص نے جب یہ پانی دیکھا تو گلاس ایک سائیڈ پر رکھ دیا اور کہا میں اتنا گندا پانی نہیں پیوں گا تب بادشاہ نے بیٹی سے کہا بیٹی دیکھو یہ وہی شخص ہے
جو بھیڑوں کے ساتھ پانی پی رہا تھا اور آج اس کا ماحول بدلا تو اس کی زندگی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahmed Ali

Read More Articles by Ahmed Ali: 3 Articles with 775 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2020 Views: 295

Comments

آپ کی رائے